منگل , 12 دسمبر 2017

تربت سے آنے والی لاشیں۔ دشمن بھی پرانا ، ہتھیار بھی پرانا


(مزمل سہروردی )
پاکستان اس وقت سنگین مسائل کا شکار ہے۔ لیکن ایسا ہر ملک کے ساتھ ہو تا ہے۔ مسائل کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے لیکن دنیاکا کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں مسائل نہ ہوں۔ ترقی پذیر ممالک بھی مسائل کا شکار ہیں جب کہ ترقی یافتہ ممالک بھی مسائل کا شکار ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے معاشرہ میں غریب بھی مسائل کا شکار ہے اور امیر بھی مسائل کا شکار ہیں۔ بس مسائل کی نوعیت فرق ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اقتصادی بحران اور سیاسی وجمہوری مسائل اپنی جگہ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے درمیان رشتہ کمزور کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ مشرقی اور مغربی جرمنی کئی دہائیوں بعد دوبارہ اکٹھے ہو گئے کیونکہ ان کے درمیان اتحاد و محبت کا رشتہ نہیں ٹوٹا تھا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم ملک کو جبری طور پر نہ تو اکٹھا رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی جبراً توڑ سکتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو دل سے قبول کرنا ہو گا، تب ہی یہ ملک اکٹھا رہ سکتا ہے۔ دشمن یہ جانتا ہے کہ کوئی اقتصادی یا سیاسی بحران ہمیں کمزور نہیں کر سکتا۔ صرف اکائیوں کے درمیان فاصلہ ہی ہمیں کمزور کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ ہم ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔

تربت میں قتل ہونے والے پنجابی اگر دیکھا جائے تو کوئی بڑا واقعہ ہے بھی نہیں۔ قتل ہر ملک میں ہوتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ملک بھی اس لعنت سے پاک نہیں ۔ رزق کی تلاش میں دیار غیر کا سفر بھی کوئی نیا مظہر نہیں ہے۔ میں اپنے بچپن مین سنتا تھا کہ کراچی صرف روشنیوں کا شہر ہی نہیں بلکہ پنجاب سے لوگ رزق اور بہترین مواقع کی تلاش میں کراچی جاتے تھے۔ میرے اپنے ایک ماموں لاہور سے کراچی جا کر بس گئے تھے ۔ اسی طرح میرے چچا بھی لاہور سے کراچی جا کر بس گئے تھے۔ میرے والد عالم جوانی میں لاہور سے کراچی شفٹ ہوئے تھے لیکن پھر چند سال بعد لاہور واپس آگئے تھے۔

یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جب کراچی روشنیوں کا شہر تھا حقیقی معنوں میں ملک کا معاشی حب تھا ملک کا حقیقی مرکز تھا لیکن پھر کیا ہوا کراچی سے پنجابیوں کی بوری بند لاشیں آنا شروع ہو گئیں۔ پٹھانوں کے خلاف نفرت کی ایک تحریک شروع ہو گئی۔ کراچی کو تباہ کرنے کی سازش کرنے والوں نے پہلے کراچی کو ملک کے دوسرے حصوں سے الگ کیا اور پھر کراچی کو تباہ کیا۔ مہاجروں کو یہ سمجھایا گیا کہ یہ پنجابی آپ کا حق کھا رہے ہیں۔ یہ پٹھان آپ کا حق کھا رہے ہیں۔ یہ چلے جائیں گے تو مہاجروں کو ان کا حق مل جائے گا۔ کراچی کے وسائل پر صرف مہاجرین کا حق ہے۔ ہم اور کسی کو کراچی میں رہنے نہیں دیں گے۔ نتیجہ کیا ہوا کراچی سے پنجابی واپس آنا شروع ہو گئے۔

میرے جو ماموں ساٹھ کی دہائی میں کراچی جا کر آباد ہو گئے تھے آج ان کے بچے لاہور واپس شفٹ ہو چکے ہیں کیونکہ وہ تیس سال کراچی میں رہنے کراچی میں پیدا ہونے اور کراچی میں تعلیم حاصل کرنے کے باجود کراچی والے نہیں تھے وہ پنجابی تھے ۔ بدلتے کراچی میں وہ غیر محفوظ تھے۔ اسی طرح میرے چچا بھی دہائیاں کراچی میں رہنے کے بعد بچوں سمیت لاہور واپس آگئے۔ ایسی سینکڑوں نہیں ہزاروں کہانیاں موجود ہیں۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس سے کراچی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مہاجروں کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ فائدہ پاکستان کے دشمنوں کو ہوا کہ انھوں نے پاکستان کی اکائیوں کے درمیان فاصلے پیدا کیے۔ ۔

آج بلوچستان کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ دشمن بھی وہی ہے۔ اس کی چالیں بھی وہی پرانی ہیں۔ وہی پنجابی سے نفرت کا نعرہ۔ پنجابی بلوچستان کے وسائل کھا جائیں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئٹہ میں کئی دہائیوں سے آباد پنجابی بھی واپس پنجاب شفٹ ہورہے ہیں۔ بلوچستان سے بھی فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تربت سے آنے والی بیس پنجابی نوجوانوں کی لاشیں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ دشمن اپنا کھیل کھیل رہا ہے۔ آپ لندن اور یورپ میں ٹیکسیوں پر بلوچستان کے حوالے سے لکھی گئی پاکستان مخالف تحریروں پر پریشان ہیں، میں یہاں بلوچستان کو باقی پاکستان سے کاٹنے کے عمل پر پریشان ہوں۔ نفرت کے جو بیج آج بوئے جا رہے ہیں، اس کی فصل بہت زہریلی ہو گی۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کل جب کراچی میں یہ کھیل کھیلا جا رہا تھا تو ہم چپ تھے اور آج جب بلوچستان میں یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے تو بھی ہم چپ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس چال کو آج یہیں پر ناکام کیا جائے۔

ہمیں ماننا ہو گا کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے صوبوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے پاکستان کی سیاسی قیادت کو استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ہم مزید اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں پاکستان میں محبت کے رشتوں کو مضبوط کرنے کا لائحہ عمل بنانا ہو گا۔

ہماری نوجوان نسل ایک دوسرے کو نہیں جانتی۔ پنجاب کے نوجوان اب سیر کرنے بھی بلوچستان نہیں جاتے۔ کوئی زیارت نہیں جاتا۔ کوئی چاغی نہیں جاتا۔ کوئی تربت نہیں جاتا۔ آج کی نوجوان نسل ان علاقوں کو نہیں جانتی۔ کراچی جانا بھی بہت کم ہو گیا۔ لوگ دبئی چلے جاتے ہیں لیکن کراچی نہیں جاتے۔ خیبر پختونخوا میں بھی بہت کم جاتے ہیں۔فاٹا میں تو شاید ہی کوئی پنجابی جاتا ہو۔

اسی طرح تعلیم میں ابھی ایسا ہی ہوگیا ہے۔ پنجابی طلباء بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ کراچی میں بھی مشکلات ہیں۔خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں بھی نہیں جاتے ہیں۔ حالات سب طرف ایک جیسے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں بھی جن بلوچ بچوں کو داخل کیا گیا تھا انھیں بھی بے پناہ مسائل کا سامنا رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہ رہا کہ سارا ظلم پنجاب پر ہو رہا ہے۔ یقیناً تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے اور تالی بج رہی ہے۔ کہیں نہ کہیں پنجاب کا بھی قصور ہو گا۔

حالیہ دہشت گردی کی لہر میں لاہور اور پنجاب کے بعض علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران پٹھانوں کو ٹارگٹ کیا گیا، اس پر بہت شور بھی مچا۔ کے پی کے سے بہت شور بلند ہوا۔ کے پی کے کے کئی سیاستدان لاہور آئے اور انھوں نے لاہور میں بسنے والے پٹھانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا لیکن تربت کے سانحہ پر ایسا نہیں ہوا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اور ملکی سلامتی کے اداروں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔ آہستہ آہستہ ہمارا ملک ایک دوسرے کے لیے نو گو ایریا ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ میرا پاکستان، یہ تیرا پاکستان، اس طرح سے پاکستان نہیں چل سکتا۔

پاکستان کو اگر ترقی کرنی ہے تواسے اپنے اندر محبت یگانگت کی فضا کو ہموار کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کا بازو بننا ہو گا۔ بلیم گیم ختم کرنا ہو گی۔ دل اور گھر کے دروازے کھولنے ہوںگے۔ لیکن یہ سب کیسے ہو گا۔ مجھے تو اس طرف بڑھتا ایک قدم بھی نظر نہیں آرہا۔ معذرت کے ساتھ جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ پنجابی مارنے سے بلوچستان میں خوشحالی نہیں آسکتی۔ لاہور سے پٹھان نکالنے سے لاہور خوشحال نہیں ہو سکتا۔ خیبر پختونخوا میں پنجابیوں کے خلاف نفرت پھیلانے سے خیبر پختونخوا ترقی نہیں کرسکتا،جیسے کراچی سے پنجابیوں کی بوری بند لاشوں سے کراچی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، ہم سب نقصان میں ہیں ۔ بس یہ سمجھنا ہوگا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...