منگل , 12 دسمبر 2017

رقہ کا ڈرٹی سیکرٹ

The Dirty Secert of Raqqa. دی ڈیرٹی سیکریٹ آف رقہ

The Dirty Secert of Raqqa.دی ڈیرٹی سیکریٹ آف رقہ

Posted by Iblagh News on Donnerstag, 16. November 2017

(تسنیم خیالی)
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے شامی شہر رقہ میں دہشت گرد تنظیم داعش اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی ایک خفیہ ڈیل سے پردہ ہٹاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رقہ سے چار ہزار داعشی دہشت گردوں کو بمعہ اہلخانہ امریکہ،برطانیہ اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی اتحاد کی زیر نگرانی نکالا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق داعش کے بعد رقہ پر کنٹرول کرنے والی کرد فورس ’’سیرین ڈیموکریٹک آرمی‘‘ نے بھی داعشیوں کی رقہ سے منتقلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے بی بی سی نے ’’ڈرٹی سیکریٹ آف رقہ‘‘ کے نام سے اپنی ایک رپورٹ میں مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کو رقہ سے خالی ہاتھ نہیں جانے دیا گیا بلکہ انہیں اپنے ہتھیار،ذخائر اور بارودی مواد کے ساتھ جانے دیا گیا،بی بی سی کے مطابق امریکہ ،برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے داعش کے جنگجوؤں کیلئے رقہ سے نکلنے کیلئے پچاس ٹرک تیرہ بسیں اور ایک سو گاڑیاں فراہم کیں۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کرد فورسز سے تعلق رکھنے والے ڈرائیورز سے بھی بات چیت کی ہے جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں اور ان کے اہلخانہ کو رقہ سے نکالنے کا سفر گزشتہ بارہ اکتوبر کو شروع ہوا تھا جو مسلسل تین دنوں تک جاری رہا،ڈرائیورز کا مزید کہنا تھا کہ انہیں داعشیوں کو رقہ سے لے جانے پر ہزاروں ڈالرز انعام دیے جانے کا بھی کہا گیا تھا جو تا حال نہیں دیے گئے اور ان ڈرائیورز سے کہا گیا ہے کہ اس کام کو صیغہ راز میں رکھا جائے۔ڈرائیورز حضرات کے مطابق انہوں نے داعش کے چار ہزار جنگجوؤں کو بمعہ اہلخانہ رقہ سے نکالا ہے۔

بی بی سی کے مطابق داعشیوں کے رقہ سے انخلاء سے قبل ہونے والی بات چیت میں امریکی اور برطانوی فوجی افسران موجود تھے علاوہ ازیں بی بی سی نے داعش کے خلاف نام نہاد فوجی اتحاد کے ترجمان جنرل رایان ڈیلون سے اس بارے میں سوال کیا ہے جس کا مثبت جواب دیتے ہوئے جنرل ڈیلون نے تصدیق کی ہے کہ رقہ سے داعش کے جنگجوؤں کو بمعہ اہلخانہ نکال کر شام کے دیگر علاقوں میں بھیجا گیا تھا۔

بی بی سی کی رپورٹ کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ داعش کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں جو داعش کے جنگجوؤں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بجائے انہیں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں بھیج رہے ہیں،اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا یہی وطیرہ رہا تو علاقے سے داعش کا خاتمہ ممکن نہیں ہو پائے گا ،وہ پھر اچانک سے کسی نئے علاقے سے ابھر کر سامنے آئیں گے جہاں انہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد سے بمعہ اسلحہ منتقل کیا گیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...