بدھ , 13 دسمبر 2017

میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کے پیچھے صہیونی حکومت کا پوشیدہ ہاتھ

مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کا قتل عام، صہیونی حکومت کے اہم ترین اسٹریٹجکی مقاصد میں سے ہے جسے فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے زمانے سے ہی عملانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔
اس مقصد کے پیش نظر، صرف مقبوضہ فلسطین کے مسلمانوں کا قتل عام صہیونی ریاست کے منصوبوں میں شامل نہیں تھا بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے مسلمان بھی اس مقصد میں شامل تھے اور ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ دوسرے ممالک میں صہیونی ریاست مسلمانوں کے قتل عام میں براہ راست وارد نہیں ہوتی بلکہ بالواسطہ اور علاقے کی حکومتوں یا مسلمان نشین بستیوں جیسے کشمیر اور روہنگیا میں سرگرم شدت پسند ٹولیوں کو اسلحہ فراہم کر کے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہوتی ہے اور ان دنوں برما میں مسلمانوں کی اقلیت بھی اسی نسل کشی کے صہیونی منصوبہ کے عملائے جانے کا شکار ہے۔
اس بارے میں صہیونی اخبار ’’ہاآرٹص‘‘ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ اسرائیل کی وزارت جنگ اس کے باوجود کہ برما حکومت اپنے ملک میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے اسے اسلحہ فراہم کرتی رہے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ صہیونیوں کا برما حکومت کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ عرصہ دراز سے چلتا آ رہا ہے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں برما کا ملک جنوب مشرقی ایشیا میں یہودیوں کی تجارت کا اہم ترین مرکز تھا انگریزوں کے مشرقی ایشیا پر تسلط حاصل کرنے کے بعد جاپان کے غاصبوں کو اس ملک سے نکال دیا گیا جس کے بعد بہت سارے یہودیوں نے برما کی طرف ہجرت کر لی۔
صہیونی استکباروں کے اسٹراٹیجکی اتحادی
۱۹۴۸ء میں صہیونی ریاست کے منحوس وجود کے زمانے سے ہی برما حکومت کے ساتھ سیاسی تعلقات صہیونی پارلیمنٹ میں مورد توجہ قرار پائے۔
اسی سلسلے میں، ۱۹۵۵ میں برما کے وزیر اعظم ’’یونو‘‘ نے تل آبیب کا پہلا دورہ کیا تاکہ ایشیائی ممالک سے سیاسی رہنما کا اس غاصب حکومت میں پہلا سفر تاریخ میں اپنے نام درج کروائے وہ بھی ایسے حالات میں کہ ابھی اکثر ممالک مقبوضہ سرزمین پر صہیونی ریاست کی موجودیت کو رسمیت نہیں دے رہے تھے اور ایسی تدبیروں اور سیاستوں کی تلاش میں تھے جن کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کو اکیلا کر دیں۔صہیونی ریاست کے کیمپوں میں فوجی تربیت حاصل کرنے کے لیے برما کے فوجی افسروں اور سپاہیوں کو تل آبیب بھیجا جانا ’’یونو‘‘ کے اسرائیل دورے کے اہم مقاصد میں سے ایک تھا۔
برما کے وزیر اعظم کے اسرائیل دورے کا دوسرا مقصد صہیونیوں کے استعمال کردہ جنگی سامان، توپ، ٹینک اور دیگر اسلحے کے خریداری کے معاہدے پر دستخط کرنا تھا۔
اس دورے کے بعد اسرائیل نے اپنے ایئر فورس پائلٹوں کی ایک ٹیم برما بھیجی تاکہ وہ اس ملک میں جنگی جہازوں کے پائلٹوں کو ٹریننگ دے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ دوسری جانب، برما کے وزیر اعظم “یونو” نے علاقائی سطح پر ایک مہم چلا رکھی تھی کہ جس کے ذریعے “بینڈنگ” بین الاقوامی کانفرنس میں صہیونی ریاست کے ساتھ تعاون کا زمینہ فراہم کیا جا سکے۔ یہ کانفرنس جو ایشیا اور افریقہ کے ۲۹ ممالک کی شرکت سے انڈونیشیا میں منعقد ہوئی اتفاق سے بعد میں “”غیر وابستہ تحریک” کے وجود میں آنے کا پیش خیمہ قرار پائی۔
لیکن “یونو” کی تمام جد و جہد کے باوجود عربی ممالک کے برما کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات شکست سے دوچار ہو گئے۔
۳سال بعد ۱۹۵۸ میں اسرائیلی صدر “شیمون پیرز” اور وزیر اعظم “موشہ دایان” نے برما کے وزیر اعظم اور فوجی چیف کمانڈر “نی وین” کے ساتھ ملاقات کے لئے اس ملک کا دورہ کیا۔
دوطرفہ گفتگو کے بعد، “نی وین” نے تل ابیب کی ہمہ جہت حمایت پر زور دیا اور ۸۰ فوجی کمانڈروں کو ایک وفد کے ہمراہ مقبوضہ فلسطین بھیجنے کا حکم صادر کیا تاکہ جدید اسلحہ کے استعمال کی ٹریننگ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی اور اشیائے خورد و نوش کو تیار کرنے والی پیشرفتہ مشینوں کے استعمال کا طریقہ بھی سیکھیں۔
۱۹۶۱ء میں صہیونی ریاست کے وزیر اعظم “ڈیویڈ بن گوریان” نے برما کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں توسیع کی غرض سے اس ملک کا دورہ کیا اور برما کے سیاسی عہدہ داروں سے ملاقات کی۔ اس دورے کی باقی ماندہ بعض تاریخی تصویروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بن گوریان برما کے حکام سے ملاقات کے دوران اس ملک کی قومی ٹوپی اپنے سر پر رکھے ہوئے تھا۔
صہیونی ریاست کے عہدہ داروں جیسے شیمون پیرز، موشہ دایان، اسحاق بن زاوی اور گولدا مائر کے برما کے دورے ۱۹۶۰ کی دہائی کے آخر تک جاری رہے۔
۱۹۷۰ کی دہائی میں صہیونی ریاست کی انٹیلی جنسی ایجنسی “موساد” نے مختلف تربیتی کیمپوں کے ذریعے برما کے انٹیلی جنسی اور سکیورٹی افسروں کی تربیت کی ذمہ داری سنبھالی اور تمام امور میں ہمہ جہت پہلے سے زیادہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنایا۔ یہ اقدام اس بات کا سبب بنا کہ صہیونی ریاست نے ایشیا میں برما کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز منتخب کیا۔
۱۹۸۰ کی دہائی میں اسرائیل اور برما کے درمیان اقتصادی تعلقات کی توسیع کے لئے برما حکومت نے اپنے ملک میں ٹیلیفون اور مواصلاتی سسٹم قائم کرنے کے لئے صہیونی کمپنی “ٹیلراڈ” کے ساتھ ۵ ملین ڈالر کی لاگت پر مبنی معاہدہ کیا۔اسی دہائی میں اسرائیل کی وزارت خارجہ امور کی ایجنسی برائے ترقی بین الاقوامی تعلقات “ماشاو” نے برما میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس ایجنسی کی منجملہ سرگرمیوں میں برما میں کھیتی باڑی اور آبیاری کے امور کی ٹریننگ دینا شامل تھا۔
