جمعرات , 23 نومبر 2017

سعد حریری کی گرفتاری سے جڑی کچھ اہم معلومات

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے معروف رپورٹر نے لبنان کے مستعفی وزیر اعظم سعد الحریری کے گرفتاری کے حوالے سے بعض پہلوؤں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔

رابرٹ فسک نے روزنامہ انڈیپنڈنٹ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ مسئلہ ویسا نہیں جیسا دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی عرب جانے سے پہلے سعد الحریری نے لبنان میں یہ پروگرام بتایا تھا کہ وہ سعودی عرب میں بین الاقوامی بینکوں اور آئی ایم ایف کے سربراہوں ساتھ بات چیت کے لیے جارہے ہیں، جس سے صاف پتا چلتا ہے کہ استعفیٰ دینا ان کے پروگرام میں شامل نہیں تھا۔

آگے چل کر فسک نے لکھا کہ ریاض کے ہوائی اڈے پر جہاز کے لینڈ کرنے کے بعد، حریری نے جو سب سے پہلے چیز دیکھی وہ جہاز کا سیکیورٹی فورسز کی جانب سے محاصرہ اور پولیس کا وائرلیس فونز کے ساتھ جہاز میں داخل ہونا تھا، جس نے حریری کے محافظوں سے ان کے تمام تر موبائل فون اور دوسری ضروری اشیاء ضبط کر لیں اور حریری دیکھتے ہی رہ گئے۔

سعد الحریری کے سعودی عرب کے دورے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے فسک لکھتا ہے کہ حریری کو سعودی عرب کی جانب سے ٹیلی فون کال کی گئی تھی جس میں اسے کہا گیا تھا سعودی شاہ نے انہیں فورا ریاض طلب کیا ہے۔ اپنے والد رفیق الحریری مرحوم کی طرح سعد الحریری کے پاس بھی سعودی نیشنیلٹی ہے، لہذا وہ فوری طور پر ریاض روانہ ہو گئے کیونکہ سعودی شاہ کی درخواست کو کسی طرح بھی رد نہیں کر سکتے تھے۔

انڈیپنڈنٹ کے مطابق اس وقت سعد الحریری کے خاندان کے تمام افراد سعودی عرب میں موجود ہیں اور اگر سعد الحریری لبنان واپس جانا بھی چاہیں تو انہیں اپنے بیوی بچے ریاض میں گروی رکھ کر جانا پڑیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

جنگ سے تباہ غزہ کی تعمیر میں مدد جاری رکھیں گے: قطر

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر نے سعودی عرب کی طرف سے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی ...