جمعرات , 23 نومبر 2017

یمن جنگ اور اسرائیلی مفادات

(تحریر: حسین آرمند)
حال ہی میں یمن کی تحریک انصاراللہ کے ترجمان اور یمن آرمی کے نائب ترجمان جنرل عزیز رشید نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن کے خلاف جارحیت میں سعودی عرب کی حمایت ترک کر دے ورنہ وہ ایریٹیریا میں موجود اس کی فوجی چھاونیوں نیز مقبوضہ فلسطین کے جنوب میں واقع اسرائیل کے زیر قبضہ سیاحتی جزیرے ایلات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ اسی طرح انہوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی کشتیوں کی آمد و رفت معطل کرنے کی دھمکی بھی دی۔ یمن کے سیاسی اور فوجی حکام سمجھتے ہیں کہ اسرائیل سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جانب سے یمن کے خلاف تھونپی گئی جنگ میں براہ راست حصہ لے رہا ہے اور بحیرہ احمر میں موجود اسرائیلی جنگی جہاز سعودی اتحاد کی بحری فوج سے مل کر یمن کے خلاف کاروائیاں انجام دیتے ہیں۔ یمنی حکام کے اس دعوے کے مطابق بحیرہ احمر میں سعودی عرب اور اریٹیریا کے بعض جزائر میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی نیوی موجود ہے۔

2011ء میں مصر، تیونس، لیبیا اور یمن جیسے بعض عرب ممالک میں اسلامی بیداری اور عوامی انقلابات کے سلسلے کا آغاز ہوا۔ یہ انقلابات ایسے غیر متوقع واقعات تھے جنہوں نے خطے کے اسٹریٹجک حقائق کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی میں جدید سکیورٹی صورتحال ایجاد کر ڈالی اور طاقت کا توازن بھی بگاڑ دیا۔ اسلامی بیداری کی تحریک، مشرق وسطی میں موجود جیوپولیٹیکل – سکیورٹی فضا کو جیوکلچرل فضا میں تبدیل کر کے اور سکیورٹی پر مبنی سیاست کو ثقافتی سیاست کی جانب موڑ کر (یعنی دین اسلام پر مبنی عرب معاشروں کے ثقافتی عناصر سے متاثر ہو کر عرب حکومتوں کے سیاسی نظریات میں تبدیلی ایجاد کر کے) خطے میں طاقت اور سکیورٹی کی مساوات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

لہذا اسرائیل ان اہم ترین ممالک میں سے ایک تھا جو ان سیاسی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوا اور گذشتہ چند سالوں میں انہیں اپنے سیاسی مفادات کے حق میں سمت و سو دینے کی بھرپور کوشش میں مصروف رہا۔ درحقیقت ایک طرف خطے میں اسرائیل کی اہم ترین اتحادی حکومتوں جیسے سابق مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی سرنگونی اور دوسری طرف ان کی جگہ اسرائیل مخالف فلسطینیوں کے حقوق کی حامی انقلابی حکومتوں کے برسراقتدار آنے کے امکان نے اسرائیلی اسٹریٹجسٹس کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں اور وہ عرب ممالک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں منصوبے بنانے لگے۔ اسرائیل کیلئے انہیں اہم عرب ممالک میں سے ایک یمن کا ملک ہے۔ یمن سے متعلق اسرائیل کیلئے درج ذیل ایشوز انتہائی اہم ہیں:

باب المندب پر قبضہ
آبنائے باب المندب کئی لحاظ سے اسرائیل کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ اسرائیل نے اس آبنائے پر اپنے دشمنوں کا قابض نہ ہونے کو اپنی دفاعی اور سکیورٹی اسٹریٹجی کی بنیاد قرار دے رکھا ہے۔ اسرائیل کی نظر میں آبنائے باب المندب کی شدید اہمیت کا سبب اس آبنائے کا جغرافیائی محل وقوع اور اس کے ذریعے اسرائیل کی قومی سلامتی کو درپیش ممکنہ خطرات ہے۔ پہلے اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے 1949ء میں بحیرہ احمر پر تسلط پر مبنی اسرائیلی اہداف کے بارے میں کہا تھا:
"ہماری تمام زمینی سرحدیں مکمل محاصرے میں ہیں اور دنیا اور دیگر براعظموں میں آمد و رفت کیلئے ہمارے پاس صرف سمندری راستہ موجود ہے۔”

اسرائیل، لبنان اور شام کو اپنے دشمن ممالک تصور کرتا ہے لہذا دونوں ممالک سے مشترکہ سرحد کے دونوں اطراف اقوام متحدہ کی امن فورس موجود ہے۔ صرف اردن ایسا ہمسایہ ملک ہے جس سے اسرائیل کا زمینی رابطہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی چوکی موجود ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیل اردن سے آگے نہ تو تجارت کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کے شہری سفر کر سکتے ہیں کیونکہ اردن کے تمام ہمسایہ ممالک نے اسرائیل سے ہر قسم کا تعاون ممنوعہ قرار دے رکھا ہے۔ اسرائیلی حکام ہمیشہ سے سمندری راستوں خاص طور پر آبنائے پر عرب ممالک کے تسلط اور نتیجتاً اپنی آمد و رفت محدود ہونے پر شدید پریشان رہے ہیں۔

1950ء میں مصر سعودی عرب کے تعاون سے بحیرہ احمر پر تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس سال مصر کی مسلح افواج نے عقبہ کی خلیج کے دروازے اور دو جزیروں تیران اور صنافیر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا جس کے نتیجے میں اسرائیلی کشتیوں کی آمد و رفت تعطل کا شکار ہو گئی۔ 1956ء میں مصر پر اسرائیلی حملے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ 6 اکتوبر 1973ء کی جنگ میں بھی یمن آرمی نے آبنائے باب المندب کا کنٹرول مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ لہذا اسرائیل کیلئے آبنائے باب المندب کی اہمیت کی ایک وجہ اس بات کا خوف ہے کہ کہیں یمن کی انقلابی قوتیں اس آبنائے پر دوبارہ قبضہ کر کے وہاں سے اسرائیلی کشتیوں کی آمد و رفت دوبارہ بند نہ کر دیں کیونکہ اس طرح اسرائیل سمندری محاصرے کا شکار ہو جائے گا۔

اگرچہ سعودی عرب اور مصر جیسے بڑے عرب ممالک کئی عشروں سے مغربی طاقتوں کے دباو اور مغربی میڈیا کی جانب سے ایران فوبیا پر مبنی جھوٹے پروپیگنڈے کے نتیجے میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں اور اسرائیل سے سازباز کا راستہ اپنا چکے ہیں اور ان کی جانب سے کم از کم موجودہ دور میں اسرائیل کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود اسلامی بیداری کی تحریک کے نتیجے میں خطے میں ابھر کر سامنے آنے والی نئی اسلامی قوتوں سے اسرائیل شدید خوفزدہ ہے جن میں سے ایک انصاراللہ یمن تحریک ہے۔

اسرائیل کیلئے آبنائے باب المندب کی اہمیت کا دوسرا پہلو اس آبنائے کا دنیا کے ساتھ اسرائیلی تجارت کا اصلی راستہ ہونا ہے۔ اسرائیلی معیشت کا بڑا حصہ اس کی سمندری تجارت پر منحصر ہے جو زیادہ تر بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ اسرائیلی درآمدات اور برآمدات کا بڑا حصہ اسی سمندری تجارت کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی کشتیوں کیلئے اس راستے کا پرامن ہونا اسرائیل کیلئے شدید اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری طرف یمن افریقہ کے سینگ اور صومالیہ اور جبوٹی جیسے ممالک کے بالکل سامے واقع ہے اور آبنائے باب المندب کی اہمیت کے باعث یہ علاقہ دہشت گرد عناصر کے گڑھ میں تبدیل ہو چکا ہے جنہوں نے کشتیاں اغوا کرنا اور تاوان وصول کرنا اپنا معمول بنا رکھا ہے۔

مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اسرائیل نے آبنائے باب المندب پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی مستقل پالیسی بنا رکھی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے اسرائیل نے اس علاقے میں ایک فوجی اڈہ بھی قائم کر رکھا ہے جو آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے اور اسے بحیرہ احمر میں سعودی عرب، یمن، سوڈان اور صومالیہ کی بندرگاہوں کے ذریعے خام تیل کے حامل بحری جہازوں اور تجارتی کشتیوں کی آمد و رفت پر نظر رکھنے کا کام سونپا گیا ہے۔ اسی طرح اسرائیل نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع افریقی ممالک جیسے تنزانیہ، اریٹیریا اور کینیا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور مالی امداد کے ذریعے اقتصادی اور سیاسی اثرورسوخ قائم کر رکھا ہے۔ اسرائیل نے اریٹیریا کی بندرگاہ مصوع پر اپنا ایک فوجی اڈہ بھی قائم کر رکھا ہے۔

بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک میں اسرائیل کے اہم ترین فوجی اڈوں میں سے دو رواجیات اور مک ہلاوی ہیں جو سوڈان کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ اسی طرح اسرائیل نے آبنائے باب المندب کے جنوب میں واقع اریٹیریا کے بعض اسٹریٹجک جزیرے کرائے پر لے رکھے ہیں جن میں سے اہم ترین جزیرہ "دہلک” ہے جہاں اسرائیل نے فوجی اڈہ بھی قائم کر رکھا ہے۔ مزید برآں، اسرائیل نے بحیرہ احمر خاص طور پر آبنائے باب المندب سے اپنی کشتیوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کیلئے اس آبنائے کے قریب واقع جزائر "حالب” اور "فاطمہ” میں ایئرفورس بیسز بھی بنا رکھے ہیں۔

اسی طرح "بریم” جزیرہ بھی اسرائیل کے کنٹرول میں ہے جہاں سے تجارتی اور جنگی کشتیوں کی آمد و رفت پر نظر رکھی جاتی ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد اسرائیل کی جانب سے آبنائے باب المندب اور اس کے قریب واقع یمن کے علاقے "المخا” پر براہ راست کنٹرول برقرار رکھنا ہے۔ 1995ء میں یمن اور اریٹیریا کے درمیان بحیرہ احمر میں واقع اسٹریٹجک جزائر "ہنیش” پر جنگ واقع ہوئی۔ یمنی حکام اس وقت بھی یہ سمجھتے تھے کہ اسرائیل ان کے خلاف جنگ میں شریک ہے۔ یمنی حکام کا دعوی تھا کہ اسرائیل بحیرہ احمر کے جزائر میں اپنے فوجی اڈوں کے قیام کے بدلے اریٹیریا کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان مہیا کر رہا ہے لیکن اسرائیلی حکام نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔

خطے میں اسرائیل کے اصلی مفادات میں سے ایک مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اپنے فوجی برتری برقرار رکھنا ہے۔ اسی مقصد کی خاطر اسرائیل نے 1981ء میں عراق کی جوہری تنصیبات کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ دیگر اسرائیلی اقدامات میں لیبیا کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ اور ایران کو جوہری ٹیکنولوجی کے حصول سے روکنے کی کوششیں شامل ہیں۔ یمن میں اسلامی بیداری کی تحریک کے آغاز سے یہ امکان پیدا ہو گیا کہ یہ ملک حکومتی اداروں میں موجود کرپشن کے خاتمے اور خودمختار سیاسی پالیسیوں کے اتخاذ کے ذریعے وسیع پیمانے پر انسانی اور قدرتی وسائل کا حامل ہونے کے ناطے تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرے گا۔ ایک مستحکم، پائیدار اور خودمختار یمن کا نتیجہ آبنائے باب المندب پر اسرائیلی کنٹرول کے خاتمے کی صورت میں نکل سکتا تھا لہذا اس نے یمن کے خلاف سازشوں کا آغاز کر دیا۔

یمن کے وسیع قدرتی ذخائر
یمن پر اسرائیلی توجہ کا ایک اور اہم سبب اس ملک میں موجود وسیع قدرتی ذخائر ہیں۔ یمن خطے کا فقیر ترین ملک ہے جس کے باعث اس کے قدرتی ذخائر جوں کے توں پڑے ہیں اور انہیں استعمال نہیں کیا گیا۔ یمن کے شمال میں خام تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں جبکہ بحیرہ احمر میں اس کی سمندری حدود بھی گیس اور تیل کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔ لہذا اسرائیل یمن میں جاری جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتا اور اس ملک میں بحرانی صورتحال کے تسلسل ہی میں اپنا فائدہ دیکھتا ہے۔
بشکریہ:اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان