پیر , 1 مارچ 2021

چنیوٹ : بکریاں دریابردکردیں

Untitled3

چنیوٹ کےنواحی گاوں اوبھان کے رہائشی محمد اسلم کا بیٹا اور بھتیجا حسب معمول اپنے ریوڑ کو چرانے کے لیے دریا کے کنارے موجود تھے کہ اچانک دو بکریاں علاقہ زمیندار اسد شاہ کے کھیت میں داخل ہوگئیں جیسے ہی اس کو اطلاع ملی وہ اپنے مسلح کارندوں کے ساتھ نشہ میں دھت وہاں پہنچ گیا اور بکریاں چراتے محمد وارث اور مزمل حسین پر تشدد کرنے لگا ساتھ ہی وہاں موجود سو کے قریب بکریوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر دریا میں پھینکنے لگا سید اسد شاہ اور اس کے متعدد ساتھیوں نے آن کی آن میں بیشتر بکریوں کو دریا برد کر دیا جب کہ محمد وارث کو وہیں باندھ کر پھینک دیا اور مزمل حسین اور پانچ بکریوں کو اپنے ساتھ لے گئے شور مچانے پر ارد گرد سے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بکریوں کو نکالنے کی کو شش کی مگر بہت کم کو بچا یا جا سکا جب کہ پچاس سے زائد ہلاک ہو گئیں اور محض پندرہ کے قریب مردہ بکریاں ملیں اس موقع پر محمد اسلم اور اس کی بیو ی نے میڈیا کو بتا یا ہم دودھ کی بنیاد پر لوگوں کی قیمتی بکریاں چراتے ہیں ہمارے ساتھ ظلم کی انتہا کر دی گئی اگر بکریاں کھیت میں چلی بھی گئی تھیں تو وہ ہمیں بتاتا ہم اس کا نقصان پورا کر دیتے مگر بے زبان جانوروں کو اس بے دردی سے تشددکر کے دریا میں پھینک کر ہلاک کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟ابھی تک میرا بارہ سالہ بیٹا بھی انہی کے قبضہ میں خدا کےنام پر میرے بیٹے کو بازیاب کروایا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …