جمعرات , 23 نومبر 2017

اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش : 14 اکتوبر 1906
جائے پیدائش : المحمودیہ ، صوبہ البحیرہ ، مصر
شہادت : 12فروری 1949ء
جائے شہادت : مصری دار الحکومت قاہرہ
والد : احمد عبد الرحمٰن البنا الساعاتی
شریک حیات : لطیفہ حسین الشولی
بچے : 8( 2بیٹے 4 بیٹیاں )

ابتدائی تعارف :
حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي مصر کے ممتاز مذہبی رہنما اور اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی تھے۔ 1923 میں تصوف کے شاذلی طریقہ سے منسوب ہوئے اور شيخ عبد الوہاب حصافي کی خدمت میں تکمیل کی، اسی لیے حسن البنا کی شخصیت سازی میں شيخ عبد الوہاب حصافي کا بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1927 میں دار العلوم (مصر) سے فارغ ہوئے، اور شہر اسماعیلیہ میں مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 1928 میں اخوان المسلمون کا قیام عمل میں آیا۔ 1949 میں حسن البنا ایک بھرپور تحریکی زندگی گذارنے کے بعد 43 سال کی عمر میں قاہرہ میں گولی مار کر شہید کر دیے گئے۔

پیدائش:
وہ 1906ء میں مصر کی بستی محمودیہ کے ایک علم دوست اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔

تعلیم:
انہوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کرلیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ قاہرہ کے دارالعلوم میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں سند حاصل کی۔

اخوان المسلمون کا قیام:
دیہاتی علاقوں کی نسبت شہروں میں اخلاقی انحطاط زیادہ ہوتا ہے، قاہرہ کی بھی یہی صورت تھی۔ حسن البنا جب اپنے قصبہ سے قاہرہ پہنچے تو ان کی حساس طبیعت پر شہر کے غیر اسلامی رحجانات نے گہرا اثر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جارہا ہے اور فرعون کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ علماء اگرچہ غیر اسلامی نظریات کے خلاف وعظ و نصیحت تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی تحریک موجود نہیں تو انہوں نے 1928ء میں شہر اسماعیلیہ میں، جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہوگئے تھے، اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ 1933ء میں اخوان کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کردیا گیا۔

تحریکی زندگی:
حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کردیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم کردی گئیں۔ طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے "اخوات المسلمین” کے نام سے علاحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اخوان نے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔

مطالبہ نفاذِ قوانین اسلامی:
حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جارہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ حسن البنا نے مصریوں میں جہاد کی روح بھی پھونکی اور اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا ۔

اخوان اور ذرائع ابلاغ:
اخوان نے اخبار اور رسالوں کی طرف بھی توجہ دی۔ 1935ء میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے "المنار” کی ادارت سنبھال لی۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔ روزنامہ اخوان المسلمون مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پر زور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کرسکتا ہے۔

اخوان اور دور ابتلاء:
دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت مشرق کے بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی لیکن اخوان کا سب سے مضبوط مرکز مصر ہی تھا۔ جنگ کے بعد اخوان نے عوامی پیمانے پر سیاسی مسائل میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 1948ء میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا، اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمدردوں کی تعداد اس سے دو گنی تھی۔ اخوان کی روز بروز مقبولیت سےایک طرف شاہ فاروق اول کو خطرہ محسوس ہونے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ 9 دسمبر 1948ء کو مصری کے وزیر اعظم نقراشی پاشا نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جسے پوری طرح عمل میں لاگیا ۔

شہادت :
28 دسمبر 1948ء میں نقراشی پاشا کو قتل کیا گیا اور حکومت اس قتل کا ذمہ دار اخوان المسلون ٹہراتے ہوئے انتقامی کارروائی کا منصوبہ بنایا ، حسن البنا کو آخر تک گرفتارنہی کیا گیا اور بالآخر 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔

حسن البنا مرنے سے قبل اپنے قاتھ کی گاڑی کا نمبر نوٹ کرچکے تھے اور اپنے ساتہیوں کو بتیا تھا کہ قاتک کی گاڑی کا نمبر 9979 ہے ۔حسن البنا کے قتل کے مقدمے کی تفتیش میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ 9979نمبر پلیٹ کی گاڑی ’’ سی آئی دی ‘‘ جنرل ڈائیریکٹر محمود عبد المجید کی ہے جو وزارت داخلہ کے ما تحت ہیں ۔

جنازہ اور تدفین :
حسن البنا کے والد اپنے بیٹے کے جنازہ اور تدفین کے بارے میں کہتے ہیں ’’ مجھے جب اپنے بیٹے کی موت کی اطلاعات دی گئی تو حکام نےمجھے نعش دینے کیلئے ایک شرط رکھی کہ میں اپنے بیٹے کی تدفین صبح کے وقت بغیر کسی کے موجودگی میں کردون ، اور اگر میں یہ شرط نہی مانتا تو وہ میرے بیٹے خود ہی دفن کرلینگے ۔ چنانچہ اپنے بیٹے کا آخری دیدار کرنے کیلئے میں نے حکام شرط مان لی ،اور فجر کے وقت بھاری پولیس نفری میں میرے لخت جگر کی نعش کو گھر کڑی نگرانی کا ساتھ لایا گیا ، میرے سواکسی کو اجازت نہی تھی کہ وہ نعش کے قریب جائے ، بیٹے کی غسل اور تکفین کے بعد مسئلہ یہ پیش آیا کہ میری ساتھ بیٹے کا جنازہ کون اٹھائیگا ، لہذا میں نے پاس کھڑے آفیسر سے درخواست کی کہ کچہ افراد کو میرے ساتھ جنازہ اٹھانے کی اجازت دی جائےکیوں کہ گھر پر میرے سوا کوئی دوسرا مرد موجود نہیں صرف خواتین ہیں ۔آفیسر نے میری گزارش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنازہ خواتین ہی اٹھائیں ۔

پس پھر جنازہ خواتین کی کاندہوں پر ہی نکالا اور قبرستان جانے والے راستے پر پولیس کی بھاری نفری متعین تھی جو کسی بھی شخص کو آگے نہی آنے دے رہے تھے ۔ جب جنازہ مسجد پھنچا تو مسجد بلکل خالی تھی کیوں کہ پولیس والوں پھلے سے ہی مسجد خالی کرادی تھی ، اور یوں میںنے خود اپنے بیٹے کی نماز جنازہ پڑہی اور پھر تدفین کی ۔گھر لوٹنے پر کسی بھی شخص کو اجازت نھی تھی کہ ہمارے گھر آکر افسوس کرے جو کوئی آنے کی کوشش کرتا حکام اسےگرفتار کرلیتے ‘‘

یہ بھی دیکھیں

ابوبکر البغدادی کہاں ہوسکتا ہے؟ بعض فرضیے اور امکانات

(تسنیم خیالی) عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کا خاتمہ قریب ہو چکا ...