جمعرات , 23 نومبر 2017

بن سلمان کے بعد اب محمد بن زاید ’’کرپشن‘‘ خلاف کھڑے ہوگئے

تسنیم خیالی

یہ اچانک خلیجی حکمرانوں کو کیا ہوتا جا رہا ہے؟ انہیں کرپشن کی یاد کیسے آئی؟ کچھ روز قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے انسداد کرپشن کے نام پر 18 سعودی شہزادے اور درجنوں سابق حکومتی عہدیداروں اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کر لیا تھا،سعودی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق گرفتار افراد بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہے اور گرفتار ہونے والوں میں نیشنل گارڈ کے معطل چیف شہزادہ متعب بن عبداللہ اور ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال سمیت باون سعودی شہزادے اور سعودی شخصیات شامل ہیں۔ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ گرفتاریوں کے پیچھے اصل مقصد کرپشن نہیں بلکہ،

سعودی عرب پر محمد بن سلمان کی گرفت مضبوط کرنا ہے جو کہ کافی حد تک ہوبھی چکی ہے۔البتہ اب امارات میں بھی کرپشن کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہوگیا ہے جس کے پیچھے کسی اور کا نہیں بلکہ اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان کا ہاتھ ہے۔امارات سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق بن زاید نے شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان نے متحدہ عرب امارات میں مرسیڈیز گاڑیوں کے ڈیلر، وزیر مملکت کے عہدے پر فائز انور قرقاش ،مشہور کاروباری شخصیت حلف الحبتور اور معروف اماراتی کاروباری شخصیت،

ماجد العظیم کے تمام بینک اکاؤنٹس اور اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔اب حیرانگی کی بات یہ ہے کہ بن سلمان اور بن زاید کو کرپشن اور کرپٹ لوگوں کا خیال کیسے آیا؟ چلو بن سلمان کا سبھی کو علم ہے کہ اصل معاملہ کیا ہے،لیکن بن زاید کا کرپشن کے بہانے جیسے اقدامات سمجھ سے بالاتر ہیں۔کیا بن زاید اس قسم کے اقدامات سے امارات پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں؟یا پھر منجمد ہونے والے پیسے اور اثاثوں کو ہڑپ کرنا چاہتے ہیں؟بن زاید کے حریفوں کی بات کی جائے تو ان کے متعدد بھائی اور دبئی کا،

حکمران خاندان اس حوالے سے سر فہرست ہیں ،کیا ان کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے منجمد کیے جائیں گے؟بعض تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بن زاید اس سعودی اعلان کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سعودی عرب میں ہونے والی گرفتاریاں سچائی پر مبنی ہیں اور سعودی عرب میں ہونے والی گرفتاریاں کرپشن کے حوالے سے کی گئی ہیں،اسی لیے انہوں نے ملک کے نامور کاروباری شخصیات کے اثاثوں کو منجمد کیا تاکہ یوں لگیں کہ خلیجی ریاستوں میں کرپشن کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں،خاص طور پر کہ سعودی ولی عہد اور بن زاید کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

الوداع‘ چین کو الوداع

(محمد اسلم خان….چوپال) ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے چین کے کبھی جارحانہ اور توسیع پسندانہ ...