جمعرات , 23 نومبر 2017

حامد کرزئی کے امریکہ پراعتراضات میں وزن ہے

(سرتاج خان)
اس نے ایک عرصہ تک امریکی صدوراوراعلی حکام سے لے کرمختلف امریکی کمانڈروں اور اداروں کے ساتھ کام کیا۔ اس لئے حامدکرزئی کے الزامات کی بہت اہمیت ہے۔ حامدکرزئی نے پہلے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کوتنقید کانشانہ بنایاتھا۔ اب انہوں نے روسی ٹی کودیے گئے ایک انٹریومیں سوال اٹھایا کہ امریکہ کے ہوتے ہوئے افغانستان میں داعش کیسے وجودمیں آئی؟ انہوں نے یہاں تک کہاکہ امریکہ، داعش کی پشت پناہی کررہاہے اورامریکی ہیلی کاپٹروں سے داعش کی مدد کی جاتی ہے، امریکہ باقاعدہ اسلامی شدت پسندوں کواسلحہ فراہم کررہاہے۔ اسی پس منظرکوسامنے رکھتے ہوئے حامد کرزئی نے کہاکہ امریکہ توافغانستان میں اسلامی شدت پسندوں کوشکست دینے اورامن واستحکام قائم کرنے آیاتھالیکن ماضی کے مقابلے میں زیادہ دہشت گردی کیوں ہے؟ حامد کرزئی کاخیال ہے کہ امریکہ نے طالبان کوکمزورکرنے کے لئے داعش کوپروان چڑھایاہے۔ دراصل امریکہ نے پاکستان کے سرحدی پٹی میں طالبان کازورتوڑنے کے لئے داعش کی تنظیم کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شام کی جنگ میں کچھ شدت پسندتنظیموں کوامریکہ نے سپورٹ کیا اوراسی میں اس کے اسلامی شدت پسندوں کے کئی دھڑوں سے تعلقات بحال ہوگئے۔ اب کئی اسلامی تنظیموں سے اس کے رابطے ہیں۔ امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک طالبان پرپاکستان کااثرہے، حقانی نیٹ ورک اورطالبان کے محفوظ ٹھکانے پاکستان کے فاٹاکے علاقے میں ہیں اور پاکستان کی پشت پناہی اورمدد سے یہ امریکہ اورافغان حکومت کے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں۔ امریکہ اس کاتوڑ داعش کے ذریعے کررہاہے۔ یوں ایک شدت پسنداسلامی تنظیم کا توڑاس سے بھی زیادہ شدت پسند تنظیم کوسپورٹ کرکے کیاجارہاہے۔

افغانستان میں داعش کے ابھارمیں کئی ایک عوامل کارفرماہیں۔ اس میں سب سے اہم القاعدہ کی کمزوری ہے۔ ایک اہم عنصرداعش کاشام وعراق کے کچھ حصوں میں دولت اسلامیہ کے نام سے مملکت کاقیام تھاجس نے افغان اورپاکستانی طالبان کے کئی دھڑوں کومتاثرکیا۔ اس کے علاوہ طالبان کے اندرملاعمرکی وفات کے بعد رونما ہونے والے اختلافات ہیں۔ امریکہ ان سے فائدہ اٹھاناچاہتاہے۔ داعش کوسپورٹ کرنے کامطلب اسلامی تنظیموں میں بڑھتی ہوئی تقسیم اوراختلافات کوپروان چڑھاکران میں تقسیم کومزیدگہراکرکے ہی امریکہ ایک مشترکہ طاقت کوتوڑسکتاہے۔ طالبان اورداعش کے درمیان سرحدی پٹی خاص کرننگرہارمیں شدیدترین جھڑپیں اورقتل عام ہوا۔ لیکن اس سے ملک کی مجموعی صورتحال بہتری کے بجائے ابتری کی طرف جارہے ہیں کیونکہ داعش شیعہ اقلیتوں کے خلاف ہے اورقتل وغارت گری میں مصروف ہے۔ طالبان سے لڑائی کے ساتھ یہ افغان افواج سے بھی لڑتی ہے۔ اس طرح تضادات مزید شدیدہورہے ہیں اورملک میں خانہ جنگی بڑھ رہی ہے۔ امریکہ سمجھتاہے کہ اس سے کسی حدتک نیٹواورامریکی افواج کی بچت کی راہ نکل آئے گی۔ مگربظاہرایساہوتادکھائی نہیں دیتا اوریہی امریکی پالیسی سازوں اورافغان حکومت کے لئے پریشان کن ہے کہ کوئی طریقہ کارموثرہوتادکھائی نہیں دیتا۔

