منگل , 12 دسمبر 2017

ایران اور سعودی عرب کے درمیان سرد جنگ کی صورتِ حال کیوں؟

سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں لیکن حال میں اس کشیدگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟سعودی عرب اور ایران مشرقِ وسطیٰ کے دو بڑے ملک ہیں اور دونوں اس خطے پر اپنی اپنی بالادستی چاہتے ہیں۔ان دونوں کے درمیان کھنچاؤ کی ایک بڑی وجہ مذہب ہے۔ ایرانیوں کی بڑی اکثریت شیعہ ہے جب کہ سعودی عرب سنی اکثریت کا ملک ہے۔

یہی شیعہ سنی تفریق مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ بعض ملک اکثریتی سنی اور بعض اکثریتی شیعہ ہیں۔ شیعہ اکثریت والے ملک تعاون کے لیے ایران کی طرف دیکھتے ہیں جب کہ سنی ملک سعودی عرب کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔

اصل تنازع ہے کیا؟
اسلام کا آغاز سعودی عرب سے ہوا تھا۔ اس لیے وہ آج بھی خود کو مسلم دنیا کا رہنما سمجھتا ہے۔ تاہم 1979 میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد خطے میں ایک نئی طرز کی مذہبی ریاست وجود میں آ گئی، جس کا واضح مقصد یہ تھا کہ اپنا ماڈل اپنی سرحدوں سے باہر برآمد کیا جائے۔اس ریاست نے سعودی عرب کی حیثیت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔

حالات اچانک اس نہج تک کیسے پہنچ گئے؟
گذشتہ 15 برس میں اوپر تلے پیش آنے والے کئی واقعات نے دونوں کے درمیان تلخی میں اضافہ کیا ہے۔2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے سنی عرب اور ایران کے دشمن صدام حسین کو معزول کر دیا۔ اس سے علاقے میں طاقت کا پلڑا ایران کی طرف جھک گیا کیوں کہ عراق میں اقتدار اب شیعہ اکثریت کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔2011 میں ‘عرب سپرنگ’ کے تحت اس خطے میں خاصی ہلچل پیدا ہوئی اور کئی ملک عدم استحکام کا شکار ہو گئے۔

سعودی عرب اور ایران نے اس غیر یقینی صورتِ حال کو اپنا دائرۂ اثر بڑھانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ شام، بحرین اور یمن خاص طور پر اس رسّہ کشی کا شکار ہوئے، اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان خلیج گہری ہوتی چلی گئی۔

ایران کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے آلۂ کار نصب کر کے ایران سے بحیرۂ روم تک کے علاقے پر اپنا غلبہ چاہتا ہے۔

اس مقصد میں ایران کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے۔
شام میں ایرانی (اور روسی) پشت پناہی کی بدولت صدر بشار الاسد باغیوں کا بڑی حد تک خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب ان باغیوں کا سب سے بڑا حامی تھا۔

سعودی عرب بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ روکنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، اور اس کے نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔

انھی نے سعودی عرب کے جنوب میں واقع یمن میں باغیوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے تاکہ وہاں ایرانی اثر ختم کیا جا سکے۔ لیکن تین برس سے جاری یہ جنگ اب تک ایک مہنگا جوا ثابت ہوئی ہے۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودیوں نے لبنان کے وزیرِ اعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تاکہ لبنان کو کمزور کیا جا سکے جہاں ایران کی اتحادی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا غلبہ ہے۔

اس کے علاوہ یہاں بیرونی طاقتیں بھی سرگرم ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو شہ دے رکھی ہے، جب کہ اسرائیل بھی ایران کو اپنا دائمی دشمن سمجھتے ہوئے ایک لحاظ سے سعودی عرب کی بالواسطہ ‘مدد’ کر رہا ہے۔

اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران نواز شامی جنگجو کہیں اس کی سرحد تک نہ پہنچ جائیں۔اسرائیل اور سعودی عرب ہی وہ دو ملک تھے جنھوں نے 2015 میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر طے پانے والے بین الاقوامی معاہدے کی شدت سے مخالفت کی تھی۔ ان کا اصرار تھا کہ معاہدہ ناکافی ہے۔

ان کے علاقائی حلیف کون ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بڑی حد تک شیعہ سنی تفریق کی عکاسی کرتا ہے۔سعودی عرب کے کیمپ میں متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، مصر اور اردن ہیں۔

دوسری طرف ایران کے طرف داروں میں شامی حکومت کے علاوہ حزب اللہ کی طرز کی شیعہ جنگجو تنظیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت بھی ایران کی حلیف ہے، حالانکہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکی امداد پر انحصار کرتی ہے۔

خلیجی سرد جنگ؟
ایران اور سعودی عرب کی رسہ کشی کئی اعتبار سے امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کے مترادف ہے۔یہ دونوں ملک براہِ راست ایک دوسرے سے تو نہیں لڑتے لیکن اپنے کارندوں (پراکسی) کے ذریعے برسرِ پیکار ہیں۔ شام اس کی واضح مثال ہے جب کہ سعودی عرب نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ شیعہ حوثی باغیوں کو میزائل فراہم کر رہا ہے اور وہ اسے سعودی حدود پر حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یمن کی دلدل میں پھنسنےاور شام میں تقریباً شکست کھانے کے بعد سعودی عرب نے بظاہر لبنان کو بطور نیا میدانِ جنگ منتخب کیا ہے۔

خدشہ ہے کہ کہیں لبنان بھی شام کی طرح انتشار کا شکار نہ ہو جائے، لیکن ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ وہاں بھی سعودی عرب کو کوئی خاص کامیابی نہیں ملنے والی۔

لبنان میں ان دونوں کے درمیان کشمکش کے بیچ اسرائیل بھی بڑی آسانی سے کود سکتا ہے کیوں اس کا حزب اللہ سے پہلے ہی سے بیر چل رہا ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ سعودی ولی عہد جان بوجھ کر حزب اللہ کو اسرائیل سے لڑوانا چاہتے ہوں تاکہ اس ایران نواز جنگجو تنظیم کو کسی طرح کمزور کیا جا سکے!کیا ان دونوں کی براہِ راست جنگ ہو سکتی ہے؟

فی الحال تو ریاض اور تہران پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی براہِ راست ایک دوسرے سے لڑائی نہیں چاہتا۔ لیکن یمن کی طرف سے سعودی عرب پر پھینکا گیا ایک کامیاب میزائل سارا نقشہ تلپٹ کر سکتا ہے۔ایک جگہ جہاں یہ دونوں لڑ سکتے ہیں وہ خلیجِ فارس ہے، جہاں دونوں کی بحری سرحدیں ملتی ہیں۔

فوجی طاقت
امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں کے لیے خلیجِ فارس میں نقل و حمل کی آزادی بہت اہم ہے اور اگر یہاں جنگ چھڑ گئی تو تیل کی صنعت کے لیے بےحد اہم یہ بحری گزرگاہ بند ہو جائے گی۔ اس سے امریکہ بھی جنگ میں کود سکتا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ایک عرصے سے یہ سمجھتے ہیں کہ ایران مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کرنے پر تلا ہوا ہے۔

سعودی قیادت ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور ولی عہد اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب کی نئی مہم جوئی اس خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...