پیر , 19 اگست 2019
تازہ ترین

روس سے فلسطین میں آباد کئے گئے یہودی کینیڈا روانہ

russia palastine to canada

تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی سرزمین باہر سے لاکر آباد کیے گئے یہودیوں اور صہیونیوں کے لیے تنگ ہونے لگی ہے جس کے نتیجے میں روس سے فلسطین میں لا کرآباد کیے گئے 20 فی صد یہودی کینیڈا میں جا بسے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق سوویت یونین کی ریاستوں میں 10 لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔ 1990 ء کے عشرے میں پانچ فی صد یہودیوں کو فلسطینی علاقوں میں لا کر آباد کیا گیا مگر وہ اب اسرائیل چھوڑ کر کینیڈا اور دوسرے ملکوں میں جا بسے ہیں۔رپورٹ میں ایک ایسے ہی یہودی کا بیان نشر کیا گیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ جب اسے سوویت یونین سے اسرائیل منتقل کیا گیا تو اس کی عمر صرف چھ سال تھی۔ اس کے ساتھ سینکڑوں اور یہودی خاندان اور نوجوان بھی فلسطینی علاقوں میں قائم کردہ یہودی کالونیوں میں بسائے گئے تھے۔ فلسطین سے نکل جانے والے یہودی کا کہنا ہے کہ میں نے اسرائیلی فوج میں بھی خدمات انجام دیں، وہیں شادی بھی کی مگر مجھے ایسے لگا کہ اسرائیلی معاشرے میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس لیے میں اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا آگیا ہوں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1990 ء کےعشرے میں اسرائیل میں آباد ہونے والے 15 فی صد یہودی اسرائیل چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں جا بسے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دنیا بھر کے حریت پسندوں کو کشمیر میں ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے: مرجع تقلید نوری ہمدانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر کے حریت پسندوں کو کشمیر میں ہونے والے مظالم پر خاموش …