منگل , 12 دسمبر 2017

روس افغانستان میں کیوں لوٹنا چاہتا ہے؟

روسی وزارت خارجہ کے مطابق طالبان اور روس دونوں داعش کے مخالف ہیں اس لیے دونوں کے منافع مشترک ہیں۔روس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے داعش سے مقابلے کے لیے طالبان کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار کیا ہے، لیکن حقیقت میں روس نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کر دی ہے، جس کے ذریعے وہ مغرب سے مقابلہ کر رہا ہے۔

2015 سے اب تک امریکہ اور افغان حکام نے روس پر طالبان کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے، جس کو ماسکو نے رد کردیا تھا۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق طالبان اور روس دونوں داعش کے مخالف ہیں اس لیے دونوں کے مفادات مشترک ہیں۔

روس کے مطابق طالبان صرف افغانستان میں توجہ کر رہے ہیں جبکہ داعش سے دیگر ایشیائی ممالک کو بھی خطرہ ہے۔روس داعش کو امریکی ایجاد سمجھتا ہے، اور داعش کا پہلا ہدف افغانستان کا امن ختم کرنا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے امریکہ سے ناشناختہ ہیلی کاپٹروں کے بارے میں سوال کیا ہے جو داعش کی مدد کر رہے ہیں۔پیوٹن کے نمائندے «ضمیر کابلوف» نے کہا تھا کہ داعش کا مقصد روس کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہے۔

کافی عرصے سے افغانستان میں روس کی کم سرمایہ کاری سے اسے زیادہ فائدہ حاصل ہو رہا تھا۔روس کے مطابق افغانستان میں امریکی اڈہ علاقے پر قابض ہونے کے لیے ہے۔

روس افغانستان کی وجہ سے مرکزی ایشیائی ممالک میں بھی اثرورسوخ بڑھا سکتا ہے، ایشیائی ممالک افغانستان میں بدامنی کی وجہ سے پریشان ہیں، اس لیے مشکل میں روس سے مدد مانگیں گے۔

روس افغانستان میں اثرورسوخ کی وجہ سے بیجنگ اور کابل کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔اس وجہ سے روس کے لیے افغانستان میں اثرورسوخ بڑھانا ہی بہترین پالیسی ہوگی۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

کشمیریوں کی آواز

اگر میں کہوں کہ ہمارے پڑوس میں سوئزرلینڈ سے خوب صورت علاقہ موجود ہے تو ...