جمعرات , 23 نومبر 2017

چین اور روہنگیا کا مسئلہ

ڈاکٹر توصیف احمد خان

روہنگیا میں انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل ابتری کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے روہنگیا کے مسلمانوں اور ہندوؤں کو بنگلہ دیش سے واپس آنے کے منتقلی کے منصوبے کے تحت 60 ہزار افراد روہنگیا منتقل ہوئے، مگر روہنگیا منتقل ہونے والے مسلمان اپنی زمین، جائیداد اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم ہوگئے ہیں اور میانمار کی حکومت انھیں اپنے ملک کا شہری تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔چین میانمار کا پڑوسی ملک ہے۔ چین کے میانمار کی فوجی حکومت سے قریبی تعلقات ہیں۔ جب امریکا، اس کے اتحادی ممالک اور اقوام متحدہ نے میانمار پر اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں تو چین واحد بڑی طاقت تھا جو میانمار کی فوجی حکومت کا حامی تھا۔

گزشتہ دنوں چین کی برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس منعقد ہوئی۔ اس کانگریس کے موقع پر چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبہ کے نائب صدر Guoyezhou نے صحافیوں کے سامنے ایک پالیسی بیان میں کہاکہ چین میانمار کے معاملات میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت کا مخالف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمار کی حکومت نے روہنگیا میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے قابل ذکر اقدامات کیے ہیں۔چین کی حکومت کی رائے ہے کہ میانمار کے فوجی حکمرانوں کے روہنگیا میں امن و امان کی بحالی کے اقدامات سے صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنے بیان کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیونسٹ,

پارٹی کی کانگریس نے روہنگیا میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے۔کانگریس میں چین اور میانمار کی طویل اور گہری دوستی کے تناظر میں اس توقع کا اظہار کیا کہ میانمار حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں روہنگیا میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوجائے گی۔ کمیونسٹ پارٹی کسی صورت میانمار کی ریاست کو نقصان پہنچانے کے حق میں نہیں ہے۔مسٹر جیوہو نے ایک صحافی کے سوال پر یہ بھی کہا کہ میانمار کے معاملے میں چین کی امریکا اور مغربی ممالک کے مقابلے میں پالیسی بالکل مختلف ہے اور چین کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے حق میں نہیں ہے اور اس,

نوعیت کی مداخلت کے ماضی میں منفی اثرات برآمد ہوئے ہیں۔ چین کو یقین ہے کہ میانمار کی فوجی حکومت روہنگیا کی صورتحال پر قابو پالے گی۔گزشتہ مہینے دنیا بھر کے اخبارات میں کراچی میں فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کی روہنگیا کے مسلمانوں کی جدوجہد کرنے والی تنظیم کے سربراہ عطاء اﷲ کے بارے میں ایک رپورٹ شایع ہوئی تھی۔ اے ایف پی کے بیورو چیف اشرف خان کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عطاء اللہ کا تعلق کراچی سے ہے۔ انھوں نے کراچی کے ایک مدرسہ میں مذہبی تعلیم حاصل کی تھی۔ پھر وہ قرآن مجید کی تعلیم دینے کی ملازمت پر سعودی عرب چلے گئے,

جہاں وہ شاہی خاندان کے بچوں اور نوجوانوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ عطاء اﷲ چند سال قبل بھاری مقدار میں رقم لے کر کراچی آئے اور روہنگیا میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے کے لیے جلسے کیے۔ان کی قیادت میں روہنگیا کے مسلمان نوجوانوں نے عسکری تربیت حاصل کی اور میانمار کی فو ج کے مظالم کے خلاف عسکری جدوجہد شروع کردی۔ میانمار کے فوجی حکمرانوں نے اس تحریک کو طاقت سے کچلا۔ روہنگیا کے مسلمانوں اور ہندو خاندانوں کو بدترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔روہنگیا میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ میانمار کی حکومت انھیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتی،

یوں لاکھوں مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑ کر بنگلادیش اور بھارت میں پناہ لینی پڑی۔ مسلمان خواتین کی عزتیں لوٹی,گئیں اور نوجوانوں کو قتل کیا گیا۔ میانمار کی فوجی حکومت چین کے ساتھ وہاں کی رہنما سو چی Soukyi کے ساتھ اتحاد ہوچکا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپ میں بھی اس تشدد کی شدید مذمت کی گئی۔برطانیہ کی ایک بڑی یونیورسٹی نے اپنے مرکزی دروازے پر نصب سو چی کی تصویر ہٹادی۔ صدر ٹرمپ انتظامیہ نے مسلمان ممالک کے کسی موقف کی حمایت نہیں کی تھی لیکن اب وہ بھی کھل کر روہنگیا کے مسئلے پر میانمار کی فوجی حکومت کی مذمت کررہے ہیں۔اقوام متحدہ جس کی,

جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاسوں میں برسوں تک سو چی کی رہائی کے لیے قراردادیں منظور کی جاتی رہیں اور سو چی کی طویل نظربندی ختم نہ کرنے پر میانمار پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں وہاں کی جنرل اسمبلی نے مسلمانوں کے حالات کار کو بہتر بنانے اور ان کی وطن واپسی کے لیے خطیر رقم پر مبنی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اب اقوام متحدہ کے اس پروگرام کے تحت روہنگیا واپس جانے والے افراد کو اپنے روزگار اور جائیدادوں سے محروم کردیے گئے ہیں۔ میانمار کی رہنما Hune Sansouki کا موقف یہ ہے کہ جو شخص میانمار کی قومیت کا ثبوت پیش کرے گا اس کو اپنے وطن واپسی کا حق ہے۔

میانمار کے وزیر زراعت نے واضح کیا ہے کہ جس فرد کے پاس میانمار کی قومیت ہوگی وہی زرعی زمین اور جائیداد کا مالک سمجھا جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق اس تنازعے کے نتیجے میں 589,600 روہنگیا کے مسلمانوں اور 30 ہزار غیر مسلمانوں کو اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں 71,500 ایکڑ زرعی زمین ویران پڑی ہے۔ اس زمین پر جنوری میں چاول کی کاشت ہوتی ہے۔ اگر اس زمین کے حقیقی مالکان واپس نہیں آئے تو پھر میانمار کی حکومت زمین کو زیر کاشت لانے کے لیے اقدام کرے گی۔روہنگیا کے مسئلے پر پاکستان میں ہر سطح پر احتجاج ہوا۔ مذہبی اور کالعدم جماعتوں نے اس معاملے کو,مذہب سے منسلک کردیا ۔ حتیٰ کہ پاکستان نے میانمار کے سفیر کو بار بار وزارت خارجہ میں طلب کیا اور,

میانمار کے سفیر کو اس طرح احتجاجی نوٹ دیا گیا جس طرح بھارت کے ہائی کمشنر کو دیا جاتا ہے۔ جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازعہ کی زیادہ نوعیت لسانی ہے، کیونکہ برما میں روہنگیا کے علاوہ دیگر نسلوں کے مسلمان سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔بعض ماہرین کا یہ خیال ہے کہ امریکا یورپی ممالک اور سعودی عرب کے ذریعے اس مسئلے کے ذریعے میانمار میں چین کے اثر کو روکنے کی کوشش کررہا ہے۔ چین کی میانمار پر اقتصادی گرفت ہے۔ چین میانمار میں مداخلت کو اپنی اقتصادی پالیسی کے لیے ,خطرناک سمجھتا ہے۔ اس بنا پر چین نے اس معاملے پر سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ چین کا بھوٹان اور نیپال کے بارے میں بھی ایسا ہی موقف ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین نے اپنے سرحدی علاقے میں بھارتی فوج کی

مداخلت پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ گزشتہ ماہ 15 ابھرتے ہوئے اقتصادی ممالک برازیل، جنوبی افریقہ، روس اور چین کے سربراہ اجلاس میں پاکستان میں کالعدم مذہبی تنظیموں کے خاتمے سے متعلق قرارداد کا پس منظر بھی روہنگیا کے بارے میں پاکستان کا موقف تھا۔پاکستان کے چین سے قریبی تعلقات خاص طور پر سی پیک منصوبہ اور امریکا کی اس معاملے میں خصوصی دلچسپی کے تناظر میں اس پورے معاملے پر نئے انداز سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ خارجہ امور سے متعلق اس اہم مسئلے کو سڑکوں پر مذہبی مسئلہ بنانے کے بجائے اس انسانی مسئلے کو انسانی بنیادوں پر اور ڈپلومیسی کے ذریعے حل کرنے کے بارے میں غور و فکر سے ہی کوئی درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

داعش کی شکست در اصل امریکا و اسرائیل کی شکست

(تحریر: صابر ابو مریم) داعش نامی گروہ کہ جس کا پہلی مرتبہ نام شام میں ...