منگل , 12 دسمبر 2017

کرپٹ عناصر کے خلاف نیب کی زیرو ٹالرنس پالیسی

پیر کو لاہور ریجنل آفس میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیب کسی صوبے، پارٹی اور فرد سے انتقامی کارروائی کے لیے نہیں بنا بلکہ بلاتفریق زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے اور ان کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ابتدائی سرزنش اور نئے چیئرمین کے آنے کے بعد قوم کی نیب سے توقعات کا گراف بھی بڑھا ہے، اس کی وجہ بدعنوانی، عدم احتساب ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور وسائل سے زیادہ آمدنی اور غیر اخلاقی ذرایع سے لوٹی ہوئی دولت کے ارتکاز نے اقتصادی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا بلکہ عدالت عظمیٰ تو انتظامی گراوٹ اور کرپشن عفریت کے معمولات زندگی اور اشرافیائی طرز حکمرانی میں سرایت پر متعدد بار سخت ریمارکس دے چکی ہے۔

ادھر ان ٹچ ایبل وائٹ کالر کرمنلز کی طرف سے یہ کس قدر افسوس ناک بیانیہ آتا رہا ہے کہ کرپشن اب تو معمولات زندگی کا حصہ اور مراعات یافتہ طبقات کے لیے ناگزیر ضرورت ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کرپشن کے وائرس اور ہوس زر کی غیر اخلاقی دوڑ نے ملک میں غربت کے خاتمہ اور خط افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والوں کی طرف کبھی توجہ نہیں دی، جمہوریت سے عوام کو معمولی ریلیف بھی انقلابی اقدام اور شاہانہ عطیہ سمجھ کر دی جاتی رہی ہے۔ نیب کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک84ارب ڈالر کا مقروض ہے، اس لیے ان عناصر کے خلاف انتہائی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ نیب نے 179میگا کرپشن مقدمات میں سے96مقدمات عدالت میں دائر کیے جب کہ 25 مقدمات انکوائری اور25مقدمات تفتیش کے مراحل سے گزر رہے ہیں، 33مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جاچکا ہے، اس کے علاوہ تمام ریجنل بیوروز سے3 ماہ کے اندر تمام باقی مقدمات پر قانون کے مطابق کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے، اس وقت نیب لاہور میں صرف ایک میگا کرپشن مقدمہ ہے جس کی وجہ سے یہاں کی کارکردگی بہتر ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے، ہمارے تمام اقدامات ملک سے بدعنوانی کے ساتھ ساتھ قانون کے دائرے میں ہونے چاہئیں میگا مقدمات، وائٹ کالر مقدمات اور دیگر مقدمات قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے چاہئیں، نااہل، بدعنوان اور قانون شکن افسران کی نیب میں کوئی جگہ نہیں ہوگی، محنت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کو فروغ دیا جائے گا۔ چیئر نیب نے زیرہ ٹالرنس کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ ملک کو کرپشن فری بنانے کی سمت ایک اہم پیش قدمی ہوگی ،کرپشن اور بدعنوانی کا ہر راستہ بند ہوگا تو طرز حکمرانی میں تطہیر اور جوابدہی و احتساب کے ثمرات از خود سامنے آنا شروع ہوجائیں گے، صرف ہمہ وقتی مانیٹرنگ اور احساس فرض کی ضرورت ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...