ہفتہ , 24 اگست 2019

سعودیہ کیخلاف قانون سازی پر باراک اوباما دستخط نہیں کرینگے، ترجمان وائٹ ہاؤس

whitehouse

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما ایسی کسی قانون سازی پر دستخط نہیں کریں گے جس سے سعودی عرب جیسے ملکوں پر قانونی چارہ جوئی کی اجازت ملتی ہو کہ اُس کے اہل کاروں نے 11 ستمبر 2001ء کے امریکی سرزمین پر دہشت گرد حملوں میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری، جوش ارنیسٹ نے پیر کے دِن کہا ہے کہ ’’اقتدار اعلیٰ کے استثنیٰ کے پورے نظریے کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کے کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ خود امریکہ کے لیے اہم نتائج برآمد ہو سکتے ہیں‘‘۔’جسٹس اگینسٹ اسپونسرز آف ٹررزم ایکٹ‘11/9کے اہل خانہ کو یہ اجازت مل جائے گی کہ وہ غیر ملکی ریاستوں اور دہشت گردی کے مالیاتی پارٹنرز پر مقدمات کر سکیں گے۔گذشتہ روز کی اخباری بریفنگ کے دوران کیے گئے ایک سوال پر، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ قانون سازی کے بارے میں تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس خیال کو ذہن میں لانا مشکل ہوگا کہ جس طرح سے اِس کا مسودہ بنایا جارہا ہے، صدر اوباما اُس پر دستخط کریں گے۔پریس سکریٹری نے توجہ دلائی کہ ’’اقتدار اعلیٰ کے استثنیٰ کا سوال ایسا ہے جس سے امریکہ کی استعداد کو تحفظ فراہم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے تمام ملکوں سے مل کر کام کرے گی۔ اس اصول سے ہٹنے سے امریکہ، ہمارے ٹیکس دہندگان، ہمارے فوجی اور سفارت کاروں کو خطرہ لاحق ہوگا‘‘۔واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ عبدالجبیر کے بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دی، جس میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے کہ امریکی عدالتیں اثاثہ جات کو منجمد کرنے کے احکامات جاری کریں، سعودی عرب تقریباً 750 ارب ڈالر کے امریکی اثاثوں کو بیچنے پر مجبور ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

کوپن ہیگن کے شدید ردعمل کے بعد ٹرمپ نے اپنا دورہ ڈنمارک ملتوی کردیا

کوپن ہیگن (مانیٹرنگ ڈیسک)جزیرہ گرین لینڈ کی خریداری سے متعلق امریکی صدر کی تجویز پر …