اسی ترتیب سے تجارتی، تعلیمی، طبی اور ٹیکنولوجی امور میں تعلقات برما اور صہیونی ریاست کے درمیان دن بدن بڑھتے گئے۔ اسی اثنا ان دو ملکوں نے آپس میں ایک معاہدے پر دستخط کیا جس میں یہ طے پایا کہ دونوں ملکوں کے مشترکہ تجارتی مراکز ایشیا میں برما کے اندر قائم کئے جائیں گے۔
آپسی تعلقات کا یہ سلسلہ دھیرے دھیرے کھیل کود اور ثقافتی امور کے میدان تک بھی پہنچ گیا۔ دونوں فریقوں نے اس حوالے سے بھی آپ میں کئیں معاہدوں پر دستخط کر دئے۔ آخرکار برما اور اسرائیل کے درمیان تعلقات اس قدر عمیق اور گہرے ہو گئے کہ دونوں ریاستوں نے آپسی آمد و رفت کے لئے ویزے کی قید ختم کر دی اور سیاسی عہدہ داروں کی آمد و شد کے علاوہ عوام کا آنا جانا بھی شروع ہو گیا۔
برما کی فوج کی کمان کس کے ہاتھ میں ہے؟
برما میں ۱۹۸۸ کی فوجی بغاوت کے بعد، میڈیا میں جو رپورٹیں شائع ہوئیں وہ یہ یقین دلا رہی تھیں کہ صہیونی ریاست کی اسلحہ ساز کمپنیوں نے جنگی اسلحے کی فروخت کے لئے برما کے ساتھ معاہدہ کر کے اسلحے سے بھرے کئیں ٹرالے اس ملک میں بھیج دئیے۔
۱۹۹۵ میں اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنی “کور” نے برما میں اسلحہ بنانے کا ایک کارخانہ کھول دیا۔ یہ کمپنی جاسوسی کے مصنوعات اور آلات بنانے میں معروف ہے۔
اسی طریقے سے صہیونی کمپنی “ٹیلر” نے ۱۹۹۶ میں برما میں مواصلاتی نظام کو وسعت دینے کے لیے اپنی سرگرمیاں شروع کیں تاکہ اس ملک کی ہرطرح کی مواصلاتی اور ٹیلیفونی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
مئی ۱۹۹۷ میں صہیونی ریاست کے وزیر جنگ نے انکشاف کیا کہ صہیونی کمپنی”البیت” برما کے ساتھ ہوئے معاہدے کے نتیجے میں اس ملک کے جنگی طیاروں کو اپڈیٹ کرنے کا امتیاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
ان دو ریاستوں کے درمیان عسکری اور سکیورٹی تعلقات مزید پختگی کی راہ پر گامزن رہے یہاں تک کہ برما کی بری، فضائی اور بحری فورس کے بنیادی ڈھانچوں کو تقویت اور وسعت دینے میں برما حکومت صرف اور صرف تل ابیب پر ہی بھروسہ کر سکتی تھی یہاں تک کہ بہت سارے تجزیہ نگاروں نے ان دو ریاستوں کے درمیان پائے جانے والے سیاسی تعلقات میں گہرائی اور گیرائی کے پیش نظر یہ رائے قائم کر لی کہ برما عملی طور پر براعظم ایشیا میں صہیونی ریاست کا فوجی اڈہ بن چکا ہے۔
سن ۲۰۰۰ میں ایک طرف جہاں فلسطینی جوانوں کا الاقصیٰ انتفاضہ عروج پر تھا حکومت برما نے صہیونی ریاست کے ساتھ “ڈرونز” جنگی طیاروں اور “پیٹن ۴” میزائیلوں کی خریداری کا معاہدہ کیا۔

۲۰۱۵ میں برما آرمی کے سربراہ جنرل “مین اونگ ہیلنگ” نے اپنے سرکاری دورے پر مقبوضہ فلسطین میں صہیونی عہدہ داروں سے ملاقات کی اور دونوں فریقوں نے سکیورٹی اور انٹیلی جنسی کے میدان میں توسیع پر تبادلہ خیال کیا۔ صہیونی ریاست نے اس ملاقات کی جزئیات کو بہت چھپانے کی کوشش کی لیکن ہیلنگ نے فیس بوک کے اپنے ذاتی صفحے پر اس ملاقات کی جزئیات اور فوجی ٹریننگ اور اسلحہ کی خریداری کے حوالے سے کئے گئے معاہدوں سے پردہ ہٹا دیا۔
اس دورے میں برما آرمی کے سربراہ نے صہیونی ریاست کے “اشدود” بندرگاہ پر واقع بحری فوجی اڈے اور “پالماشیم” کے فضائی اڈے کا دورہ بھی کیا اور صہیونی اسلحہ سازی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ کی گئی ملاقاتوں میں ان کے ساتھ جنگی کشتیوں، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کی قراردادوں کا بھی مکمل کیا۔
حالیہ رپورٹوں کے مطابق، برما حکومت نے صہیونی کمپنی “TAR” جو فوجی ٹریننگ دینے میں اس وقت اسرائیل کی سب سے بڑی کمپنی ہے کے ساتھ معاہدہ کیا کہ جس کے نتیجے میں یہ کمپنی برما کی خصوصی فوج اور مسلح فورس کو “اراکان” ریاست میں ٹریننگ دے گی۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں پر ہم مسلمان نسل کشی اور مسلمانوں کے خلاف جاری بہیمانہ اور وحشیانہ جارحیت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں انسانی حقوق کے شعبے میں سرگرم ایک اسرائیلی وکیل نے صہیونی ریاست کے وزیرجنگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ برما حکومت کو جنگی ساز و سازمان اور اسلحے کی فروخت روک دی جائے اس لئے کہ وہ اس اسلحے کو بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام پر استعمال کرتے ہیں۔
اسرائیلی وکیل کا یہ مطالبہ صہیونی عہدہ داروں کی جانب سے مخالفت کے روبرو ہوا چونکہ کسی بھی صورت میں صہیونی ریاست اس بات کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ انسانی حقوق کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کے لئے اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرے۔
دوسری جانب سے “وللا” خبر رساں ایجنسی جو صہیونی ریاست کے انٹیلی جنسی ادارے سے منسلک ہونے کے عنوان سے معروف ہے نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں زور دیا گیا کہ اسرائیل برما کی فوج کی اسلحہ جاتی اور جنگی ہتھیاروں کی ضرورت کو پورا کرنے والا اہم ترین ملک ہے اور برما کی فوج کے اعلیٰ کمانڈر اسرائیل کے فوجی کمانڈروں کے ساتھ قریبی اور گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔
اس رپورٹ کے ایک حصے میں آیا ہے: “میانمار کی فوج اورمسلح افواج کے کمانڈر ان چیف اور مسلمانوں کے قتل عام کے براہ راست عہدہ دار، میانمار کی ان شخصیوں میں شمار ہوتے ہیں جو اسرائیل کے سکیورٹی اداروں سے بہت قریبی تعلقات رکھتے ہیں”۔
دوطرفہ تعلقات کے مزید استحکام کی غرض سے گزشتہ جون کو صہیونی ریاست کی وزارت جنگ کے نائب سربراہ “میشل بن باروخ” نے برما کے دورے پر ہیلنگ سے ملاقات کی۔گزشتہ ۲۵ اگست سے برما کی حکومت اور فوج نے اس ملک میں مسلمانوں کے قتل عام کے نئے دور کا آغاز کیا کہ یقینا اس قتل عام کے پیچھے اسرائیل کا مخفی ہاتھ ہے۔ اگر چہ عالمی سطح پر مسلمانوں نے اس قتل عام کے خلاف اپنا شدید رد عمل ظاہر کیا لیکن انسانی حقوق کے دعویدار عالمی اداروں کو اس سلسلے میں جیسا اپنا کردار نبھانا چاہیے تھا ویسا نہیں نبھایا اور ان کا رد عمل صرف بیان بازی کی حد تک تھا اور ہے۔ جبکہ برما کے مظلوم مسلمانوں کو عالمی برادری سے اس سے کہیں زیادہ کی توقع تھی۔(بشکریہ ابنا)

 

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...