ہفتہ , 24 اگست 2019

حماس قوم کا حصہ ہے، صیہونیوں کیخلاف مزاحمت کیلئے تیار ہیں،اسامہ حمدان

download (2)

بیروت(مانیٹرنگ رپورٹ) بیت المقدس اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کی جانب سے شروع کی گئی انتفاضہ اور بیداری کی تحریک نے انسانی جسم میں خون کی طرح قومی مزاحمت کی روح ایک بار پھر تازہ کردی ہے۔ان خیالات کا اظہار اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کےشعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ اور لبنان میں جماعت کے امور کے انچارج اسامہ حمدان نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس اور مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینیوں کی جانب سے شروع کی گئی مزاحمتی تحریک تین اہم عوامل اور عناصر پر مشتمل تھی۔ اس تحریک نے یہ ثابت کیا کہ فلسطینی عوام انفرادی اور اجتماعی سطح پر کسی تنظیم کی مہمیز اور ترغیب وترھیب کے بغیر بھی دشمن کے خلاف بھرپور عوامی مزاحمت کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ موجودہ حالات اور فلسطینی عوام کے صہیونی ریاست کےخلاف سڑکوں پر نکلنے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قوم ایمان کی دولت سے مالا مال ہے اور وہ عزت و وقار کی زندگی جینا جانتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے پچھلے نہایت قیمتی سال صہیونی ریاست کے ساتھ نام نہاد امن مذاکرات کا ڈھونگ رچانے میں برباد کیے۔ فلسطینی قوم اس سارے تماشے کو بہ چشم سر دیکھتی رہی کہ مسلسل مذاکرات کی بے مقصد مشق ان کے حقوق کے حصول کا ذریعہ نہیں بن سکی لہٰذا لا محالہ انہیں دشمن کےخلاف اب بندوق اٹھانا ہی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ تحریک کا تیسرا محرک فلسطینی قوم کو صہیونی ریاست کی جانب سے بند گلی میں ‌پہنچانا اور دیوار سے لگانے کی سازش ہے۔ صہیونی ریاست نے غزہ کی پٹی کے عوام کو پچھلے نو سال سے محصور کر رکھا ہے۔ فلسطینی عوام کی جانب سے اسرائیلی مظالم کے خلاف اگر کوئی منظم کارروائی کی گئی اور اسے کسی مخصوص گروپ کی کارستانی قرار دے کراس کی مخالفت کی گئی لیکن جب پوری قوم کسی گروپ اور فرد کے بغیر بے ترتیب اور غیر منظم انداز میں ‌اٹھ کھڑی ہوئی ہر ایک کا ماتھا ٹھنکا کہ اب فلسطینی قوم بہ حیثیت مجموعی بیدار ہوچکی ہے۔اسامہ حمدان نے کہا کہ موجودہ حالات میں حماس کی پالیسی یہ ہے کہ جماعت خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی ہے۔ حماس قوم کا حصہ ہے۔ اگر قوم صہیونی دشمن کے خلاف مزاحمت کے لیے ہمہ تن گوش اور تیار ہے تو کسی بھی دوسری تنظیم سے پہلے عوام کو حماس ہی کی حمایت حاصل ہوگی۔

HAMAS-monitor

انہوں نے کہا کہ حماس کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اسرائیل پر حملہ کسی نے کیا اور اس کا تاریخی، خاندانی اور نظریاتی پس منظر کیا ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے قطع نظر حماس غیر مشروط طور پر قوم کے ساتھ کھڑی ہوگی اور مزاحمت کو مزید تقویت بہم پہنچانے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کارلائے گی۔ حماس کی قیادت کو اپنی قومی ذمہ داریوں کابہ خوبی احساس اور ادراک ہے۔ موجودہ حالات میں حماس کیا کوئی بھی دوسری مزاحمتی تنظیم بھی غیر جانب دار ہوکر تماشہ بین نہیں‌ بن سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں رواں سال جولائی اوراگست میں صہیونی فوج کی درندگی کے مقابلے میں غزہ کی پٹی کے نہتے عوام نے جس صبر کا مظاہرہ کیا وہ القدس اور مغربی کنارے کے شہریوں کے سامنے تھا۔ ان شہروں کے عوام کو فلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے پوری قوت سے صہیونی ریاست کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے سے روکنے کی کوشش کی لیکن عباس ملیشیا بھی مزاحمت کے تسلسل کو توڑنے میں ناکام رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سنہ نوے کے عشرے میں یہ بات مشہور کردی گئی تھی کہ حماس اپنا وجود کھوہ چکی ہے۔ لیکن ایسے نادان لوگ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ حماس فلسطینی قوم کا دوسرا نام ہے۔ دشمن کے خلاف اور اپنے بنیادی حقوق کی حمایت میں مسلح جدو جہد فلسطینی قوم کے رگ و پے میں سرایت کرچکی ہے۔ حماس قومی مزاحمت کی تشکیل نو کی کوششوں میں مصروف رہی اور مخالفین اس کی راہ میں روڑے اٹکانے اور بے پر کی افواہیں اڑانے میں مصروف رہے ہیں۔ اب تک کسی سازشی کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوسکی۔ آئندہ بھی اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حماس فلسطینی قوم کی مدد سے پیش آئندہ مہینوں میں یہ ثابت کرے گی کی غرب اردن اور بیت المقدس میں قومی مزاحمت زیادہ موثر رہی اور ساتھ ہی ساتھ ہم یہ بھی ثابت کریں گے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں نے اپنے حقیقی فرائض کی انجام دہی سے پہلو تہی اختیار کرتے ہوئے قوم کی دشمن اور غاصب ریاست کے مفادات کا دفاع اپنی ذمہ داری بنا رکھا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران یک طرفہ طور پر ایٹمی معاہدے کی پابندی کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا، صدر حسن روحانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت حسن روحانی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی …