جمعرات , 23 نومبر 2017

مقبوضہ کشمیر میں جلوس عزا پر پابندی

(تحریر: سید اسد عباس)
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی ریاست، مختلف مذاہب، ثقافتوں، زبانوں اور قومیتوں کو قبول کرنے کی راگنی الاپنے والی بھارت کی سرکار نے گذشتہ ربع صدی سے زائد کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس برس بھی مقبوضہ کشمیر میں عاشورہ محرم الحرام کے جلوس پر پابندی بدستور قائم رکھی۔ جلوس کے لئے نکلنے والے عزادروں پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی بے تحاشا شیلنگ کی گئی۔ گذشتہ پچیس برسوں سے سرینگر شہر میں آٹھ اور دس محرم کو کرفیو کا سماں ہوتا ہے، پورے شہر کے راستوں کو خاردار تاروں اور رکاوٹوں سے بھر دیا جاتا ہے، اس کے باوجود نوجوان سینہ کوبی کرتے ریاستی جبر کے خلاف میدان عمل میں اترتے ہیں اور بھارتی سکیورٹی اداروں کی لاٹھیوں سے سر زخمی کروا کر امام عالی مقام کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دسیوں عزادار اسیران کربلا کی سنت ادا کرتے ہوئے بھارتی افواج کی حراست میں چلے جاتے ہیں، تاہم اپنے اس عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ امام عالی مقام کا پیغام آزادی و حریت آج بھی سینوں میں موجزن ہے اور کسی قسم کے ریاستی جبر و تشدد کی پروا کئے بغیر یہ سلسلہ تاقیام قیامت جاری و ساری رہے گا۔

مقبوضہ کشمیر میں آٹھ اور دس محرم کے عزاداری کے جلوس پر پابندی 1989ء میں بھارتی گورنر جگ موہن ملہوترا نے لگائی۔ 1989ء سے قبل وادی میں شہر کے مرکز اور لال چوک میں آٹھ اور دس محرم الحرام کے جلوس نکالے جاتے تھے۔ بھارتی ریاست اس پابندی کا بوجھ کشمیر کی مقامی حکومت پر ڈالتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی سرکار کو اس جلوس کے اندر چھپے امکانات کا بہت اچھی طرح سے اندازہ ہے۔ وہ جانتی ہے کہ شہر کے مرکز میں مسلمانوں کا اتنا بڑا آزادانہ اجتماع تحریک آزادی کشمیر کو تقویت دے گا اور تحریک آزادی کشمیر کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس جلوس میں شیعہ سنی ہم آہنگی کے بے پناہ امکانات ہیں، یہی سبب ہے کہ اس خالصتاً مذہبی جلوس کو ریاستی حکم نامے کے ذریعے روکا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس دوسری جانب اسی کشمیر میں امرناتھ یاترا کی اجازت ہے، جس میں تقریباً آدھا ملین کے قریب ہندو یاتری پورے ہندوستان سے پہلگام کے علاقے میں امرناتھ کی غار کی زیارت کے لئے آتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں قابض حکمران ان یاتریوں کو سہولیات مہیا کرتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو صدیوں سے جاری ان کے نبی رحمت کے نواسے کی عزاداری سے روکنا عالمی قوانین کے رو سے مذہبی آزادی کو چھیننے کی کوشش ہے، جس سے یقیناً مسلمانوں کے جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں۔ کاش بھارتی سرکار نے گاندھی، جواہر لال نہروں اور دیگر ہندو شعراء، دانشوروں کے امام حسین علیہ السلام اور واقعہ کربلا کے حوالے سے تاثرات کو پڑھا ہوتا تو انھیں اندازہ ہوتا کہ وہ اس مذہبی جلوس اور عزاداری سیدالشہداء کو روک کر اپنی ہی فہم و دانش کی نفی کر رہے ہیں۔ گاندھی کے الفاظ ’’اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسین کی عظیم قربانی سے پھیلا۔ میں نے حسین سے سیکھا کہ مظلوم ہوتے ہوئے کیسے فتح حاصل کی جاتی ہے۔‘‘ آج بھی بھارتی سرکار کو دعوت فکر دے رہے ہیں۔ بھارتی سرکار اسلام کے اس پہلو کے خلاف برسر پیکار ہے، جو گاندھی کے بقول کامیابی اور فتح کی درس گاہ ہے۔ ڈاکٹر راجندرہ پرساد کو ہی پڑھا ہوتا جو کہتے ہیں ’’حسین کی قربانی ایک ریاست یا قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔‘‘ آج اسی قربانی کی یاد کو روک کر بھارتی سرکار حسین کے خلاف کھڑی ہے اور راجندرہ پرساد کے بقول انسانیت کے درجے سے بھی گر چکی ہے۔ سوامی شنکر اچاریہ کہتے گئے کہ ’’یہ حسین کی قربانی ہے، جس نے اسلام کو زندہ رکھا، اگر یہ قربانی نہ ہوتی تو اسلام کا کوئی نام لیوا نہ ہوتا۔”

مسلمانوں کو حسین کے ذکر سے روک کر آج کی بھارتی سرکار نہ صرف اپنے بانیوں کے وژن اور افکار کی نفی کی مرتکب ہو رہی ہے بلکہ اس نے اپنے آپ کو ذکر حسین کے مخالفین کی صف میں بھی کھڑا کر لیا ہے۔ آج گاندھی، اچاریہ، راجندرہ، جواہر لال نہرو اور اسی قبیل کے دسیوں ہندو دانشوروں، سیاسی راہنماؤں، شعراء کے اقوال میں پنہاں پیغام کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ بقول اقبال انہیں معلوم تھا کہ

زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

تاہم بھارتی سرکار نے جانتے بوجھتے ہوئے اپنے آپ کو داغ حسرت بنا لیا اور قوت شبیری سے ٹکرانے کی جرات کر بیٹھے۔ اگر اپنے ہی مفکرین کو پڑھا اور سمجھا ہوتا تو انھیں یہ اندازہ ہوتا کہ ذکر حسین تو وہ شعلہ ہے، جو چودہ سو صدیوں سے دلوں میں روشن ہے۔ لاکھوں اس شعلے کو بھجانے کی آرزو دلوں میں لے کر آئے چلے گئے۔ غم شبیر انسانی آزادی اور حریت کا وہ روشن مینارہ ہے، جس کے سامنے کوئی باطل قوت خواہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو نہیں رک سکتی۔ بھارت کے بانیوں نے اگر اس حقیقت پر سے پردہ نہ اٹھایا ہوتا تو ہم کہتے کہ شاید بھارت سرکار انجانے میں یہ بے وقوفی کر رہی ہے، تاہم بانیان ریاست کے اعتراف کے بعد ایسے اقدامات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ وہ ارادے کے ساتھ اسلام کے اس حقیقی دفاع اور اس کی یاد سے ٹکرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نتیجہ تاریخ کی روشنی میں نہایت واضح ہے۔ حسین سے جو بھی ٹکرایا، چاہے یزید تھا یا بنو امیہ کا کوئی اور سرکش، بنو عباس کے ظالم حکمران تھے یا آج کا صدام خود مٹ گئے، تاہم نبی کے نواسے کا ذکر اب بھی زندہ ہے اور لوگوں میں زندگی بانٹ رہا ہے۔ آج عاشور اور اربعین حسینی کے کروڑوں کے اجتماعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حسین نیز حسینیت ہی اسلام کے دفاع کی اصل ضامن ہے اور اس سے ٹکرانے والا خواہ مسلمان ہو یا کوئی اور درحقیقت وہی باطل ہے اور اسے مٹ کر رہنا ہے۔ بھارتی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی تشدد، حق خودارادیت کی خلاف ورزی، جبر و ظلم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی حسینیت اور اس کا پیغام ایثار و قربانی ہے۔ گاندھی، سوامی اچاریہ اور دیگر ہندو دانشوروں نے بالکل درست سمجھا کہ حسین کی قربانی نے ہی اسلام کو زندہ رکھا۔ ڈاکٹر راجندرہ پرساد نے بھی درست طور پر حسین کے پیغام کو پوری انسانیت کی مشترکہ میراث قرار دیا۔ پس جب تک دلوں میں یاد حسین باقی ہے، قطعی طور پر ناممکن ہے کہ مسلمان نبی کا نام لیوا ظلم، جبر، بربریت کے سامنے سر تسلیم خم کر لے۔ آج نہیں تو کل ظلم کو اپنے لاؤ لشکر کو سمیٹ کر ایثار و قربانی کے سامنے ہار ماننی ہوگی۔ تلوار پر خون کی فتح یقینی ہے۔ گاندھی کا یہ جملہ کہ اسلام تلوار سے نہیں خون حسین سے پھیلا اپنی پوری سچائی کے ساتھ مقبوضہ وادی میں ظہور کرے گا۔ اس روز کشمیر کے ہزاروں شہداء کی قربانیاں ریاستی جبر پر بازی لے جائیں گی۔ بالیقین وہ دن دور نہیں۔ ان شاء اللہ ۔ بشکریہ:اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان