منگل , 12 دسمبر 2017

جناب وزیراعظم ! یہ وفاقی کابینہ ہے یا رشتے داروں کی چراگاہ؟

(حیدر جاوید سید)
حیران کن بات ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حدیبیہ ملز ریفرنس میں سابق وعدہ معاف گواہ اور منی لانڈرنگ کے مرکزی کردار وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی درخواست ہائے رخصتی کو قبول کرتے ہوئے انہیں 90دنوں کی رخصت عنائیت فرمائی۔ اسحق ڈار اس دوران وزیر بے محکمہ رہیں گے تنخواہ اور مراعات وصول کرنے کے ساتھ اپنی بیماریء دل کا پاکستانی خزانے سے علاج کروائیں گے۔ مگر اس سے زیادہ حیرانی والی بات یہ ہے کہ اگلے 90 دنوں میں وزارت خزانہ کے امور ایک مشاورتی کونسل چلائے گی جسمیں مفتاح اسماعیل اور وزیراعظم عباسی کے کاروباری حصہ دار جہانگیر صدیقی شامل ہوں گے۔ وزیراعظم کے اس فیصلے سے بہت آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے کہ ملک میں نظام کیسے چل رہا ہے۔ حدیبیہ مل منی لانڈرنگ کیس میں اسحق ڈار نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں وعدہ معاف گواہ کے طور پر دفعہ 164 کا عدالتی بیان دیا تھا۔

بعد ازاں مشرف اور نوازشریف کے درمیان ہوئی ڈیل کے نتیجہ میں یہ مقدمہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا یہ سوال اپنی جگہ یہ ہے کہ کیا پرویز مشرف کا اقدام قانونی تھا یا نہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ جناب نوازشریف نے 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت سے نون لیگ کی مختصر شراکت کے دنوں میں بھی اسحق ڈار کو وزیر خزانہ بنوایا اور پھر 2013ء میں برسرِاقتدار آنے کے بعد انہیں وزیر خزانہ کا منصب عطا کیا۔ بجا کہ اسحق ڈار نواز شریف کے سمدھی ہیں مگر کیا محض رشتہ دار ہونا اسقدر اہمیت کا حامل ہے کہ ایک ایسے شخص کو ملک کا وزیر خزانہ بنادیا جائے جو فقط دو کاموں میں ماہر ہو اولاً چرپ زبانی اور ثانیاًاعدادو شمار میں اس طورہیرا پھیری کے عالمی مالیاتی خزانے بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں۔ یہ محض الزام نہیں خود وزارت خزانہ کے ریکارڈ میں آئی ایم ایف، ورلڈبنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کے ایسے خطوط موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ان اداروں ( عالمی مالیاتی اداروں) کو فراہم کردہ اعداد و شمار جعلسازی پر مبنی ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ طبقاتی نظام میں ملک اور عوام کے مفادات کا خیال رکھنا اتنا ضروری نہیں ہوتا جتنا بالادست حکمران خاندان کے مفادات کا تحفظ کرنا اسحق ڈار اس میں کمال رکھتے ہیں اور اسی کمال کی بدولت وہ پہلے اتفاق گروپ آف کمپنیز کے مشیر بنے اور پھر قرابت و ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے۔ بطور وزیر خزانہ انہوں نے جھوٹ بولنے اور حکمران خاندان کی کرپشن کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کیاکچھ نہیں کیا یہ ہرکس و ناکس پر عیاں ہے۔خود ان کے اپنے مالی معاملات بھی شفاف نہیں۔ ان کے والد اندرون لاہور میں سائیکلوں کی ایک معمولی سی دکان کے مالک تھے مگر پچھلے 35 برسوں کے دوران ڈار صاحب اربوں ڈالر کے اثاثوں کے مالک بن گئے ان کے ذاتی اثاثوں میں اضافہ ان کے سیاست میں ورود کے بعد ہوا، بہر طور ان کے ذاتی معاملات کو فی الوقت زیر بحث نہ بھی لایا جائے تو بھی یہ سوال اہم ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ ایک نااہل شخص کی دلجوئی میں ملکی معشیت کا بیڑا غرق کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟۔

یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ وزیراعظم عباسی وزارت عظمیٰ کے صبح و شام کے امور چلانے کے لئے سابق نااہل وزیراعظم نوازشریف کی ہدایات اور خوشنودی کو مقدم سمجھتے ہیں۔ یہ بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے۔ بجائے اس کے کہ وزیر اعظم، اسحق ڈار سے استعفیٰ طلب کرکے ان سے کہتے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کریں اُلٹا انہوں نے محض چھٹی کی درخواست قبول کی اور وزیر بے محکمہ کے طور پر تنخواہوں اور مراعات پر ان کا حق قائم رکھا۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس فیصلے کو اقرباپروری اور مالکوں کی خوشنودی کے حصول کا بودا ترین طریقہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہماری دانست میں اسحق ڈار کی برطرفی ازبس ضروری ہے ایک اشتہاری ملزم پہلے وزیر خزانہ تھا اور اب وزیر بے محکمہ کے طور پر ملکی خزانے پر بوجھ۔ ،حیراں ہیں کہ یہ دن بھی اس ملک کے لوگوں نے دیکھنے تھے۔بشکریہ یو این این نیوز

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...