جمعرات , 23 نومبر 2017

مقبوضہ کشمیر: کئی دیہات محاصرہ کریک ڈاؤن کی کوشش ناکام، جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی

سرینگر((مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فورسز کا کئی دیہات کا محاصرہ، کریک ڈاؤن کی کوشش ناکام،جھڑپوں میں 5افراد زخمی ،وادی میں بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری،کئی مقامات پر پتھراؤ کے واقعات،قابض فورسز کی جانب سے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پلوامہ کے مضافات میں کریک ڈائون کی کوشش ناکام بنانے کے دوران مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں جن میں 5افراد زخمی ہو ئے۔ اس موقعہ پر نوجوان گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے پولیس پر سنگباری کی جس کے جواب میں پولیس نے شلنگ کی۔

مظاہرین اور پولیس میں کچھ دیر تک جھڑپیں ہوتی رہیں جس کے بعد محاصرہ اٹھا لیا گیا۔تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ادھر ہلر کوکرناگ میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر اتوا ر کی شام 19آر آر اور 196سی آر پی ایف کے علاوہ پولیس نے محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا ۔ یہاں تلاشی آپریشن رات دیر گئے تک جاری رہا۔ اس دوران لوگوں کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے گئے اور ان کی پوچھ تاچھ کی گئی۔ اس دوران مزاحمت پر اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔دریں اثناء وادی میں انٹر نیٹ اور موبائل سروس بحال نہیں ہو سکی۔ادھر مقبوضہ کشمیر میں سوائن فلو نامی وبائی بیماری نے ابتک 9افراد کو اپنا شکار بنایا ہے جبکہ دو افراد کی حالت نازک ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموں اور کشمیر میں سوائن فلو نامی بیماری کیلئے 126افراد کے نمونے حاصل کئے گئے تھے جن میں 24کے خون کے نمونوں سے سوائن فلو کی تصدیق ہوئی تھی۔ جموں صوبے میں وبائی بیماریوں پر نظر رکھنے والے محکمہ صحت کے سرولنس آفیسر ڈاکٹر جے پی سنگھ نے کو بتایا جموں صوبے میں پچھلے دو ماہ کے دوران 10افراد کے خون میں خنزیری وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ سردیوں میں سوائن فلو کی بیماری کوئی بھی صورتحال اختیار کرسکتی ہے اسلئے ہر ممکن تیاری کی گئی ،مریضوں کا علاج و معالجہ مفت کیا جارہا ہے، مفت تحقیقی ٹیسٹ کئے جارہے ہیں اور متاثرہ مریضوں کو مفت ادویات اور دیگر ضروری ساز و سامان فراہم کئے جارہے ہیں۔

سوائن فلو کی تحقیق کیلئے قائم کی گئی دو لیبارٹروں میں سے سی ڈی اسپتال میں قائم مخصوص H1N1لیبارٹری ضروری سامان کی عدم دستیابی کی وجہ سے بیکار پڑی ہے جبکہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ میں قائم لیبارٹری میں ابتک 30افراد کے خون کے نمونوں کی تحقیق کی گئی ہے۔ دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے استحصالی سیاستدانوں نے اقتدار کی خاطر ریاستی عوام کی مبنی برحق تحریک کے ہر تاریخی موڑ پر قوم کو دھوکہ دینے میں کبھی شرم محسوس نہیں کی۔ ایسے افرادتاریخ کشمیر کا از سر نو مطالعہ کریں اور اپنے پیش رو حکمرانوں کو بھارت کی سیاسی چوکھٹ پر ذلت آمیز دھتکار سے عبرت حاصل کریں، جنہیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا کروزیر اعلی کی کرسی کیلئے بھیک مانگنے پر مجبور کیا گیا۔

حریت رہنما نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حالیہ بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قبیل کے سیاستدانوں کی آنکھیں بھی مکروفریب کی سیاست کاری سے بھر نہیں آئی۔ حریت رہنما نے واضح کیا کہ قوم نے پچھلے 70 برسوں سے بیش بہا قربانیاں ریاست کی بندربانٹ کرنے کے بجائے رائے شماری جیسے جمہوری اور سیاسی فارمولے کے ذریعے اپنے مستقبل کا از خود فیصلہ کرنے کے لئے دی ہیں۔ حریت رہنما نے کہا کہ ریاستی عوام نے قربانیاں اقتدار کے لئے نہیں، بلکہ حقِ خودارادیت واگزار کرنے کے لئے دی ہیں جوکہ ان کا پیدائشی حق ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ متحدہ امارات اور اسرائیل کا بڑا بھائی ہے: اماراتی سرکاری عہدیدار

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات کے ایک اعلٰی سرکاری عہدیدار نے صیہونی حکومت کو ...