جمعرات , 23 نومبر 2017

کیا صہیونی ریاست ’عظیم تر القدس‘ کی طرف گامزن ہے؟

اسرائیلی اخبار ہارٹز‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حکومت بیت المقدس سے باہر واقع دو بڑی یہودی کالونیوں ’غوش عتصیون‘ اور معالیہ ادومیم کو القدس میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔عبرانی اخبار کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کی قانون سازی سے متعلق امور کی نگراں کمیٹی آئندہ اتوار کو ایک نئے مسودہ قانون پر رائے شماری کرے گی۔ اس قانون کے تحت غوش عتصیون اور معالیہ ادومیم دو بڑی یہودی کالونیوں کو القدس میں ضم کرنے پر رائے لی جائے گی۔

ویب سائیٹ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمراں جماعت ’لیکوڈ‘ کے رکن یواف کیش اور ٹرانسپورٹ و انٹیلی جنس کے وزیر یسرائیل کاٹز نے مشترکہ طور پر یہ نیا مسود قانون تیار کیا ہے۔ یہ دونوں شخصیات غوش عتصیون، معالیہ ادومیم، افرات، بیتار علیت اور گیوات زئیو کو القدس میں شامل کرنے کی مہم چلا رہی ہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کابینہ میں شامل کئی وزراء بڑی یہودی کالونیوں کو القدس میں ضم کرکے ’عظیم تر یروشلم‘ کے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یوں وہ گرین لائن سے باہر واقع کالونیوں کو بھی ,

القدس میں شامل کرکے اپنے اس مذموم منصوبے پرعمل پیرا ہیں۔اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مسودہ قانون کی منظوری کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بھی اس اسکیم کا حامی ہے۔رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے اس منصوبے کی پرزور مخالفت کرے گی کیونکہ القدس سے باہر کی یہودی بستیوں کی القدس میں ضم کرنے کی کوشش غرب اردن کو بیت المقدس میں ضم کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

بشکریہ مرکز اطلاعات پاکستان

یہ بھی دیکھیں

داعش کی شکست در اصل امریکا و اسرائیل کی شکست

(تحریر: صابر ابو مریم) داعش نامی گروہ کہ جس کا پہلی مرتبہ نام شام میں ...