منگل , 12 دسمبر 2017

عرب ممالک کی بدبختی

(تسنیم خیالی)
حال ہی میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا مصری دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے پلیٹ فارم پر اہم اجلاس منعقد ہوا جسکے اختتامی بیان سے واضح ہوچکا ہے کہ عرب لیگ سعودی عرب کے ہاتھوں ہائی جیک ہوچکی ہے اور بیشتر عرب ممالک سعودی عرب کی خود غرضی ،بے حسی اور سازشوں کے آگے بے بس ہوچکے ہیں۔

عرب ممالک اس وقت تین حصوں میں بٹ چکے ہیں ایک حصہ وہ ہے جو سعودی عرب کی اندھی پیروی کرتے ہوئے سعودی عرب کی ہر معاملے میں تائید کرتے پھیرتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس حصے کو دیگر دو حصوں پر غلبہ حاصل ہے ۔

دوسرا حصہ ان عرب ممالک پر مشتمل ہے جو سعودی پالیسیوں پر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ تیسرا حصہ ان عرب ممالک پر مشتمل ہے جو سعودی عرب کی پالیسیوں کی کھلی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں جو کہ گنے چنے ممالک ہیں۔

قاہرہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب نے ایران اور حزب اللہ کی رٹ لگائے رکھی جس کے بعد اجلاس کے اختتامی بیان میں جہاں ایک طرف ایران کی سعودی الزامات کو بنیاد بناتے ہوئے عرب ممالک میں مداخلت کی مذمت کی گئی تو دوسری طرف حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا جس پر لبنان اور عراق نے اعتراض کیا۔

سعودی عرب نے اس اجلاس میں صرف اور صرف اپنی کھلی من مانی کی،یمن میں اپنی ناجائز جنگ کو جائز قرار دیا،شام میں اپوزیشن کے نام سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے حق میں آواز بلند کی ۔ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دلوایا اور قطر کا شور مچاتا رہا۔

اس اجلاس میں سب اہم بات یہ تھی کہ سعودی عرب نے حزب اللہ کو بالآخر دہشت گرد تنظیم قرار دلوا دیا جو کہ عرب ممالک کی بد بختی کے سوا اور کچھ نہیں۔حزب اللہ نے دہائیوں سے لبنان کو صیہونی ریاست سے بچائے رکھا ہوا ہے۔حزب اللہ نے شام میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے شامی حکومت کا ساتھ دیا جبکہ سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک نے شام کو دہشت گردی کا گڑھ بنایا۔

حزب اللہ نے لبنان کو داعش کے حملوں سے بچایا اور حزب اللہ نے ہی عراقیوں کی جان داعش سے چھڑانے میں مدد کی اور حزب اللہ نے ہی علاقے میں اسرائیلی اور امریکی منصوبوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور آج سعودی عرب نے اپنے پیسے اور غنڈا گردی کے بل بوتے پر حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دلوا دیا۔

عرب لیگ وزراء خارجہ اجلاس کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ اجلاس میں صیہونی ریاست کا ذکر کیا ہی نہیں گیا اور نہ ہی صیہونیوں کی طرف سے فلسطینیوں پر جاری مظالم کی مذمت کی گئی اور نہ ہی اسرائیل کی شامی علاقوں پر فضائی حملوں کی مذمت کی گئی۔

بن سلمان نے شہزادوں کو گرفتار کیوں کیا؟ ایک اور فرضیہ
تسنیم خیالی

سعودی عرب میں درجنوں شہزادوں کی بدعنوانی کے تحت گرفتاریوں کے بعد کئی فرضیے ان گرفتاریوں کی وجہ تشریح کرنے لگے۔کسی نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ملک میں کئی سالوں سے جاری بدعنوانیوں اور کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، کسی اور نے کہا کہ بن سلمان کی بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف مہم آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور ان گرفتاریوں کے پیچھے اصل اپنے مخالفین اور ان کی مستقبل میں سعودی بادشاہ بننے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ شاہ سلمان کے بعد ان کے بیٹے محمد بن سلمان نے ہی سعودی فرمانروا بننا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکمران خاندان آل سعود کا ایک بڑا حصہ بن سلمان کے سعودی فرمانروا بننے کے حق میں نہیں اور ان کے نزدیک خاندان میں ایسے بہت سے افراد ہیں جو بادشاہ بننے کیلئے بن سلمان سے زیادہ موزوں ہیں۔

خاندان کے اس حصے کی بے تحاشہ کوششوں کے باوجود سعودی فرمانروا شاہ سلمان اس بات پر آمادہ نہیں ہوئے کہ ان کا بیٹا ان کے بعد بادشاہ نہ بنے۔اس تمام صورتحال میں اچانک گزشتہ اکتوبر کو جدہ میں واقع السلام محل پر حملہ ہوجاتا ہے جس میں حملہ آور اور متعدد سیکیورٹی آفیسر مارے جاتے ہیں۔

حملے کے وقت ولی عہد بن سلمان ’’السلام محل‘‘ میں موجود تھے البتہ وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔سعودی عرب کے سرکاری اعلان کے مطابق حملہ آور کا تعلق شدت پسند اور دہشت گرد گروپوں سے تھا جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا اصل مقصد بن سلمان کو قتل کرنا تھا اس حملے کے کچھ عرصے بعد ہی بن سلمان نے شہزادوں ،موجودہ و سابق عہدیداروں اور کاروباری شخصیات کو بدعنوانی اور کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ گرفتار ہونے والے میں بہت سے ایسے ہیں جو ’’السلام محل‘‘ پر حملہ اور بن سلمان کو قتل کرنے کی ناکام کوشش میں ملوث ہیں اور اب بن سلمان ان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اس بات سے سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ بن سلمان کا سعودی فرمانروا بننا آسان نہیں اور ان کے خلاف سازش بُنی جارہی ہیں تاکہ وہ اقتدار تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔یہ بھی متوقع تھا کہ بات قتل و غارت گری تک پہنچے گی البتہ اتنی جلدی کی توقع نہیں تھی۔
کیا بات یہاں تک ختم ہوگی ہے یا پھر کچھ اور بھی دیکھنے کو ملے گا۔آنے والے وقت میں مزید صورتحال واضح ہوگی۔

 

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...