منگل , 12 دسمبر 2017

بن سلمان الحریری کی واپسی کے لبنانی مطالبے پر آگ بگولہ

(تسنیم خیالی)
لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کا معاملہ اور اس معاملے سے پیدا ہونے والی صورتحال کافی پیچیدہ ہے اگرچہ الحریری اس وقت فرانس میں ہیں مگر ان کا فرانس جانا آسان نہیں تھا خاص طور پر کہ جب ان کے دونوں بیٹے ابھی سعودی عرب میں تعلیم کی غرض سے موجود ہیں۔

سعودی عرب میں خاص ذرائع کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اس وقت آگ بگولہ ہوگئے تھے جب لبنانی قیادت بالخصوص لبنانی صدر میشال عون نے سعد الحریری کا استعفیٰ قبول نہ کرتے ہوئے الحریری کی فوراً لبنان واپسی کا مطالبہ کیا ۔

ذرائع کے مطابق بن سلمان بارہا یہی دہرا رہے تھے کہ سعد الحریری سعودی شہری ہیں اور لبنان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ الحریری کی واپسی کا مطالبہ کرے خواہ وہ لبنان کا صدر ہی کیوں نہ ہوں۔یہ جملہ بن سلمان بارہا ان لوگوں کو سنا رہے تھے جو الحریری کی سعودی عرب سے لبنان واپسی کیلئے سعودی ولی عہد سے رابطہ اور ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے جنہوں نے بن سلمان کی اس عجیب منطق کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق فرانسیسی صدر میکرون نے بن سلمان کو خبردار کیا تھا کہ لبنانی حکومت الحریری کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جارہی ہے اور ایسی صورتحال میں فرانس الحریری کی آزادی کے مطالبے پر لبنان کی حمایت کرے گا۔لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ الحریری کا معاملہ بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے حل کیا جائے۔

علاوہ ازیں ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اماراتی ولی عہد محمد بن زاید بھی بن سلمان کو منانے کیلئے میدان میں آئے اور گھنٹوں تک جاری رہنے والی بحث و مباحثے کے بعد طے یہ پایا کہ الحریری اپنے استعفے سے نہیں مکریں گے ،اور لبنان جاتے ہی الحریری باقاعدہ طور پر اپنا استعفیٰ لبنانی صدر کو پیش کرینگے۔

علاوہ ازیں بن سلمان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ الحریری مستقل طور پر لبنان میں نہیں قیام کریں گے اور پیرس واپس جائیں گے البتہ میکرون نے بن سلمان کی یہ شرط مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ الحریری لبنانی حکومت کے سربراہ ہیں اور انہیں حق حاصل ہے کہ وہ اپنے وطن لبنان یا کہیں اور جب چاہیں قیام کریں۔کیونکہ یہ معاملہ لبنانی اور لبنانیوں کی خودمختاری کا ہے۔

مذکورہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے واضح ہوتا ہے کہ الحریری کا سعودی عرب سے نکلنا آسان کام نہیں تھا اور اس سے یہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ سعودی عرب سے دوستی انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور یہ بھی سبق ملتا ہے کہ دوہری شہریت کے حامل افراد کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ سیاست سے دور رہیں اور اقتدار میں نہ آئیں وگرنہ الحریری جیسی ذلت آمیز صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے جس میں ذاتی بے عزتی تو ایک طرف اپنے اصل مالک کی بھی بے عزتی ہوجاتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...