اس صورتحال کے پس منظرمیں جب حامد کرزئی امریکہ پرالزامات کی بوچھاڑکرتاہے تواس میں وزن پیدا ہوتاہے۔ حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات زیربحث لانی چاہیے کیونکہ ہمیں یہ سوالات پوچھنے کا حق ہے اور امریکی حکومت کو اس کے جوابات ضرور دینے چاہییں۔

حامدکرزئی نے ملک میں شدت پسندی کے اضافہ پرامریکہ سے تلخ سوالات کئے ہیں۔ اس کی وجوہات کی طرف حامدکرزئی نے خوداشارہ کیاہے کہ بمباری، قتل وغارت گری، جیلیں بھرنااورافغانوں کوہراساں کرنے کی امریکی حکمت عملی کارگراورموثرثابت نہ ہوئی اوراس کاالٹااثرہوا کیونکہ شدت پسند مضبوط ہورہے ہیں۔ حامد کرزئی نے سوال کیاکہ گذشتہ چند سالوں میں دولت اسلامیہ افغانستان میں نمودار ہوئی ہے اور امریکہ کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے یہ سب کیسے ہوا؟
حامد کرزئی نے دعویٰ کیا کہ روزانہ کی بنیاد پر افغان باشندے اور حکومتی ارکان ملاقات کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ امریکا خود افغانستان میں داعش کو اسلحہ اور ہیلی کاپٹرز فراہم کر رہا ہے۔ میرے پاس لوگ آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کیسے کسی نشان کے بغیر ہیلی کاپٹر اسلحے سمیت روزانہ اڑتے ہیں اور ایسا کسی مخصوص علاقے میں نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ پورے افغانستان میں کیا جا رہا ہے۔ حامد کرزئی کے مطابق اس سے امریکی اورافغان حکومت کی علمداری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔افغانستان میں جوکچھ ہورہاہے وہ ثبوت ہے اورغلط کام کرنے کے بنیادی ثبوت پرہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس نے افغان حکومت کے شدت پسند اسلامی تنظیموں جیسے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی۔ اس کے خیال میں طالبان دھرتی کے بیٹے ہیں اورطالبان سمیت سب کے ساتھ بات چیت اورتبادلہ خیال کے بعد افغانستان کسی بہتری کی طرف گامزن ہوسکتاہے۔ اس سے پہلے افغان حکومت نے حزب اسلامی کے کمانڈرگلبدین حکمت یارکومرکزی دھارے کی سیاست میں لانے کے لئے معاہدہ کیاتھا جس کے تحت اس نے جنگ بندی کااعلان کیااورحکومت کی طرف سے اسے عام معافی دی گئی۔ اس سے ایک طرف افغانستان میں پشتون بطور تھنک گروپ مضبوط ہوااوردوسری طرف وارلارڈزپرانحصارختم کرنے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے ازبک ملیشیاء کے کمانڈراورنائب صدررشید دوستم سے نجات حاصل کی گئی۔ اشرف غنی کی حکومت وارلارڈزپرانحصارکرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے لیکن یہ کوئی آسان عمل بھی نہیں کیونکہ ان کامتبادل پیداکرنا ایک بہت دشوار کام ہے۔

حامدکرزئی نے پاکستان سمیت دیگرپڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کواہم گرداناجبکہ امریکی حکومت پاکستان کے خلاف شدیدترین اقدامات کی طرف گامزن ہے۔ امریکہ کاخیال ہے کہ پاکستان پرجنگی اوراقتصادی دباؤبڑھاکراورداعش کے ابھارسے فائدہ اٹھایاجاسکتاہے۔ اگرپاکستانی ریاست امریکی دباؤمیں کچھ اقدامات کوناگزیرخیال کرتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دیتاہے اورطالبان اورحقانی نیٹ ورک پرڈرون حملوں کادائرہ وسیع اوراس میں اضافہ کرنے کے ساتھ اسلامی تنظیموں میں تقسیم بڑھ جاتی ہے توامریکہ کے نزدیک یہ ایک بہترحکمت عملی ہوسکتی ہے۔

افغان خانہ جنگی میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ امریکی نے مزیدتین ہزارکے لگ بھگ افواج بھیجنے کافیصلہ کیاہے۔ امریکی حکومت اب جنگ کے ذریعے سے افغان تنازعہ کی حل کی طرف بڑھاہے۔ ایسے میں امریکی حکومتی حلقوں اورافغان حکومت کے درمیان تقسیم اس کوبڑھاوادے رہاہے۔ افغانستان میں نہ ہی امریکہ اورافغان حکومت کے درمیان معاملات میں یکسوئی پائی جاتی ہے اورنہ اس کے مخالفین داعش اورطالبان میں کوئی مشترکہ محاذ قائم ہے۔ اس طرح ایک بہت ہی متضادات صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ بشکریہ: شفقنا

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان