منگل , 12 دسمبر 2017

مشرق وسطیٰ میں ہٹلر کی آمد

(زکریا ایوبی)
گزشتہ چند مہینوں سے مشرق وسطیٰ خصوصاً سعودی عرب میں حالات بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بیٹھے بیٹھے اچانک سعودی عرب کو خیال آیا کہ قطر خطے میں دہشتگردی پھیلا رہا ہے اور دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ یہ خیال آنا تھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کا ایک اتحاد بنا اور قطر کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا۔ قطر کے ساتھ سرحدوں کو بند کر دیا گیا اور سعودی عرب میں مقیم تمام قطریوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ بائیکاٹ اتنا شدید تھا کہ قطر کے طیاروں کو بھی ان ممالک کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی اورقطر ایئر ویز کے طیارے ایرانی حدود سے ایک لمبا چکر کاٹ کر دنیا کےساتھ رابطہ بحال رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران قطر کو ضروریاتِ زندگی کی اشیاء بھی طیاروں کی مدد سے درآمد کرنا پڑیں۔ تاہم ایران اور ترکی کی جانب سے بھرپور حمایت ملنے پر سعودی اتحاد قطر کو زیادہ مجبورنہیں کر سکا۔

قطر کا معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ اچانک ایک دن لبنانی وزیرِاعظم سعدالحریری سعودی عرب کے دورے پر گئے۔ شاہ سلمان سے ملاقات کی اورایک ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ اتنااچانک تھا کہ لبنانی قیادت سمیت پورا مشرق وسطیٰ ہل کر رہ گیا۔ صدر مشال عون نے وزیر اعظم کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں وطن واپسی کی ہدایت کر دی۔ تاہم اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد کئی دنوں تک سعد الحریری منظر سے غائب رہے۔ اس دوران دبے الفاظ میں یہاں تک کہا گیا کہ سعد الحریری دراصل سعودی حکام کی حراست میں ہیں جہاں ان کو نظر بندرکھا گیا ہے۔ جب دو ہفتوں تک سعد الحریری کی کوئی خبر نہ آئی تو لبنانی صدر میشال عون نے براہ راست سعودی عرب پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سعد الحریری کو نظر بند رکھ کر سعودی عرب ویانا کنونشن اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ میشال عون کے بیان کے بعد اچانک سعد الحریری منظر عام پر آئے اور لبنانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے جلد وطن واپسی کا وعدہ کیا۔ تا دم تحریر سعد الحریری فرانس سے ہوتے ہوئے بدھ کو ملک واپس واپس پہنچ گئے ہیں۔

ادھر سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں بھی ڈرامائی تبدیلیاں آنی شروع ہو گئیں۔ ایک دن اچانک درجنوں شہزادوں اور وزراء سمیت ایک سو سے زائد افراد کو کرپشن کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ان میں سابق بادشاہ شاہ عبداللہ کا بیٹا اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل تھے۔ سعودی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں بلکہ شاہ سلمان کے بیٹے اور سعودی وزیر دفاع اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لئےراہ ہموار کرنے کی کارروائی تھی جس میں ہر اس شخص کو حراست میں لیا گیا جو محمد بن سلمان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا تھا۔ حراست میں لئے گئے تمام افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں۔ اب خبریں آ رہی ہیں کہ ان شہزادوں اور دوسرے زیرحراست افراد کے لئے ایک پیشکش زیرغور ہے جس کے تحت وہ اپنے اثاثوں کےایک بڑے حصے سے سعودی حکومت کے حق میں دستبردار ہو کر رہائی پا سکتے ہیں۔ اگر یہ تمام افراد اس پیشکش کو قبول کرنے پر رضامند ہو گئے توسعودی حکومت کے پاس اربوں ڈالر کے اثاثے آ جائیں گے جو محمد بن سلمان کو مزید قدم جمانے میں مدد فراہم کریں گے۔

ایک اڑتی ہوئی خبریہ بھی پہنچی ہے کہ شاہ سلمان اپنے بیٹے کے حق میں بہت جلد تاج و تخت سے دستبردار ہو رہے ہیں جس کے بعد محمد بن سلمان بلاشرکت غیرے سعودی عرب پر حکومت کریں گے۔ اس صورت میں محمد بن سلمان ہر اس منصوبے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے جو ان کے لئے بطور ولی عہد کرنا ممکن نہیں تھا۔

