بدھ , 13 دسمبر 2017

33 سال یمن پر حکومت کرنے والے علی عبداللہ صالح کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش: 21 مارچ 1947ء
جائے پیدائش: بیت الاحمر،سخان،صنعا،یمن
مذہب: زیدی
والد کا نام: عبداللہ صالح الاحمر
بچے: احمد،خالد،صلاح،صغر،مدین ،ریدان اور دیگر 10 بیٹیاں
تعلیم: ابتدائی تعلیم بھی مکمل نہیں کی تھی۔
عسکری خدمت: 16 سال کی عمر میں فوج سے منسلک ہوگئے تھے۔
تاریخ وفات: 4 دسمبر 2017ء
جائے وفات:یمنی دارالحکومت صنعاء

ابتدائی زندگی: علی عبداللہ صالح ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے تھے،والدین کی علیحدگی کے بعد صالح اپنی والدہ کے ساتھ رہتے تھے جنہوں نے دوسری شادی کر لی تھی جس کی وجہ سے صالح کا بچپن مشکل اور تکلیف میں گزرا۔فوج میں شامل ہونے سے قبل علی عبداللہ صالح بکریاں چراتے تھے۔

عملی زندگی: 1958ء میں صالح محض سولہ سال کی عمر میں فوج میں شامل ہوگئے۔
1963ء میں سیکینڈ لیفٹینٹ کے عہدے پر ترقی حاصل کی۔

1974ء میں دس ارکان پر مشتمل فوجی کمانڈ کونسل کا حصہ بن جاتے ہیں۔

17 جولائی 1978ء میں یمنی صدر احمد حسین الفاشمی کے مارے جانے کے بعد علی عبداللہ صالح کو جمہوریہ عرب یمن (شمالی یمن) کا صدر نامزد کیا جاتا ہے۔

1983ء میں 5 سال کے لیے صالح کو بطور یمنی صدر منتخب کر دیا جاتا ہے۔

جولائی 1988ء م یں انہیں دوبارہ پانچ سالوں کے لیے صدر منتخب کر دیا جاتا ہے۔

22 مئی 1990ء جمہوریہ یمن کی تشکیل پائی جاتی ہے جو شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد سے معروض وجود میں آتا ہے،علی عبداللہ صالح کو نومولود ریاست کا صدر مقرر کر دیا جاتا ہے۔

1999ء میں علی عبداللہ صالح یمن میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے بلاواسطہ صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوتے ہوئے صدر بن جاتے ہیں۔ اس انتخابات میں صالح نے 96 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

فروری 2001ء میں یمنی پارلیمنٹ میں صدر کی آئینی مدت میں 2 سال توسیع کی قرارداد منظور کر لی جاتی ہے جس کے تحت صدرارتی مدت پانچ سال سے سات سال کر دی جاتی ہے۔

2003ء میں صالح کو مزید سات سال صدر بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کردی جاتی جس کے بعد صالح سات سال کیلئے پھر صدر منتخب ہوجاتے ہیں۔

2004ء میں حکومت کی لاپرواہی اور عدم دلچسپی کا شکار حوثی عوام حسین بدرالدین الحوثی کی قیادت میں حکومت کے خلاف اپنے حقوق کیلئے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں،حوثیوں کی اس تحریک کو علی عبداللہ صالح نے انتہائی بربریت سے کچل ڈالا اور فوج حوثیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انصار اللہ کے سربراہ حسین بدرالدین الحوثی کو شہید کرتے ہوئے ان کے جسد خاکی کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہے جسے نو سال بعد 5 جون 2013ء میں حوثیوں کو واپس کر دیا جاتا ہے۔

17 جولائی 2005ء میں صالح اعلان کرتے ہیں کہ وہ 2006 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لینگے۔

جون 2006ء میں صالح اعلان کرتے ہیں کہ عوام میں اپنی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے یوں وہ اپنے وعدے سے پھر جاتے ہیں۔

23 ستمبر 2006ء میں 77 فیصد ووٹ کے ساتھ علی عبداللہ صالح 7 سال کیلئے پھر سے صدر منتخب ہوجاتے ہیں۔

10 مارچ 2011ء میں صالح یمنی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ وہ پھر سے صدراتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور نہ ہی اپنے بیٹے احمد کو بطور جانشین مقرر کریں گے۔

11 مارچ 2011ء میں یمن کے طول و عرض میں صالح کے خلاف مصر میں حسنی مبارک کے خلاف طرز کے عوامی احتجاج شروع ہوجاتے ہیں اور عوام کا مطالبہ ہوتا ہے کہ علی عبداللہ صالح صدارت کے عہدے کو خیر باد کہیں۔

10 مارچ 2011ء میں صالح اعلان کرتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں نئی آئینی ترمیم کے ذریعے ملک میں پارلیمانی جمہوریہ کا نظام نافذ کرانا چاہتے ہیں۔

11 مارچ 2011ء میں لاکھوں افراد یمنی دارالحکومت صنعا میں واقع تحریر اسکوائر میں جمع ہو کر صالح کے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

20 مارچ 2011ء صالح اپنی حکومتی کابینہ کو تحلیل کر دیتے ہیں۔

23 مارچ 2011ء صالح اعلان کرتے ہیں کہ وہ سال کے آخر میں صدارت سے مستعفیٰ ہوجائیں گے البتہ اس پیشکش کو ان کے خلاف سراپا احتجاج عوام مسترد کردیتی ہے۔

23 اپریل 2011ء میں صالح خلیج کونسل کی طرف سے پیش کی جانے والی ڈیل کو قبول کر لیتے ہیں جس کے تحت اگر صالح 30 دنوں کے اندر مستعفیٰ ہوجاتے ہیں تو ان کا ،ان کے خانوادے کا اور ان کے سیاسی ساتھیوں کا احتساب نہیں ہوگا اور انہیں تمام زندگی احتساب سے استثنا حاصل ہوگا۔

22 مئی 2011ء میں صالح استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خلیج کونسل کی طرف پیش کی جانے والی ڈیل ان کے تحفظات کو دور نہیں کر پائی جس کے بعد خلیج کونسل اپنی ڈیل کو واپس لیتے ہوئے یمن کے مسئلے میں اپنی ثالثی بھی ترک کر دیتی ہے۔

3 جون 2011ء میں اپوزیشن فورسز صدارتی محل پر میزائل داغ دیتے ہیں جس کی وجہ سے متعدد افراد ہلاک جبکہ علی عبداللہ صالح شدید زخمی ہوجاتے ہیں۔4 جون 2011ء میں صالح علاج کی غرض سے سعودی عرب منتقل کر دیے جاتے ہیں اور ان کے نائب عبد ربہ منصور ہادی صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں ۔

6 اگست 2011ء میں انہیں سعودی دارالحکومت ریاض کے ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے۔
23 نومبر 2011ء میں صالح تین مہینے بعد یمن واپس آجاتے ہیں۔

23 نومبر 2011ء میں صالح سعودی عرب میں ایک معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے اپنے تمام اختیارات عبد ربہ منصور ہادی کو منتقل کر دیتے ہیں۔

21 جنوری 2012ء میں یمنی پارلیمنٹ میں صالح کے عدم احتساب کے لیے قرار داد منظور کر لی جاتی ہے۔
28 جنوری 2012ء میں علی عبداللہ صالح علاج کی غرض سے امریکہ چلے جاتے ہیں۔

24 فروری 2013ء میں واشنگٹن میں واقع یمنی سفارت خانے کے اعلان کے مطابق صالح صنعا واپس چلے گئے ہیں۔

27 فروری 2012ء میں صالح حکومت کی منتقلی کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں جس میں صالح آفیشل طور پر حکومت عبدربہ منصور ہادی کو دے دیتے ہیں ،یوں صالح کا 33 سال پر محیط اقتدار کا اختتام ہوا۔

صدارت سے دور رہنے کے باوجود علی عبداللہ صالح یمن میں اپنی سیاسی جماعت (جنرل عوامی کونسل ) کے ذریعے کافی اثر ورسوخ رکھتے تھے نیز صالح قبائلی اور علاقائی حوالے سے بھی کافی مضبوط تھے۔

2014ء میں جب انصاراللہ نے اپنے عوامی انقلاب کے ذریعے یمن کا کنٹرول سنبھالا تب علی عبداللہ صالح نے انصاراللہ کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا،علی عبداللہ صالح سیاسی،عسکری اور عوامی حلقوں میں اپنے اثرورسوخ کے باعث یمنی منظر نامے کا اہم جزو سمجھے جاتے تھے۔

یمن میں کامیاب انقلاب اور صالح اور انصاراللہ کے اتحاد کے بعد سات نومبر 2017 میں اقوام متحدہ نے علی عبداللہ صالح اور متعدد حوثی رہنماؤں پر پابندیاں عائد کر دیں۔

یمن میں انصاراللہ اور علی عبداللہ صالح کی مشترکہ حکومت قیام میں لائی گئی ،البتہ تین سال کے اتحاد کے بعد علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب اور امارات کے ورغلانے پر انصاراللہ کے ساتھ اتحاد کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور یوں دو دسمبر 2017ء میں انصاراللہ اور علی عبداللہ صالح کے جنگجوؤں کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

اس دوران صالح سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یمن کے خلاف جنگ کو ختم کرتے ہوئے حوثیوں کے خلاف کارروائی کرے،بدلے میں وہ تیار ہیں کہ سب کچھ بھلا کر یمن کے خلاف اتحاد کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

اس اعلان کے بعد انصاراللہ کے سربراہ سید بدرالدین الحوثی اعلان کرتے ہیں کہ علی عبداللہ صالح اور اس کے ساتھی یمن میں فتنہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ یمن اور یمنی عوام کیساتھ غداری کے مترادف ہے۔جس کے بعد صالح کے خلاف صنعا میں کارروائی شروع ہوجاتی ہے اور 4 دسمبر 2017 میں صنعا سے مارب فرار ہوتے ہوئے حوثیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

صالح کی موت ۔۔۔۔۔۔کیا ہوا اور کیا ہوگا

یمن کے سابق صدر عبداللہ صالح کی ہلاکت کی ویڈیو (بچے مت دیکھیں) یمن کے ...