منگل , 12 دسمبر 2017

سعودی ولی عہد بن سلمان پر قاتلانہ حملہ ناکام

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں اصلاحات اور انسداد بدعنوانی کے بہانے غیرمعمولی سطح پر گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ برطانیہ کے بعض معتبر جرائد نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں متعدد سینیئر فوجی افسران کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

بلومبرگ نے لکھا ہے کہ ایک ایسے وقت جب سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اصلاحات کے بہانے درحقیقت اپنے مخالفین کو کچل رہے ہیں۔ایک سعودی ذریعے نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط بتایا ہے کہ نیشنل سیکورٹی گارڈ اور وزارت دفاع کے چودہ سینیئر ریٹائرڈ فوجیوں کو اب تک گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان پر الزام ہے کہ ان لوگوں نےمشتبہ اور مشکوک مالی معاہدے کئےتھے۔

ان فوجی افسران کی گرفتاری کے بعد پچھلے ہفتوں کے دوران سعودی عرب میں گرفتار کئے گئے اعلی عہدیداروں کی تعداد دوسو سے تجاوز کرگئی ہے ان میں چار وزیر اور گیارہ شہزادے بھی ہیں جن میں ملک کے سابق ولعیہد بھی شامل ہیں۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ یمن میں ناکامی بھی بعض سعودی فوجی افسران کی گرفتاری کی وجہ بتائی جارہی ہے۔

اس درمیان لبنان کے اخبار الدیار نے لکھا ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان پر ریاض میں ناکام قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔اخبار الدیار لکھتا ہے کہ سعودی عرب کے نیشنل سیکورٹی گارڈ کے پانچ افسران نے جو سابق ولیعہد شہزادہ متعب بن عبداللہ کے زیرکمان رہے ہیں ہفتے کو ایک کار میں سوار ہو کر محمد بن سلمان اور ان کے ہمراہ لوگوں کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں محمد بن سلمان کے کئی محافظ زخمی ہوگئے تاہم محمد بن سلمان اس حملے میں بال بال بچ گئے کیونکہ ان کی کار بلٹ پروف تھی۔

خبروں کے مطابق اس ناکام قاتلانہ حملے کے بعد محمد بن سلمان تیزی کے ساتھ وزارت دفاع کی عمارت میں جاکر پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکار اب تک ان حملہ آوروں کی شناخت اورانہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

سعودی عرب کی موجودہ شاہی حکومت نے انسداد بدعنوانی کے خلاف مہم کے تحت اب تک دسیوں شہزادوں، وزیروں اور اعلی عہدیداروں کو گرفتار کرلیا ہے جن میں سابق ولیعہد متعب بن عبداللہ بھی شامل ہیں جو ماضی میں نیشنل سیکورٹی گارڈ کے سربراہ بھی رہ چکےہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین نے سعودی شہزادوں کی گرفتاری کو نرم بغاوت کا نام دیا ہے اور آل سعود خاندان کے ایک ذریعے کےحوالے سے خبردی ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان آئندہ ہفتے تخت شاہی سے کنارہ کشی اختیار کرکے سلطنت کی باگ ڈور اپنے بیٹے کے سپرد کرنے والے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بھی لکھا ہے کہ محمد بن سلمان نے سعودی شہزادوں، وزیروں اور بڑے بڑے تاجروں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اثاثے بھی منجمد کرد یئے ہیں۔

بعض خبری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو اسی وقت رہا کیا جائے گا جب وہ اپنی دولت کا ستر فیصد حصہ حکومت کے حوالے کردیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی پارلیمنٹ کے نمائندوں کا اسلامی ممالک سے اسرائيل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے 235 نمائندوں نے اسلامی ممالک سے ...