منگل , 12 دسمبر 2017

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

گھر مویشی اور بہنوں کے زیورات بکوا کر یورپ لے جانے کے خواب دکھ…

گھر مویشی اور بہنوں کے زیورات بکوا کر یورپ لے جانے کے خواب دکھانے والے ایجنٹس کی حقیقت نوجوان اس دل دہلا دینے والی ویڈیو کو ایک با رضرور دیکھ لیں

Posted by Iblagh News on Sonntag, 19. November 2017

(افشاں ملک)
بلوچستان کے ضلع کیچ میں بلیدہ کے مقام پہ ایک سڑک سے 15 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کوگولیاں مار کر بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا ہے۔ کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے ان افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد پاکستانی فوج کی تعمیراتی کمپنی فرنٹئیر ورکس آرگنائز یشن کی جانب سے سی پیک منصوبے میں شامل ایک سڑ ک کی تعمیر میں حصہ لے رہے تھے جس کی بنیاد پہ ان کو مارا گیا ہے۔کالعدم تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوسرے صوبوں سے کام کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ بلوچستان میں مت آئیں، بلوچ علاقے وار زون ہیں۔ان بدقسمت نوجوانوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں کے انتہائی غریب گھرانوں سے تھا۔ دہشت گردوں نے بے گناہ افراد کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دیا کہ وہ جب اور جہاں چاہیں ، کارروائی کر سکتے ہیں۔

دہشتگردوں کے حملے صرف مزدوروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ گزشتہ ہفتے کوئٹہ میں ڈی آئی جی رینک کے ایک اور پولیس افسر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ دہشت گردی کی نئی وارداتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں کو نہ صرف وسعت دے دی ہے بلکہ انہوں نے نئے طریقے اختیار کر لئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے سیکورٹی اداروں کے ایسے افسروں اور جوانوں پر حملے کیے جاتے ہیں ، جن کی سیکورٹی زیادہ نہیں ہوتی یا بالکل نہیں ہوتی۔ عام لوگوں میں غریب اور نہتے لوگ ان کا شکار بنتے ہیں لیکن دہشت گرد اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ عام لوگوں کا قتل کرکے وہ ایک مخصوص پیغام دیں۔ خاص طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے ، جو مزدور اور محنت کش ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تربت میں جن نوجوانوں کو قتل کیا گیا ہے ، انہیں انسانی اسمگلر ایرانی سرحد کی طرف لے جا رہے تھے اور انہیں بیرون ملک نوکریوں کا جھانسہ دیا گیا تھا۔ مقتول نوجوانوں کے ساتھ قافلے میں اور لوگ بھی تھے لیکن رپورٹس کے مطابق قافلے میں شناختی کارڈ دیکھ کر پنجاب کے نوجوانوں کو الگ کیا گیا اور انہیں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ایسے واقعات کی ذمہ داری علیحدگی پسند تنظیموں کی طرف سے قبول کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی بھی ہوتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سیکورٹی اداروں کے افسروں اور جوانوں نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لئے خود بھی بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کی قربانیوں اور کوششوں کی جس قدر ستائش کی جائے وہ کم ہے لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکا ہے اور حالات مزید خراب ہونے کے خدشات بھی بے جواز نہیں ہیں۔ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہم نے مزید تاخیر کی تو بلوچستان کے حالات پر کنٹرول کرنے میں مشکلات بڑھتی جائیں گی۔ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں دیواروں ، ڈبل کیبن بسوں اور ٹیکسیوں پر کھلے عام بینرز آویزاں نظر آتے ہیں ، جن پر بلوچستان کی آزادی کے نعرے تحریر ہوتے ہیں۔ مختلف عالمی فورمز پر پاکستان مخالف لابی بلوچستان کے ایشو کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ بلوچستان خصوصاً کوئٹہ سمیت جنوب مغربی بلوچستان میں اخبارات کی تقسیم بھی ممکن نہیں رہی ہے۔ وہاں کام کرنے والے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے لوگوں کی زندگیاں اور روزگار خطرے میں ہیں۔ بلوچستان کی شاہراہوں پر سفر پر خطر ہو گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلوچستان کے عام لوگ حالات کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بلوچستان کی سیا سی قوتیں حالات سے لاتعلق ہیں۔ بلوچستان کے مرکزی اور صوبائی حکومت میں شامل سیاسی رہنما ء ہوں یا اپوزیشن کے لوگ ، کوئی بھی کھل کر بات نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی معاملات میں اپنے آپ کو ملوث کرنا چاہتا ہے۔ بلوچستان میں سیکورٹی کے حوالے سے جو پالیسی بنائی گئی ہے ، اس میں بلوچستان کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر سیاسی قوتوں کا بھی کوئی عمل دخل نہیں ہے اور انہوں نے تمام معاملات سیکورٹی اداروں پر چھوڑ دئیے ہیں۔ اس طرح بلوچستان کی سیکورٹی پالیسی میں کوئی سیاسی اپروچ نہیں ہے۔ حقائق کو سمجھنا پڑے گا۔

موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے۔ اس میں سیکورٹی اداروں کا بھی کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ سیاسی قوتیں اب ان حالات میں گہرے پانیوں میں نہیں اترنا چاہتی ہیں۔ اگر سیاسی قوتیں ان حالات میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی ہیں یا ان کے کردار کے لئے کوئی محفوظ راستہ نہیں بنایا جاتاتو بحیثیت قوم ہماری تدبیروں کے لئے وقت محدود ہوتا جائے گا۔بلوچستان کے قدرتی وسائل اور اس کے محل وقوع کی وجہ سے یہاں کی سرزمین کو عالمی قوتوں کے مفادات کی جنگ کا میدان بنانے کے لئے بہت سازشیں ہو رہی ہیں۔ سیاسی قیادت اور عسکری حلقوں کو اب مل بیٹھ کر بلوچستان کی صورت حال پر سوچنا ہو گا اور نئی حکمت عملی فوری طور پر وضع کرنا ہو گی۔اس کے ساتھ ساتھ یہ اہم کام بھی کرنا ہوگا کہ بلوچستان کے عوام میں پایا جانے والا احساس محرومی دور کیا جائے کیونکہ جب تک بلوچ عوام کا احساس محرومی دور نہ کیا گیا تو اس سلسلے میں کی جانے والی تمام کوششیں بار آور ثابت نہ ہوں گی۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...