منگل , 12 دسمبر 2017

امریکہ کی وہی ایک گردان‘ آخرکب تک؟

بدگمان امریکہ نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی روکنے کا الزام یہ خیال کئے بغیر دہرایا ہے کہ پاکستان خود افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد کی روک تھام میں مشکلات کاشکار ہے جبکہ افغانستان کے علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے خلاف امریکہ اور افغانستان کسی سنجیدہ کارروائی کے لئے تیار ہی نہیں۔اپنے گریبان میں جھانکنے اپنی ذمہ داری کا احساس اور اپنا فرض نبھانے کی بجائے امریکہ کو ہمیشہ پاکستان پر الزام دھرنے کی پڑی رہتی ہے۔ پاکستان اور امریکا کی اعلیٰ فوجی قیادت کے ایک دوسرے پر سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کرنے کے الزامات دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کو ظاہرکرتے ہیں جس سے دونوں ممالک میں بعد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

اس طرح کی صورتحال کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان ایک جانب سے رابطوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے اور یہ غزل و جواب آں غزل اس وقت کہی گئی جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے جی ایچ کیومیں ملاقات کی۔جنرل جوزف ووٹل کا دورہ امریکی سیکرٹری دفاع جیمس میٹس جو اگلے مہینے اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں، کی آمد سے قبل تیاریوں کا تسلسل ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ سینٹ کام کے کمانڈر نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر حیات اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)لیفٹننٹ جنرل نوید مختار سے بھی ملاقات کی۔جنرل ووٹل نے فوج اور آئی ایس آئی حکام سے ملاقات کے دوران پاک افغان تعلقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کی بحالی اور خطے میں استحکام و سیکورٹی کی صورتحال بہتر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے ملاقات کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان اور خطے کے لیے نئی امریکی پالیسی میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا سے کروڑوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود عدم اخلاص کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی ایشیا اور افغان پالیسی کے بیان کے بعد سے پاکستان اور امریکا کے درمیان پیدا ہونے والے خلا کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس طرح کے موقف کا اظہار پہلی مرتبہ نہیں بلکہ یہ ایک ہی رٹ کافی سالوں سے چلی آرہی ہے مگر اس صورتحال سے نکلنے کی کوئی سنجیدہ یا ٹھوس کوشش سامنے نہیں آئی۔ جہاں تک پاکستان کے کردار کا سوال ہے سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں تطہیری عمل اور خاص طور پر قبائلی علاقہ جات کو دہشت گردوں سے پاک کرنے اور پاک افغان سرحد کو باڑ لگا کر اور خندقیں کھود کر بند کرنے سرحدی امور کو مربوط کرنے اور قانونی آمد و رفت یقینی بنانے کے مثالی انتظامات کے باوجود امریکہ اور افغانستان اس کا اعتراف کرنے پر تیار نہیں۔ اگر امریکہ اور بھارت کی جانب سے پاکستان کے عدم تعاون کے الزام کو ایک لمحے کے لئے درست گردان کر سوال کیا جائے کہ اگر پاکستان کے یہ مربوط اور نظر آنے والے اقدامات کافی نہیں تو پھر امریکہ اور افغانستان افغانستان سے دہشت گردوں کے پاکستان میں داخلے کی روک تھام اور اس سرزمین پر جہاں ان کی حکومت اور عملداری ہے پاکستان کی طرح کے اقدامات سے گریزاں کیوں ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کو جتنا محفوظ بنایا جائے گا اور غیر قانونی آمد و رفت کی جتنی سنجیدگی سے روک تھام ہوگی دونوں ممالک کے درمیان مشکوک آمد و رفت میں اسی قدر کمی آئے گی۔ پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ہی نہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنائے علاقوں میں یعنی قبائلی علاقوں کی سرحدوں کو جن کو کافی حد تک باڑھ لگا کر اور خندقیں کھود کر محفوظ بنایا گیا ہے وہاں حالات میں بہتری آئی ہے اور معمول کی زندگی بحال ہو رہی ہے۔ متاثرین اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے جو بھائی بھٹک کر افغانستان چلے گئے تھے اب ان کی بھی واپسی ہو رہی ہے لیکن دوسری جانب بلوچستان جہاں اس قسم کے سرحدی انتظامات نہیں کئے جاسکے ہیں وہاں خود پاکستان کو کس قسم کی سنگین مشکلات کا سامنا ہے اور خطرات درپیش ہیں اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ امریکہ پاکستان کو دبائو میں لانے کی بار بار کی ناکام کوششوں کے بعد اس سلسلے کو ترک کرکے معروضی صورتحال اور زمینی حقائق کا ادراک کرے اور افغانستان میں قیام امن و استحکام امن میں اپنا کردار ادا کرے اور وہاں کے اندرونی حالات کی خرابی اور ناکامیوں کا الزام پاکستان کے سر تھوپنے سے باز رہے۔ عدم اعتماد اور الزام تراشیوں کی اس طرح کی صورتحال میں امریکی سیکرٹری دفاع کا اگلے مہینے متوقع دورہ اسلام آباد لاحاصل رہے گا۔ اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی مشکلات مسائل اور موقف کو سمجھنے اور اپنے اپنے مثبت کردار کی ادائیگی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بات نشستند گفتندوبرخاستند سے کبھی آگے بھی تو بڑھ سکے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

کشمیریوں کی آواز

اگر میں کہوں کہ ہمارے پڑوس میں سوئزرلینڈ سے خوب صورت علاقہ موجود ہے تو ...