جمعرات , 23 نومبر 2017

یمن بحران پر جواد ظریف کا اقوام متحدہ کے نام خط

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹیرس کے نام ایک خط میں سعودی جارحیت کی وجہ سے یمن کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے اس خط میں کہا کہ یمن پر سعودی جارحیت کو 30 مہینے ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے اب تک ہزاروں یمنی شہید اورزخمی ہوئے جن میں بچے اورعورتیں بھی شامل ہیں۔ سعودی جارحیت کی وجہ سے بنیادی تنصیبات تباہ ہو گئیں اور ہسپتالوں،اسکولوں،فیکٹریوں، بجلی گھروں اور سڑکوں کو بری طرح نقصان پہنچا جس کی وجہ سے یمنی عوام اپنی ابتدائی ترین ضرورتوں سے محروم ہو گئے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے محاصرے سے اس ملک میں انسانی المیہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئےعالمی اداروں سےکہا کہ وہ اس یکطرفہ جنگ کو ختم کرانے کیلئے بھر پور کردار ادا کریں۔

محمد جواد ظریف نے اپنے اس خط میں کہا کہ ایران کا شروع دن سے یہ کہنا ہے کہ یمن کے بحران کا حل سیاسی طریقے سے اورگفتگوکرنے، تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت سےایک قومی حکومت کی تشکیل اور یمن کے داخلی امور میں دوسرے ملکوں کی عدم مداخلت ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی ایماء پر مارچ دو ہزار پندرہ سے مغربی ایشیا کے غریب ترین اسلامی ملک یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کا مقصد اس ملک میں اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بحال کرنا ہے۔یمن پر سعودی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد شہید، زخمی اور لاکھوں بے گھر اور متاثرہوچکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام میں قیام امن کے بارے میں ایران ، روس اور ترکی کے فوجی سربراہان کی ملاقات اور گفتگو

ترک فوج کے چیف آف اسٹاف کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان ...