منگل , 9 مارچ 2021

واٹس ایپ میسجنگ ایپ سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے

watsapp-680x360

اسلام آباد :اگرآپ موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور خاص طور پر اگر سمارٹ فون کے مالک ہیں، تو لازمی طور آپ وٹس ایپ کے صارف بھی ہوں گے۔ وٹس ایپ نے ایک کراس پلیٹ فارم میسجنگ سروس کی حیثیت سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور تقریباً ہر موبائل پلیٹ فارم پر دستیاب ہونے کی وجہ سے یہ آج ہر موبائل صارف کی ضرورت بن گئی ہے۔

وٹس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے صرف انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے آپ کسی بھی وٹس ایپ صارف کے ساتھ ٹیکسٹ میسج، تصاویر، وڈیوز اور وائس کال کا فوری تبادلہ کرسکتے ہیں۔ یہاں ہم اس انتہائی مقبول انسٹنٹ میسجنگ سروس کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق بیان کرتے ہیں۔ وٹس ایپ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ ایپ ہے۔ دو سال قبل فروری 2014ءمیں وٹس ایپ کی مقبولیت کی وجہ سے فیس بک نے اس کو 19ارب ڈالر کی ناقابل یقین قیمت میں خرید لیا تھا۔وٹس ایپ کی فروخت ٹیکنالوجی کی دنیا کی آج تک کی سب سے مہنگی قیمت میں ہوئی ہے۔ وٹس ایپ کے فعال صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی دنیا میں ہر7میں سے ایک آدمی کے پاس وٹس ایپ کا اکاﺅنٹ موجود ہے۔ ایک سال پہلے کمپنی نے 50 کروڑ صارفین حاصل کرنے کا سنگ میل عبور کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف ایک سال میں وٹس ایپ پر 50 کروڑ افراد نے اکاﺅنٹ بنایا۔وٹس ایپ کے مطابق اس ایپلی کیشن کے صارفین روزانہ 42 ارب میسجز کا تبادلہ کرتے ہیں یہی نہیں بلکہ وٹس ایپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہر 24 گھنٹوں میں ڈھائی کروڑ وڈیوز بھی ایک دوسرے سے شیئر کی جاتی ہیں۔

بالکل مفت سروس وٹس ایپ کی خاص بات یہ ہے کہ اب یہ سروس بالکل مفت دستیاب ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس سروس کی فیس صرف ایک ڈالر سالانہ تھی، مگر کمپنی نے جنوری 2016ءسے وہ بھی ختم کر دی ہے۔ وٹس ایپ نے اکتوبر 2014ءمیں مفت وائس کال فراہم کرنے کی سروس کا آغاز کیا ہے اور بہت سے لوگوں کیلئے اب یہ فون کال کا متبادل ہے اور مفت انٹرنیٹ وائس کال فیچر کی وجہ سے یہ مائیکروسافٹ کی مقبول عام سروس”سکائپ“کے بالمقابل بھی آ چکی ہے۔کمپنی کے بانی کم جان قوم کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ ہر انسان کو قابل بھروسہ اور کم خرچ سروس کی ذریعے دنیا بھر سے رابطہ رکھنے کے قابل بنایا جائے۔

وٹس ایپ کے بانی جان کوم اور برائن ایکٹن نے 2007ءمیں یاہو میں ملازمت سے استعفیٰ دیا اور فیس بک میں ملازمت کیلئے درخواست دی،جس کونظر انداز کر دیا گیا۔ فروری 2009ءمیں انھوں نے وٹس ایپ کا آغاز کیا اورصرف پانچ سال بعد فیس بک نے ان کی بنائی ہوئی ایپ کو 19 ارب ڈالر میں خریدا، جن میں سے 4ارب کیش جبکہ باقی رقم فیس بک شیئر کی صورت میں دی گئی، یوں اب یہ دونوں فیس بک میں 12 فیصد شیئر کے مالک ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

یکم جنوری سے ان اسمارٹ فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا

لندن: پیغام رسانی، آڈیو اور ویڈیو کال کی معروف واٹس ایپ یکم جنوری 2021 سے …