منگل , 12 دسمبر 2017

مصر نے مفاہمتی معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ غزہ کی سرحد کھول دی

غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصر نے حماس کے ساتھ مفاہمتی معاہدے کے بعد فلسطین کے علاقے غزہ کے ساتھ منسلک طویل عرصے سے بند اپنی سرحد کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔مصر حکام نے غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع گزرگاہ ’رفح کراسنگ پوائنٹ‘ کو فلسطینی حکام کو دینے کا فیصلہ کرلیا جو 2007 سے بند تھا۔

ذرائع کے مطابق فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ پوائنٹ کو کھول دیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر 3 روز تک کھلا رہے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصر وزارتِ داخلہ کو انسانی حقوق کی بنیادوں پر موصول ہونے والے کیسز کے پیش نظر سرحد کھولی جائے گی۔

انہوں نے کہا فلسطین کی طرف تمام شہری اور سیکیورٹی اہلکار وزیراعظم رمی حمد اللہ کی مفاہمتی حکومت کے ملازمین ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ سے اب تک 20 ہزار افراد نے مصر جانے کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں تاہم اب تک 10 بسیں مسافروں کو لے کر مصر روانہ ہو چکی ہیں۔

غزہ سے بذریعہ مصر، یورپ کے ملک رومانیہ کا سفر کرنے والے ایک مسافر ایاض ابو الخیر نے بتایا کہ گزشتہ 11 برس کی اس بندش کی وجہ سے غزہ میں رہنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ کہ اس سرحد کے ذریعے ہی ان کے علاقے میں اشیائے خوردونوش سمیت دوائیں بھی جاتی ہیں تاہم انہوں نے امید ظاہر کی یہ سرحد ایک اچھے فعل کے لیے کھلی رہے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاملات بہتر ہو رہے ہیں اور اب لوگ یہاں سے دنیا کے دیگر ممالک میں سفر کر سکتے ہیں اور اپنے کارروبار کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیاں بھی شروع کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس اگست کے مہینے سے غزہ اور مصر کی سرحد مکمل طور پر بند ہے جبکہ گزشتہ 10 سالوں سے سرحد ایک بڑا حصہ بند تھا۔

حماس کے زیر انتظام غزہ میں وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس سال سرحد کو صرف 14 روز کے لیے کھولا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ فلسطینی حکومت اور حماس کے درمیان ہونے والے ’فلسطینی مفاہمتی معاہدے‘ کے تحت حماس نے مغربی کنارے پر موجود فلسطینی حکام کو آئندہ ماہ یکم دسمبر تک علاقے کا سول کنٹرول حکومت کے سپرد کرنا ہے، اس حوالے سے انہوں نے رواں ماہ یکم نومبر کو سرحد کا کنٹرول فلسطینی حکام کے حوالے کردیا تھا۔

مصر کی ثالثی کے باعث ہونے والے اس معاہدے کے تحت امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے رفح کراسنگ کو باقاعدگی کے ساتھ کھولا جاتا رہے گا۔

غزہ میں پبلک ورکس اینڈ ہاؤسنگ کے وزیر مفیض الحسینیہ کا کہنا تھا کہ رفح کراسنگ کا فعال ہونا مفاہمتی حکومت کا پہلا اقدام ہے جبکہ یہ ’متحدہ حکومت‘ اپنی ذمہ داریاں لینے اور علاقے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بھرپور تیار ہے۔

فلسطینی سیکیورٹی سروسز کے سربراہ ماجد فراج نے حماس کے سینئر رہنما یحیٰ سنوار سے غزہ میں 2 روز قبل ملاقات کی جبکہ موجودہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے تمام فلسطینی سیاسی جماعتوں کا اجلاس آئندہ ہفتے مصر کی دار الحکومت قاہرہ میں منعقد کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی پارلیمنٹ کے نمائندوں کا اسلامی ممالک سے اسرائيل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے 235 نمائندوں نے اسلامی ممالک سے ...