بدھ , 13 دسمبر 2017

الولید بن طلال کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش:7 مارچ 1955ء
جائے پیدائش: جدہ
والد کا نام: بانی سعودی عرب عبدالعزیز آل سعود کے اٹھارویں بیٹے شہزادہ طلال بن عبد العزیز آل سعود جنہوں نے سعودی عرب میں کئی اہم عہدوں کا چارج سنبھالا اور پھر سعودی نظام کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے پانچ سعودی شہزادوں پر مشتمل ’’آزاد شہزادوں‘‘ کے نام سے تحریک چلائی جس نے سعودی عرب میں آئینی بادشاہت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے حکمران خاندان کو حکمرانی سے دستبردار ہونے کو کہا تھا۔یہ تحریک بعد میں ختم کر دی گئی۔

والدہ کا نام: منی الصلح۔ لبنان کےپہلے وزیر اعظم ریاض الصلح کی بیٹی
بیویاں: شہزادی دلال بنت سعود بن عبدالعزیز آل سعود (مطلقہ)
شہزادی لیمان السریری (ملطقہ)
شہزادی مہاہنت راشد آؒ سعید التمیمی (عطلقہ)
شہزادی اسماء بنت عیدان بن نائف الطویل (مطلقہ)
شہزادی امیرہ بنت عیدان بن نائف الطویل (مطلقہ)
بچے: خالد ار ریم
شہریت: سعودی اور لبنانی

شہزادہ الولید بن طلال کا شمار دنیا کے امیر ترین اور ارب پتی افراد میں ہوتا ہے اور مشہور امریکی رسالہ فاربز کے مطابق الولید بن طلال کے کل مالی اثاثے 18 ارب ڈالر سے بھی زائد ہیں۔
وہ شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود کے دوسرے بیٹے ہیں اور ان کی والدہ منی الصلح لبنان کے پہلے وزیراعظم ریاض الصلح کی صاحبزادی ہیں۔

الولید بن طلال سعودی عرب کی سب سے بڑے کاروباری شخصیت ہیں اور ان کا کاروبار پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔الولید بن طلال نے اقتصادیات اور بزنس مینجمنٹ کی سند کیلی فورنیا میں واقع مینلو یونیورسٹی سے سنہ1979ء میں حاصل کی ۔علاوہ ازیں الولید بن طلال کے پاس ڈاکٹریٹ کی 23 اعزازی ڈگریاں موجود ہیں۔

ابتدائی زندگی
سات سال کی عمر میں الولید بن طلال کے والدین نے علیحدگی اختیار کر لی جس کے بعد الولید اپنی والدہ کے ساتھ رہائش کیلئے لبنان منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے بیروت کے ایک پرائمری سکول میں داخلہ لیا ،سکول میں اکثر الولید بن طلال کی شکایت آتی رہتی تھی اور وہ اکثر اسکول سے بھاگ جاتے تھے۔1968ء میں والد کے مجبور کرنے پر الولید نے شاہ عبدالعزیز ملٹری کالج میں داخلہ لیا اور 1974ء میں الولید پھر سے واپس لبنان آگئے۔

امریکہ سے اقتصادیات اور بزنس مینیجمنٹ کی سند حاصل کرنے کے بعد الولید نے سنہ 1979 ء میں سعودی عرب میں ’’کنگ ڈم ٹریڈ اینڈ رئیل اسٹیٹ‘‘ کے نام سے اپنی ایک کمپنی کی بنیاد رکھی جس نے بہت جلد ترقی کی منازل طے کرنا شروع کر دیں اور بالآخر 1996 میں الولید بن طلال نے اپنی کمپنی کا نام تبدیل کرتے ہوئے کنگڈم ہولڈنگ رکھ دیا جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
کنگڈم کمپنی کے ذریعے الولید بن طلال نے کئی شعبوں میں سرمایہ داری کر رکھی ہے جن میں رئیل اسٹیٹ،ہوٹلنگ،میڈیا،سیاحت،بینکنگ،زراعت،تجارت ،گاڑیوں کی صنعت وغیرہ شامل ہے۔

الولید بن طلال کی دنیا بھر میں مشہور متعدد ہوٹلز میں حصہ داری کے ساتھ ساتھ عالمی نیوز و انٹرٹینمنٹ کے ٹی وی چینلز میں بھی حصہ داری ہے،نیز الولید بن طلال کی مشہور زمانہ ایپل کمپنی اور ٹویٹر میں بھی 5،5 فیصد حصہ داری ہے۔

9 ستمبر 2011ء کے حملوں کے بعد الولید بن طلال نے نیویارک کے میئر کو 10 ملین ڈالر کا چیک بطور امداد پیش کیا۔جس کے بعد الولید نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیویارک میں ہونے والے حملوں کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ ان حملوں کا سبب بننے والی وجوہات سے نمٹا جائے اور میرے خیال میں امریکہ کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کو لے کر مزید موزوں موقف اختیار کرے۔

اس بیان کے نتیجے میں نیویارک کے میئر راڈی جولیانی نے الولید کو 10 ملین کا چیک واپس کر دیا ،2013 میں برطانوی عدالت نے الولید بن طلال کو حکم دیا کہ وہ ایک اردنی کاروباری خاتون شخصیت کو 10 ملین ڈالر بطور ہرجانہ ادا کرے جس نے الولید بن طلال اور سابق لیبی صدر معمر القذافی کے درمیان طے پانے والی خصوصی طیارے کی فروخت کی ڈیل میں کردار ادا کیا تھا۔
ڈیل کے تحت قذافی نے الولید سے 120 ملین ڈالر کی قیمت میں خصوصی طیارہ خریدا تھا یہ طیارہ الولید بن طلال نے برونائی کے سلطان سے 95 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔

4 نومبر 2017ء میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے انسداد بدعنوانی کی کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا اور اپنے بیٹے اور ولی عہد محمد بن سلمان کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا،اگلے دن محمد بن سلمان کے حکم پر درجنوں سعودی شہزادوں کو بدعنوانی اور کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا جن میں الولید بن طلال بھی شامل تھے۔

الولید بن طلال ابھی زیر حراست ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ محمد بن سلمان کے خاص احکامات پر شدید تشدد کا نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں۔بعض ماہرین کے مطابق بد عنوانی اور کرپشن کے علاوہ الولید بن طلال کی گرفتاری کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان امریکی انتخابات کے دوران ٹویٹر پر کافی تلخ کلامی ہوتی رہی اور بات گالی گلوچ تک بھی جا پہنچی تھی اور چونکہ محمد بن سلمان اور ٹرمپ کے درمیان گہرے اور خوشگوار تعلقات ہیں اس لئے الولید بن طلال بھی بن سلمان کی گرفتاریوں کی زد میں آگئے۔

یہ بھی دیکھیں

صالح کی موت ۔۔۔۔۔۔کیا ہوا اور کیا ہوگا

یمن کے سابق صدر عبداللہ صالح کی ہلاکت کی ویڈیو (بچے مت دیکھیں) یمن کے ...