منگل , 12 دسمبر 2017

ٹرمپ نے شمالی کوریا کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دے دیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دیتے ہوئے بہت جلد کم جونگ ان کے جوہری ہتھیاروں کو بلیک لسٹ قرار دینے کا اعلان کردیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران شمالی کوریا کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا، کئی برس قبل ہونا چاہیے تھا’۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا پہلے ہی امریکا اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی ذد میں ہے اس لیے دہشت گردی کے معان کا درجہ دینے سے اس کی معاشی صورت حال پر فوری کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

دوسری جانب امریکی حکام کا خیال ہے کہ سابق صدر جارج بش کی جانب سے 2008 میں پابندی ہٹائے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر پابندی سے پیانگ یانگ پر دباؤ بڑھے گا اور دیگر ریاستیں جنھوں نے مکمل طور پر پابندی نہیں لگائی ہے وہ بھی لگادیں گی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘شمالی کوریا نے دنیا کو جوہری تباہی کی دھمکیوں سمیت دوسروں کی سرزمین پر سیاسی قتل کر کے مسلسل عالمی دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے’۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں کم جونگ ان کے سیاسی حریف بھائی کو قتل کیا گیا تھا جس کا الزام پنانگ یانگ پر لگایا گیا تھا۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘جب ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے تو ہمارے خیالات اوٹو وارمبر اور شمالی کوریا کی جارحیت سے متاثر ہونے والے دیگر افراد کا خیال ہے’۔

اوٹو وارمبر 22 سالہ طالب علم کا تعلق امریکا سے تھا جو شمالی کوریا میں حراست کے دوران کوما میں چلا گیا تھا تاہم بعد میں ان کا اتنقال ہوا تھا جس کے حوالے سے امریکا کہنا تھا کہ انھیں حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ معاون دہشت گرد کا درجہ دینے کے علاوہ امریکا، پیانگ یانگ کو جوہری میزائل پروگرام سے دستبردار کروانے کے لیے دیگر پابندیوں کی تیاری کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘محکمہ قانون، شمالی کوریا پر اضافی اور بھاری پابندیوں کا اعلان کرے گا’۔امریکی صدر نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ اگلے دو ہفتوں میں ہوگا اور اعلیٰ سطح کی پابندیاں ہوں گی’۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ کم جونگ کی حکومت کو عالمی بلیسٹک میزائل کی صلاحیت کو امریکی شہروں تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ‘شمالی کوریا کی حکومت قانون پر ضرور عمل کرے اور وہ اپنے غیرقانونی بلیسٹک میزائل کی ترقی کو ختم کرے اور عالمی دہشت گردی کے لیے تعاون کو ختم کرے جس کو انھوں نے ختم نہیں کیا’۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پیانگ یانگ 2006 سے اب تک 6 نیوکلئیر دھماکوں اور دیگر جئی میزائل تجربوں کے بعد گزشتہ چند ماہ میں شدید دباؤ میں ہے۔

کم جونگ ان کا اصرار ہے کہ وہ عالمی پابندیوں سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کریں گے اور امریکا اور جنوبی کوریا کی مداخلت کے خلاف اپنے دفاع کو حق رکھتے ہیں۔

امریکا کی جانب سے شمالی کوریا کے اہم تجارتی شراکت دار چین پر بھی دباؤ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر پابندی کے لیے دباؤ ڈالے اور کم جونگ کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے دباؤ بڑھائے۔

یہ بھی دیکھیں

اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس ایران کے صدر کی شرکت

اتہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر کی جانب سے امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل ...