جمعرات , 23 نومبر 2017

شاہ سلمان کے دورہ روس کے مضمرات

(عاطف محمود)
ائرپورٹ پر اترتے وقت جہاں شاہ سلمان کے جبے کے برقی زینے میں اٹک جانے کو عالمی میڈیا نے ناخوشگوار واقعہ قرار دیا ،وہیں استقبال کےموقع پر روسی صدر کی عدم موجودگی پر سعودی عوام نے سوشل میڈیا پرغم و غصے کا اظہار کیا۔عوام توقع کر رہے تھے کہ پہلی مرتبہ خادم الحرمین کے تاریخی دورے پر صدر پیوٹن استقبال کرنے کے لیے خود آئیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔لیکن اس وقت سعودی عوام کا غصہ خوشی میں تبدیل ہو گیا جب انہوں نے دیکھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے شاہ سلمان کے لیے خود چائے ڈال کر پیش کی اور اس طرح روسی صدر سعودی عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

جہاد افغانستان سے لے کر شام کی لڑائی تک سعودی عرب روس مخالف کیمپ میں رہا ہے اور اس وقت بھی شام میں سعودی عرب اپوزیشن کی کھل کر حمایت کر رہا ہے۔ایسے میں سعودی فرمانروا کا دورہ روس واقعی تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ دورہ تیل کی مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے سعودی عرب کی کوششوں اور روس کو ایران سے سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے کے ضمن میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس سے قبل2007 میں روسی صدر پیوٹن نے مشرق وسطیٰ کے انتہائی اہمیت کے حامل ملک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کےلیے سعودی عرب کا پہلا دورہ کیا تھا اور اس وقت کے کنگ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی،بعد ازاں2015 میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی روس کا دورہ کر کے روابط کا آغاز کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔شاہ سلمان اس دورے میں اپنے ساتھ تاجروں کے ایک بڑے وفد کو بھی ساتھ لے کر گئے ،جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب روس کے ساتھ تجارتی مراسم بڑھانا چاہتا ہے ۔کریملین میں ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نےدفاع سمیت اربوں ڈالر کے دس معاہدوں پر دستخط کیے جن میں S-400 طرز کے طیارے بھی شامل ہیں۔اس معاہدے سے سعودی عرب کی اسلحہ خریدنے کی پالیسی میں تبدیلی بھی نمایاں ہوتی ہے کیونکہ اس سے قبل سعودی عرب اسلحہ خریدنے میں بنیادی طور پر امریکہ اور برطانیہ پر ہی انحصار کرتا تھا۔

سوال یہ ہے کہ سعودی عرب جدید ہتھیار خریدنے میں اس قدر دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟اس کی ایک وجہ تو بڑی واضح ہے کہ وہ مشرق وسطی میں ایران کے بڑھتے ہوئے کردار کو کم کرنا چاہتا ہے،سعودی عرب یہ سمجھتا ہے کہ ایران ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے، وہ شمال میں عراق اور شام تک اپنے اثر ورسوخ کو توسیع دے چکا ہے اور جنوب میں یمن کی سرحد کی جانب سے بھی سعودی عرب کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔مصر میں مرسی حکومت کے خاتمے میں مدد کرنے کے پیچھے بھی اخوان ایران قرب کا خدشہ تھا اور اب اسلامی فوجی اتحاد کا مقصد بھی صرف ایران کو انکھیں دکھانا ہی ہے۔

اسلحہ میں دلچسپی کی دوسری وجہ جو سعودی عرب کو ماسکولے گئی، یہ ہے کہ امریکہ اس کے دفاع کے وعدے سے پیچھے ہٹ رہا تھا، سابق صدر باراک اوباما نے اپنے دور حکومت میں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ” سعودی عرب کی سکیورٹی امریکا کی سکیورٹی کا حصہ ہے” کا تصور اب امریکہ کے مفاد میں نہیں رہا۔اس کے بعد سعودی کمان کے پاس ایک ہی راستہ رہ گیا تھا اور وہ یہ کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرے۔ایسا قطعا نہیں ہے کہ ریاض واشنگٹن سے دوری اختیار کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی واشنگٹن کو ریاض ماسکو قربت پر کوئی تحفظات ہیں لیکن امریکا کے بعض ریاستی ادارے اور کانگریس کے بعض ارکان سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور وہ اس پر یمن میں شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتےرہتےہیں۔ایسے میں اس بات کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں کسی قراداد کے نتیجے میں امریکہ سعودی عرب کو اسلحے کی ترسیل بند کر دےیا آیندہ کسی جنگ میں اپنے ہتھیار استعمال کرنے سے ہی روک دے۔اگر اس قسم کی صورتحال پیش آجاتی ہے تو پھر سعودی عرب کے پاس نئی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا راستہ ہو گا؟ اسی خدشے کے پیش نظر سعودی عرب نے روس کا رخ کیا ہے اور جلد ہی سعودی فرمانروا یا ولی عہد چین کا دورہ بھی کریں گے تاکہ سعودی عرب کا امریکہ پر انحصار کم ہو سکے۔

خطے کی صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش خطرات کے پیش نظر سعودی حکومت کی جدید اسلحے میں دلچسپی کوئی اچنبھے کی بات نہیں تاہم اس کے ساتھ ساتھ اسے عسکری اداروں کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرنا ہوگا،اسلحے کی اس پالیسی سے متعلق اہم بات یہ ہے کہ ریاست پر بوجھ نہ بنا جائے اور عام شہریوں کے لیے روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جائے۔اس دورے میں اگرچہ تیل و گیس کے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور معاشی تعلقات کے فروغ پر بات چیت ہوئی تاہم مستقبل میں سیاسی تنازعات کے حل کے لیے بھی دونوں ملک مل کر کام کرنے کے خواہاں ہوں گے۔ بشکریہ: شفقنا

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان

ٹرمپ کا لاڈلہ سعودی شہزادہ بن سلمان