پیر , 8 مارچ 2021

کینسر جیسے جان لیوا مرض کیخلاف مزاحمت کرنیوالی 6 قدرتی جڑی بوٹیاں

کراچی(نامہ نگار)قدرت نے اس سرزمین پرایسی ہزاروں جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں جن میں کھانے کے علاوہ بیماریوں کا علاج بھی پوشیدہ ہے اور اس لیے اب سائنس دان ان کے اندر چھپے صحت کے خزانوں کو سامنے لارہے ہیں ایسی ہی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 6 ایسی جڑی بوٹیاں اور کھانے میں استعمال ہونے والی اشیا ہیں جن میں کینسر کا بہترین علاج چھپا ہوا ہے۔

cc2

سدا بہار کے پھول: یہ ایک یونانی سوئی کی شکل کی جڑی بوٹی ہے جسے عام طور پر ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جبک ہ بحروم کے لوگ اسے کھانے میں بھی استعمال کرتے ہیں جیسے سوپ، ٹماٹر سے بنے ساس، روٹی اور ہائی پروٹین غذاؤں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے نظام ہاضمہ کی درستگی اور بھوک بڑھانے کے لیے ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جب کہ کینسر کے مریض اگراس کے پتوں سے تیارکردہ پانی کے روزانہ تین کپ پیئیں تو انسانی مزاحمتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔

cc6

ادرک: ان جڑی بوٹیوں میں ادرک کا نام سرفہرست ہے جسے زمانہ قدیم سے حکما نزلے سے لے کر قبض تک کی بیماریوں کی ادویات کی تیاری میں استعمال کرتے رہے ہیں جب کہ اسے تازہ پاؤڈر کی شکل میں یا پھر گرائنڈ کرکے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ادرک کا باقاعدہ استعمال کینسر کے دوران جسم میں مزاحمت پیدا کرتا ہے اور بالخصوص کینسر کے علاج کے دوران ہاضمے کو درست رکھنے میں مدد گار ہوتا ہے۔

cc5

ہلدی کا استعمال: ہلدی کا استعمال اکثر کھانوں میں کیا جاتا ہے جب کہ اس میں موجود کرکمین میں اینٹی آکسی ڈینڈ اور تیزابیت کے خاتمے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ کینسر کے خلاف لڑنے کی بھی اس میں صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس سے تیار کردہ اشیا پر کینسر کے خلاف لڑنے کی صلاحیت پر تحقیق کی جارہی ہیں جس میں پروسٹیٹ، چھاتی اور جلد کا کینسر شامل ہیں۔

cc3

پودینہ کا استعمال: کئی صدیوں سے لوگ اس کا استعمال نظام ہاضمہ کی بہتری اور گیس کی بیماریوں سے نجات کے لیے کرتے رہے ہیں جب کہ یہ فوڈ پوائزنگ اور باول سنڈروم میں بھی آرام پہنچاتا ہے۔ پیٹ کے کینسر میں مبتلا مریض کے روزانہ ایک کپ اس کو پکا کر پینے سے مزاحمتی قوت بڑھ جاتی ہے اس کے علاوہ گلے خراش اور منہ کے درد میں بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

cc4

لال مرچیں: لال مرچ میں کیسیسین نامی اہم مرکب پایا جاتا ہے جو کسی بھی تکلیف میں فوری آرام دیتا ہے جب کہ اس کے لگانے سے جلد سے کیمیکل پی خارج ہوتا ہے اور اس کے مسلسل استعمال سے رفتہ رفتہ درد سے مکمل آرام آجاتا ہے۔ اس سے بنی کریم نیوروپیتھک کی بیماری کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے جب کہ کینسر کے مریض کے علاج کے دوران اس کے استعمال سے قوت مزاحمت بڑھ جاتی ہے۔

cc1

لہسن کا استعمال: لہسن کو ایلیم کلاس میں رکھا جاتا ہے جس میں بڑی مقدار میں سلفر، فلیوونائڈز، سیلینیم اور آجینین پایا جاتا ہے جو کئی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لہسن کا مسلسل استعمال پیٹ، کولون، ایسو فیگس،لبلہ اور سینے کے کینسر کے خدشے کو کم کردیتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لہسن مختلف میکنیزم جیسے بیکٹیریل انفکیشن اور کینسر کا باعث بننے والے اجزا سے جسم کے اندرونی نظام کی حفاظت کرتا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

بیماری میں حتیٰ الامکان دوا سے پرہیز کیجئے!

اسلامی متون میں بکثرت ایسی احادیث اور روایات موجود ہیں جن میں یہ ہدایت کی …