منگل , 12 دسمبر 2017

سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی اگلے ہفتے دستبرداری

(تسنیم خیالی)
امریکی اخبار ڈیلی میل نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی اگلے ہفتے دستبرداری کی توقع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اس کے ’’قریبی ذرائع‘‘ کے مطابق شاہ سلمان اپنے بیٹے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حق میں اگلے ہفتے دستبردار ہوجائیں گے اور صرف ’’خادم حرمین شریفین‘‘ کا لقب اپنے پاس رکھیں گے جبکہ بادشاہت اور ملک کی بھاگ دوڑ اپنے بیٹے کے حوالے کر دیں گے۔

ویسے تو شاہ سلمان کی اپنے بیٹے کے حق میں دستبرداری کی باتیں کافی عرصے سے چلتی آرہی ہیں اور بہت سے تجزیہ نگار اس بات پر زور دیتے آرہے ہیں کہ سعودی عرب کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے شاہ سلمان کی دستبرداری کے حوالے سے چلنے والی باتیں اور تجزیہ نگاروں کے تجزیے درست ثابت ہوسکتے ہیں۔

شاہ سلمان نے اقتدار میں آنے کے بعد آہستہ آہستہ اپنے بعد اپنے بیٹے کی بادشاہت کی راہ ہموار کرنا شروع کر دی تھی۔

شاہ سلمان سعودی فرمانروا بننے کے بعد اپنے بیٹے کو وزیر دفاع مقرر کیا ،کچھ ماہ بعد اس وقت کے ولی عہد اپنے چھوٹے بھائی مقرن کو ولی عہد کے منصب سے معزول کرتے ہوئے اس وقت کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کو نیا ولی عہد مقرر کرتے ہوئے اپنے بیٹے محمد کو نائب ولی عہد مقرر کر دیا ،یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ محمد بن نائف شاہ سلمان کے سگے بھتیجے بھی ہیں ۔

شاہ سلمان نے اس کے کچھ عرصے بعد اپنے ہی متعین کردہ ولی عہد محمد بن نائف کو معزول کرتے ہوئے اپنے بیٹے اور نائب ولی عہد کو نیا ولی عہد مقرر کر دیا۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کافی عرصے سے سعودی عرب کے عملی طور پر حکمران ہیں اور سعودی عرب میں ہونے والے تمام فیصلے اور تبدیلیاں ان کی مرضی سے ہورہی ہیں ۔البتہ اس بات کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ان فیصلوں اور تبدیلیوں میں شاہ سلمان کی مرضی نہیں یا انہیں ان تمام فیصلوں اور تبدیلیوں کے بارے میں علم نہیں۔

شاہ سلمان سب کچھ جانتے ہیں بلکہ ان تمام فیصلوں اور تبدیلیوں کی بنیاد انہوں نے خود ہی رکھی تھی۔سعودی عرب میں تبدیلیاں برق رفتاری سے ہو رہی ہیں اور سعودی عرب بدلتے ہوئے پہلے سے بھی زیادہ بد تر ہوجائے گا۔

تبدیلی کا آغاز تو ہوچکا ہے چالیس سے بھی زائد شہزادوں کی گرفتاری سے اب دیکھنا یہ ہے کہ شاہ سلمان کے بعد بن سلمان کیا کرتے ہیں؟

یہ بھی دیکھیں

عالمی یوم انسانی حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

(محمد مرتضیٰ نور ) 10دسمبر کو ہر سال عالمی یوم انسانی حقوق کے طورپر منا ...