بدھ , 13 دسمبر 2017

کوششیں دگنا کرنے کا ایک اور امریکی پیغام

پاکستان میں دوسری مرتبہ کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کو سرد ترین انداز میں خوش آمدید کہنے سے اس امر کا ادراک مشکل نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کی صورتحال موجود ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ سے امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس کی قیادت میں وفود کی ملاقاتوں میں ایک مرتبہ پھر اس امر پر اتفاق ہی سامنے آیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدت تعلق کی مشترکہ بنیاد تلاش کیا جائے۔ امریکی وزیر دفاع نے اس موقع پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مساعی کو دوگنا کرنے کی تلقین کی تو وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کا وہ دوٹوک اور اصولی موقف اپنایا کہ دہشتگردوں کے ٹھکانے پاکستان میں نہیں۔ آرمی چیف کا بھی یہی دوٹوک موقف تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کیا ہے۔ امریکی عہدیدار بار بار یہی مطالبات لیکر پاکستان آرہے ہیں۔ ہر بار ان کا بنیادی مطالبہ الزام پر مبنی ہوتا ہے اور اس کا جواب بھی اسی انداز میں ملتا ہے۔ ہر بار تعلقات کی مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا جاتا ہے مگر کامیابی واعتماد کی منزل ہنوز دور ہے۔ ہمارے تئیں اس کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اور ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔ امریکہ نے تو پاکستان کے کسی بات پر اعتماد نہ کرنے کو اپنی پالیسی بنا لیا ہے کیونکہ پاکستان کے بار بار کی وضاحت اور ان الزامات کے شواہد اور ان مبینہ ٹھکانوں سے متعلق معلومات دینے کے باوجود امریکہ کا مسلسل احتراز جیسے معاملا ت ایسے گھمبیر بن گئے ہیں کہ اب ان کا حل نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ دونوں ممالک تمام معاملات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سب سے پہلے ایک دوسرے کے شکوک وشبہات کا ازالہ کریں اور دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق اور اعتماد کی فضا پیدا ہو۔ معروضی صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان ایسا ممکن نظر نہیں آتا بلکہ دنیا میں کم ہی ممالک ایسے ہوں گے جو ایک د وسرے پر اعتماد کرتے ہوں اس کی بنیادی وجہ ہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہی ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان اور امریکہاپنی ترجیحات کا تعین اس طرح سے کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں کہ دوسرے فریق کو موقع اور جگہ مل سکے تو اس صورت میں مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ دونوں اپنی اپنی راہ چلتے رہے تو مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی منزل آنے کی بجائے منزل بھی ساتھ ساتھ محو سفر ہی رہے گی، کم ازکم اس وقت تک تو یہی صورتحال ہے۔
معروضی حالات اس امر پر دلیل ہیں کہ امریکہ پاکستان کی نہ سننے اور اپنی منوانے ہی کے جتن میں ہے جس کی وجہ سے ہر بار ان کے حکام اپنی سنا کر اور پاکستان کی سن کر چلے جاتے ہیں۔ یوں جملہ مذاکرات لاحاصل ہی ٹھہرتے ہیں۔ امریکہ خطے میں بھارت اور افغانستان کو ترجیحی ممالک کا درجہ دیتا ہے، امریکہ پاکستان پر تو دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کیلئے دبائو ڈالتا ہے مگر خود افغانستان میں موجودگی اور اثر ورسوخ کے باوجود ان گروپوں سے تعرض تک نہیں کرتا۔ پاکستان اولاً خود دہشت گردی کا شکار ہے اس مختصر مدت میں کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کے بد ترین واقعات ازخود اس امر کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف مسلسل نبرد آزما ہونے کے باوجود پاکستان ابھی تک دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ نہیں، ستم بالائے ستم ان واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کے ٹھوس شواہد بھی سامنے آتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں بیٹھی قیادت ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہے مگر دگنا کوششوں کی فرمائش پھر بھی پاکستان سے ہوتی ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے جب بھی معلومات میں شریک کیا گیا تو فوری اورکامیاب کارروائی کی صورت میں جواب ملا۔ امریکی حکام جب بھی پاکستان آتے ہیں تو اپنی آمد سے قبل کسی دوسرے ملک سے پاکستان کی قیادت کو سخت پیغام دیتے ہیں جس سے مذاکرات کا ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے۔ بداعتمادی کے اظہار کے بعد ایسا ہونا فطری امر ہے۔ پاکستان میں دوران مذاکرات جن معاملات پر اتفاق وعدم اتفاق ہوتا ہے اس کی روداد درون خانہ ہی رہتی ہے لیکن جس بات کا افشا ہوتا ہے اور جو اعلامیہ جاری ہوتا ہے اس میں امریکہ اور پاکستان کا موقف بھی وہی پرانا ہوتا ہے اور دونوں ممالک اپنے اپنے مقام پر ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع کے حالیہ دورے میں بھی اسی کا اعادہ دکھائی دیا، امریکی عہدیدار عموماً واپسی کے بعد بھی ایسے خیالات کا اظہار کرنے کے عادی ہیں جس سے ان کی پاکستان قیادت کے اقدامات سے عدم اطمینان سامنے آتا ہے جس کے بعد ایک اور دورے تک معاملات میں عدم ہم آہنگی کی کیفیت جاری رہتی ہے۔ امریکہ اور پاکستان کی قیادت جب تک اس رویئے پر نظر ثانی نہیں کرتے خاص طور پر امریکہ جب تک معروضی حقائق کو سمجھنے کی سعی کیساتھ خطے کے ممالک کیساتھ تعلقات میں حقیقی توازن قائم نہیں کرتا اس وقت تک نہ تو خطے میں استحکام کے مواقع پیدا ہوں گے اور نہ ہی افغانستان اور طالبان سے معاملت آگے بڑھے گی۔(بشکریہ روزنامہ مشرق)

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...