منگل , 12 دسمبر 2017

یمن پر وحشیانہ سعودی جارحیت، متعدد عام شہری شہید

صنعا(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن پر وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئےمزید یمنی شہریوں کو خاک و خون میں غلطاں کردیا ہے جبکہ سابق صدر عبداللہ صالح کےقریبی فوجی کمانڈروں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

لبنان کی العہد نیوز ویب سائٹ نے خبردی ہے کہ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں عام شہریوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جس میں آٹھ عام شہری شہید اور دس دیگر زخمی ہوگئے۔
یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں میں اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔
اس درمیان سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج نے صوبہ حجہ کے صحرائے میدی میں سعودی فوجی اتحادیوں کے ٹھکانوں پر زلزال ایک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔العالم نےمیدی میں ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے خبردی ہے کہ سعودی فوجی اتحادیوں کے ٹھکانوں پر زلزال ایک میزائلوں کے حملوں کے ساتھ ہی یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے توپخانوں سے بھی شدید حملے کئے ہیں جن میں دسیوں سعودی اتحادی فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئےہیں جبکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی افواج کی متعدد بکتربندگاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔
میڈیا ذرائع نے بھی خبردی ہے کہ سعودی عرب نے سرحدی علاقے میں ہونے والی لڑائیوں کے دوران اپنے پانچ فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔
دریں اثنا یمن کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ سابق صدر عبداللہ صالح کے صدارتی گارڈ کے سربراہ اور عبداللہ صالح کے سب سے قریبی فوجی کمانڈر میجرل جنرل مہدی مقولہ کو صنعا کے مضافاتی علاقے ریمہ حمید میں ہلاک کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب یہ بھی خبر ہے کہ عبداللہ صالح کے ایک اور قریبی فوجی کمانڈر میجرجنرل عبداللہ صعبان نے عوامی تحریک انصاراللہ کے سامنے ہتھیار ڈال دئے ہیں۔ اس درمیان عبداللہ صالح کے مسلح گروہ کے کمانڈر اور ان کے بھتیجے طارق محمد عبداللہ صالح کو بھی جنھیں عبداللہ صالح کے بعد ان کا جانشین تصور کیا جارہاتھا منگل کو انصاراللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینیوں کو یروشلم کے حوالے سے حقیقت کو تسلم کر لینا چاہیے: بن یامین نتن یاہو

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ فلسطینیوں ...