جمعرات , 23 نومبر 2017

کردستان میں ریفرنڈم عراق کی خود مختاری کے لیے خطرہ ہے: مشرق وسطیٰ کے ماہر

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ امور کے ایک برطانوی ماہر زید العیسیٰ نے کہا کہ عراقی علاقے کردستان کے حکام کی جانب سے ریفرنڈم کے انعقاد کے یکطرفہ فیصلے سے خطے میں بدامنی کی نئی لہر پیدا ہوگی جس کی وجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ بھی مشکل میں پڑ جائے گی۔انہوں نے کہا کردستان میں ریفرنڈم کا انعقاد عراق کی خود مختاری اور ارضی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نےکہا کہ کرد حکام کے غیر آئینی اقدام کے بعد حکومت بغدادنے کرکوک میں فوجی آپریشن شروع کرکے ایک درست فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا اس فیصلے کا اصل مقصد اس اہم صوبے میں امن جسے مسعود برزانی نے درہم برہم کیاکو بحال کرنا تھا۔

ادھر عراقی کردستان کی مقامی پارلیمنٹ کے سربراہ نے اس علاقے کے سربراہ مسعود بارزانی کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

یوسف محمد نے تاکید کے ساتھ کہا کہ کردستان کے علاقے کی سربراہی سے مسعود بارزانی کا استعفی اس علاقے کے عوام کے لئے سب سے بڑی خدمت کے مترادف ہو گا۔

قابل ذکر ہے کہ عراقی کردستان کی مختلف جماعتوں، دھڑوں اور شخصیات کی جانب سے غیرقانونی ریفرنڈم کے انعقاد کی وجہ سے بارہا تنقید کی جاتی رہی ہے اور کردستان کے علاقے کی رائے عامہ بھی اس ریفرنڈم کے انعقاد کے منفی نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے منگل کے روز بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کرد رہنماؤں کو بتا دیا گیا ہے کہ ریفرنڈم سے سب سے زیادہ نقصان خود کردوں کے مفادات کو ہو گا۔انہوں نے خانہ جنگی کو مسترد کرتے ہوئے کردستان کے حکام کو دعوت دی کہ وہ عراق کے بنیادی آئین کے مطابق مذاکرات کریں۔

حیدر العبادی نے عراقی کردستان میں تین علاقوں کے قیام کے بارے میں کسی بھی قسم کے سمجھوتے یا مفاہمت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عراق کے تمام علاقوں کو متحد رکھے۔

یہ بھی دیکھیں

شام میں قیام امن کے بارے میں ایران ، روس اور ترکی کے فوجی سربراہان کی ملاقات اور گفتگو

ترک فوج کے چیف آف اسٹاف کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان ...