منگل , 12 دسمبر 2017

مذہبی پارسائی کےدعوے دار دولت کے بچاری یہودی پیشوا!

صہیونی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاست دان اور حکمران طبقہ ہی کرپٹ نہیں بلکہ کرپشن کی دلدل میں فوج کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ساتھ پارسائی اور دین داری کا دعویٰ کرنے والے یہودی’ ربی’ بھی سرتا پا دھنسی ہوئے ہیں۔

عبرانی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی مذہبی قیادت میں کرپشن کہانی نئی نہیں بلکہ برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر اسے زیادہ توجہ حاصل نہیں ہوسکی اور میڈیا پر ’ربیوں‘ کی کرپشن کو ذرائع ابلاغ میں زیادہ اچھالا نہیں گیا، ورنہ کئی سرکردہ مذہبی لیڈر کرپشن کی وجہ سے عہدوں سے برطرف کیے گئے اور بعض کو تو جیلوں کی ہوا بھی کھانا پڑی ہے۔ مگر اس کے باوجود مذہبی طبقے میں کرپشن عام ہے اور بد عنوانی کے نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین نے اپنی رپورٹ میں صہیونی ریاست کی ’کرپشن کہانی‘ کا سلسلہ وار جائزہ رپورٹ میں اسرائیلی’ ربیوں’ کی کرپشن پربھی روشنی ڈلی ہے۔ اس سے قبل مرکزاطلاعات نے اسرائیلی سیاست دانوں بالخصوص حکمران طبقے کی کرپشن کی تفصیلات شائع کیں۔ کرپشن صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں بلکہ فوج، مذہبی پیشوا اور سماجی شعبے میں کام کرنے والے عناصر بھی اس بہتی گنگا میں ’حسب توفیق نہا رہے ہیں۔

صہیونی مذہبی لیڈروں کی کرپشن:
اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی ’1‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے دھوکہ دہی، لوٹ مار، خیانت اور قومی خزانے کونقصان پہنچانے کے الزام میں 4 سرکردہ یہودی لیڈروں کو حراست میں لیا۔ ان پر جھوٹی گواہیاں دینے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے چاروں یہودی ‘ ربی’ مذہبی کونسلوں کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔

مذہبی لیڈروں میں کرپشن کی دیگر اقسام کے ساتھ ساتھ جعلی اسناد کا حصول اور ان کی بنیاد پر سرکاری اور نجی شعبے میں ملازمتیں سمیٹنا بھی شامل ہے۔

عبرانی اخبار ’یدیعوت احرنوت‘ کی 13 ستمبر 2017ء کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مذہبی سیاسی جماعت ’شاس‘ کے ایک رکن پارلیمنٹ گویٹا اس وقت عہدے سے استعفیٰ دے دیا جب اس پرہم جنس پرستوں کی ایک شادی میں شرکت پر عوامی حلقوں میں شدید تنقید کی گئی۔ شاس پارٹی اور دیگر یہودی مذہبی حلقوں کی طرف سے گویٹا پر کڑی تنقید کی اور کہا گیا ہے کہ گویٹا کا ایک بھائی بھی ہم جنس پرست ہے اور اس نے ایک مرد کے ساتھ شادی کی ہے۔ ایسی شادیاں یہودی مذہبی تعلیمات کی سنگین خلاف ورزی سمجھی جاتی ہیں۔

عبرانی نیوز ویب پورٹل ’وللا‘ کی 10 ستمبر کو شائع رپورٹ میں کہا گیا کہ حریدیم نامی یہودی مذہبی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی پیشوا کو لواطت اور لڑکیوں کی عصمت ریزی کے الزام میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ موصوف پر الزام ہے کہ اس نے تین سگی بہنوں جو کہ اس کی قریبی عزیز ہیں کی عصمت ریزی کی۔ یہودی ‘ربی’ نے پولیس تفتیش کے دوراناقرار جرم کرلیا تھا۔

عہدوں کا ناجائز استعمال:
عبرانی اخبارات میں 10 اگست 2017ء کوایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں کہا گیا کہ ’سدیروت‘ کی یہودی مذہبی کونسل کے چیئرمین ’ارون ملکہ‘ نامی ایک یہودی ‘ربی’ پر چوری کے الزام میں فرد جرم پیش کی گئی ہے۔ اس پر اپنے عہدے کے ناجائز استعمال سمیت کئی دوسرے الزامات عائد ہیں۔

اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق کرپشن میں ملوث یہودی’ ربیوں’ میں ’اریہ درعی‘ بھی پیش پیش ہے۔ درعی اسرائیل کا وزیر داخلہ ہے اور اس کا تعلق المزراحی السفادیمی کی جماعت ‘شاش‘ سے ہے۔ اس نے مذہبی لیڈر عوفادیا یوسف کی سرپرستی میں ایک لاکھ 55 ہزار ڈالر کی رشوت وصول کی۔ سنہ 2000ء میں اسے رشوت خوری کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق کرپشن اسکینڈل سامنے آنے کے باوجود درعی اب بھی یہودی مذہبی حلقوں میں کافی مقبول ہے حالانکہہ وہ ایک وزیر کے عہدے سے برطرف ہونے کے بعد کرپشن کے الزام میں جیل گیا اور اب ایک بار پھر وزیر بن چکا ہے۔

پرانی کرپشن کے ساتھ ساتھ اس پر نئی کرپشن کے بھی الزامات ہیں۔ 29 جون 2017ء کو اسرائیلی اسٹیٹ کنٹرولر کی رپورٹ میں اریہ درعی پر اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر رشوت وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

یہودی کونسلوں میں کرپشن:
’گلوبز‘ عبرانی ویب سائیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کرپشن میں ملوث یہودی کونسلوں کے مذہبی لیڈروں کی ایک فہرست شائع کی ہے۔ اس فہرست میں بھی اسرائیل کی مذہبی شخصیات سر فہرست ہیں۔

ان میں سے چند نمایاں نام درج ذیل ہیں:-

نیسن سلمونسکی:
سلمونسکی ایک یہودی مذہبی جماعت ’المفدال‘ کا سربراہ ہے۔ اس کے علاوہ کنیسٹ [پارلیمنٹ] میں دستور اور انصاف کمیٹی‘ کا چیئرمین بھی ہے۔ اس نے فوج میں کیپٹن کے عہدے پر کام کیا۔ اس کے پاس یہودی مذہبی تعلیمات کی اعلیٰ ڈگری ہے۔ موصوف کچھ عرصہ سے ’الکانا‘ نامی یہودی کونسل کے چیئرمین رہے۔ یہ یہودی کونسل غرب اردن کے شمالی شہر سلفیت کی کالونیوں پر مشتمل ہے۔

سلمونسکی ’گوش امونیم‘ نامی ایک یہودی تحریک کا سیکرٹری جنرل بھی رہا ہے۔ یہ ایک نسل پرست تنظیم ہے۔ اس کے علاوہ گرب اردن کی ’یشع‘ یہودی کونسل کے مذہبی کمیٹی کا بھی ممبر رہ چکا ہے۔

سنہ 2006ء میں سلمونسکی پر اپنی ماتحت ملازم لڑکیوں پر جنسی تشدد کا الزام عائد کیا تاہم اس نے الزام قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سنہ 2017ء کے آغاز میں اس کے خلاف دو لڑکیوں کی طرف سے دائر کردہ جنسی تشدد کے مقدمہ کے قطعی ثبوت پیش کیے گئے جس کے بعد اس کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

مورڈ خائی [موزی] دھمن:
مورڈخائی دھمن بحر مردار کے شمال میں واقع یہودی علاقائی کونسل ’لمیگلوٹ‘ کا چیئرمین ہے۔ سیاسی طور پر اس کا تعلق مذہبی جماعت ‘اسرائیل بیتنا‘ سے ہے۔ اس پر رشوت دینے، لینے، ٹینڈر جاری کرتے ہوئے دھوکہ دہی، چوری، فراڈ، غلط بیان، غلط ریکارڈنگ کرنا اور کمپنی کی جعلی دستاویزات تیار کرنے جیسے الزامات ہیں۔

گرشون مسیکا:
مسیکا کا تعلق بھی ’اسرائیل بیتنا‘ سے ہے۔ وہ اس وقت سرکاری گواہ بن چکا ہے جب کہ ماضی میں وہ ’الون موریہ‘ یہودی کونسل کا چیئرمین اور ’شومرون‘ علاقائی کونسل کا سیکرٹری جنرل رہ چکا ہے۔

عبرانی ویب سائیٹ ’وللا‘ کے مطابق گرشون نے 22 نومبر 2015ء کو ایک فلسطینی خاتون کو غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں حوارہ کے مقام پر گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ اس سے قبل 2001ء میں بیت فوریک کے مقام پر ایک 90 سالہ فلسطینی کو اس نے گولیاں مار کر شہید کیا۔

حاییم بن شوشان:
حاییم بن شوشان ’اسرائیل بیتنا‘ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے غرب اردن کی ایک یہودی کونسل سے غیرقانونی طورپر قرض حاصل کیا۔ اس کا شمار’ یہودی ربیوں’ میں ہوتا ہے اور اس کی السامرۃ کے نام سے ایک کمپنی ہے جو یہودی آباد کاری میں پیش پیش ہے۔

ڈوف لیٹفینوف :
ڈوف لیٹفینوف کا سیاسی تعلق ’اسرائیل بیتنا‘ سے ہے۔ اس پر رشوت دینے، منی لانڈرنگ، کالا دھن سفید کرنے، امانت میں خیانت کرنے، جیسے الزامات ہے۔ لیٹفینوف بحر مردار کے مغربی ساحل پر واقع ’عید جدی‘ نامی ایک یہودی کونسل اور ’تمار‘ نامی یہودی کونسل کا چیئرمین رہا ہے۔

موشے ڈاڈون:
دسمبر 2015ء کو موشے ڈاڈون پر جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیاگیا۔ اس پر عصمت ریزی، رشوت وصولی، اور دیگر الزامات ہیں اورانہی الزامات کے تحت اسے فروری 2016ء کوگرفتار کیا گیا۔ وہ فوج میں فضائیہ میں ملازمت کے ساتھ القدس میں ایک یہودی کونسل کا چیئرمین بھی رہا ہے۔

یتزحاق بوریا:
اسرائیل بیتنا نامی یہودی مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے ’یتزحاق‘ بویا ’آفعا‘ نامی ایک کمپنی کا چیف ایگزیکٹو ہے۔ یہ کمپنی اسرائیل میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے والی سب سے بڑی کمپنی شمار کی جاتی ہے۔ دیمونا ایٹمی پلانٹ کا فضلہ اور تما علاقائی کونسل اور یروھام کونسل کا بھی سربراہ ہے۔

ایوی بیلیس:
بیلیس بھی اسرائیل کا ایک مذہبی لیڈر ہے اور اس کا تعلق اسرائیل بیتنا سے ہے۔ اس پر امانت میں خیانت کرنے، منی لانڈرنگ، کالا دھند سفید کرنے، رشوت وصول کرنے جیسے الزامات ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...