بدھ , 13 دسمبر 2017

یروشلم کا مقدس اکھاڑا

(کالم نگار ، محمد اسلم خان)
ساری دنیا چیخ رہی ہے کہ یروشلم کے متنازعہ شہر میں امریکی سفارتخانہ نہ کھولا جائے‘ اس سے انتہاپسندی کو بڑھاوا ملے گا دہشت گردی کی ہولناک لہر سارے خطے کو لپیٹ میں لے لے گی‘ لیکن جنگل جیسی اس دنیا میں کون سنتا ہے۔ مشرق وسطی نئے بحرانوں کی زد میں ہے جن کا مرکز ومحور ارض فلسطین ہے۔ انبیاء کی مقدس سرزمین کا صدیوں قدیم اور مقدس ترین شہر یروشلم عالمی سازشوں کا میدان جنگ بننے جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا۔ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی تمام تر سرپرستی کے باوجود امریکی یروشلم کو متنازعہ شہر سمجھتے تھے جس کی یہ حیثیت اب ختم ہو جائے گی۔

کہتے ہیں OIC نے امریکی اقدام کو 58 رکن مسلم ممالک کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔دنیا بھر کے متنازع علاقوں میں یروشلم منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ تسلیم شدہ مقبوضہ شہر ہے جسے اقوام متحدہ نے متنازع قرار دیا ہوا ہے۔
بحیرہ مردار ڈیڈ سی کے مغربی کنارے پر آباد یروشلم مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کیلئے قابل احترام اور مقدس ہے جہاں ان تینوں الہامی مذاہب سے تعلق رکھنے والے زیارت کیلئے جوق درجوق آتے ہیں ۔یہودیوں کی مقدس دیوار گریہ اورمسلمانوں کا قبلہ اول بھی یہیں ہے‘ اسرائیلی اورفلسطینی یروشلم کے حقیقی اورقانونی مالک اور وارث ہونے کے دعویدار ہیں۔ یروشلم اسرائیل کے قبضے میں ہے‘ حکومت کے تقریباًتمام ادارے وہاں کام کررہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا تھا اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تویروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیں گے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیں گے۔ تل ابیب سے دسمبر 1949میں زیادہ تر سرکاری دفاتر یروشلم منتقل کردئیے گئے تھے لیکن چونکہ عالمی سطح پر یروشلم متنازع علاقہ ہے‘ اس لئے زیادہ تر سفارت خانے تل ابیب میں ہی رہے اور اب بھی تمام سفارت خانے تل ابیب میں ہی کام کررہے ہیں۔
اس ساری کہانی میں اب سعودی عرب کا کردار بڑا اہم ہے ۔اسرائیل اور سعودی عرب حال ہی میں اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ گزشتہ مہینے اسرائیلی فوج کے سربراہ نے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل سعودی عرب سے مل کرایران کو روکے گا اور اس سلسلے میں وہ ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ اس گرم جوشی کی وجہ ایران اورسعودی عرب کے باہم مخالف بیانات ہیں۔
اسرائیل کا دعوی ہے کہ وہ ایران کو اسرائیل اورعربوں کا مشترکہ دشمن سمجھتا ہے۔ ایران کے خلافعرب ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہے اور دفاعی حمایت اورمہارت وتربیت بھی فراہم کرسکتا ہے۔ اب یہ تنازع نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔صدر ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرچکے ہیں۔
عرب ممالک خود قطراور یمن کے مسئلے پر باہم دست و گریبان ہیں۔ پاکستان پر امریکہ کا دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں دوگنا کرے۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں چالیس مسلم ممالک کا فوجی اتحاد بھی اسرائیل کا بال بیگا نہیں کر سکے گا۔ ویسے بھی اس اتحاد میں ایران، شام اورعراق کی عدم موجودگی میں اسے مسلم نہیں بلکہ صرف سنی ممالک کا فرقہ وارانہ اتحاد قرار دیا جارہا ہے۔
صدر محمود عباس نے امریکی صدر کو متنبہ کیا کہ ایسا کوئی فیصلہ خطرناک ہوگا اور اس کے امن عمل، علاقائی امن و سلامتی اور دنیا پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ وائٹ ہائوس نے کہا ہے امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی عملاًشروع ہوگئی ہے۔ وائٹ ہائوس کے ترجمان ہوگان گڈلی نے زور دے کر کہا کہ صدر روز اول سے اس معاملے میں واضح ہیں‘یہ اگر مگر کا معاملہ نہیں ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر عالمی برادری نے واشنگٹن کو خبردار کیا تھا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے اعلان کیا کہ بیت المقدس کا مسئلہ نہایت اہم ہے۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے سُرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ایسا معاملہ ہے جس کا نتیجہ انقرہ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ فرانس اور جرمنی نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روسی صدر پیوٹن نے فلسطینی ہم منصب کو فون کرکے کہا ہے کہ وہ اسرائیل فلسطین مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکغوں کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت القدس کو یکطرفہ طور پر اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے منصوبے پر انہیں تشویش ہے۔ سعودی عرب نے پیر کو کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حتمی تصفیے سے قبل ایسا کوئی قدم امن مذاکرات پر مضر اثرات مرتب کرے گا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے عالمی رہنمائوں سے مداخلت کی اپیل کی ہے کہ اس قسم کا امریکی فیصلہ امن کے عمل کو تباہ کر دے گا۔ اُردن نے اس کے سنگین نتائج پر متنبہ کیا ہے جبکہ عرب لیگ کے سربراہ ابوالغیث نے کہا کہ اس قسم کے اقدام سے تشدد اور مذہبی جنون کو تقویت ملے گی۔
مصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے منصوبے پر عملدرآمد کرتے ہیں تو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے ٹرمپ کے متوقع فیصلے پر صدر پیوٹن اور پوپ فرانسس سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...