تناؤ کے شکار اندرونی حالات کی طرح خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ یمن کا معاملہ جس کے ذریعے محمد بن سلمان نے سیاست میں ڈیبیو کیا تھا، اب ایک انسانی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ کئی ہفتوں سے یمن کے ساتھ سعودی سرحد بند ہے اور بین الاقوامی امدادی اداروں کو بھی یمن تک رسائی نہیں دی جا رہی، جس کےباعث بھوک اور بیماریوں سے ہزاروں افراد کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔کوئی انٹرنیشنل واچ ڈاگ نہ ہونے کے باعث یمن میں انسانی حقوق کو جوتےکی نوک پر رکھا جا تا ہے۔ سعودی اتحاد کو جہاں کہیں حوثی باغیوں کی موجودگی کا گمان ہوتا ہے، بلاتحقیق بم برساتے ہیں جس کے باعث متعدد مرتبہ رہائشی علاقے زد میں آئے اور سینکڑوں عام شہری جاں بحق ہوئے۔

لبنان کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں جہاں حزب اللہ کا ہولڈ ہے جس کو ایران کا ہراول دستہ سمجھا جاتا ہے۔ سعد الحریری نے مستعفی ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی بتائی تھی کہ حزب اللہ ریاست کے اندر ریاست چلا رہی ہے اور حزب اللہ سے ہی ان کی جان کو خطرہ ہے۔ یہ حزب اللہ وہی ہے جو وقفے وقفے سے اسرائیل کے ساتھ سینگ لڑاتی رہتی ہے۔ ادھر شام میں بشار الاسد کی کامیابیوں میں بھی حزب اللہ کا اتنا ہی اہم کردارہے جتنا روس کا ہے۔ اب اگر سعد الحریری واپس چلے گئے اور حزب اللہ کےساتھ ان کے معاملات حسب معمول چلتے رہے تب بھی سعودی عرب اورحزب اللہ کے تعلقات میں بہتری کی کوئی امید نہیں اور یہ کشمکش کسی بھی وقت کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

اس تمام صورتحال میں سعودی عرب کو امریکہ اور اسرائیل کی براہ راست حمایت حاصل ہے۔ شہزادوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سراہا تھا جبکہ ایران کے خلاف اسرائیل نے سعودی عرب کو انٹیلیجنس شیئرنگ کی پیشکش کی ہے اور سعودی عرب نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار نہیں کیا۔ ان دونوں ملکوں کا حریف اول ایران ہے جس کو سعودی عرب بھی اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے۔ ٹرمپ کے ساتھ محمد بن سلمان کی یاری دوستی کا یہ عالم ہے کہ بطور صدر سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کرنے پر بھی ٹرمپ کو محمد بن سلمان نے راضی کیا تھا اور اب سعودی عرب میں محمد بن سلمان وہی کچھ کر رہے ہیں جو ٹرمپ چاہتے ہیں۔ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو بہت جلد امریکہ ایران کے خلاف بھی سعودی عرب کو اکسا سکتا ہے۔ اگر محمد بن سلمان وہ سب کرنے پر راضی ہو گئے جو امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں تو مشرق وسطیٰ کو ایک خونریز جنگ کا شکار ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

بظاہر تو محمد بن سلمان خطے کے دوسرے ممالک کو سعودی عرب کے تابع بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے انہوں نے جو راستہ چنا ہے وہ آگے جا کرپورے خطے کے لئے تباہی لا سکتا ہے۔ جیسے جرمنی کو عظیم بنانے کا نعرہ لگا کر ہٹلر نے پورے یورپ کو میدان جنگ بنا لیا تھا۔ ایسے ہی محمد بن سلمان کے ایک غلط قدم سے مشرق وسطیٰ میں خون کی ندیاں بہہ سکتی ہیں۔دیکھنا صرف یہ ہے کہ محمد بن سلمان پہلے اپنے اندرونی حریفوں سے نمٹیں گے یا بیرونی حریفوں پر ہاتھ صاف کریں گے۔بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

کشمیریوں کی آواز

اگر میں کہوں کہ ہمارے پڑوس میں سوئزرلینڈ سے خوب صورت علاقہ موجود ہے تو ...