منگل , 12 دسمبر 2017

صدر ٹرمپ کا فلسطین دشمن فیصلہ اور چندگزارشات

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اعلان کے مطابق یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرلیا صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ بیت المقدس کامیاب جمہوریت کا مرکز بنے گا جہاںتمام مذاہب کے لوگ پرسکون زندگی گزار سکیں گے۔ امریکی صدر کے فیصلے پر حماس کے رہنماؤں اور فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام سے اس کا ثالثی کا کردار ختم ہوگیا ٹرمپ نے جہنم کا دروازہ کھول دیا ہے۔ پاکستان، ایران اور ترکی نے امریکہ کے فیصلے کو عالمی اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کے امن کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کا فارمولہ دفن ہوگیا۔ ایک نئی تحریک مزاحمت کا دروازہ کھلا ہے اس فلسطین دشمن فیصلے کی تائید نہیں کی جاسکتی۔
امر واقعہ یہ ہے کہ یروشلم(مقبوضہ بیت المقدس)کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کے امریکی اعلان نے دنیا بھر میں ایک ہیجان برپا کردیا ہے۔ فرانس نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خود پسندی کا شاہکار ہے۔ یورپی یونین نے دہشت گردی کی نئی لہر دعوت دینے والا فیصلہ کہا ہے۔ عربوں کا ردعمل حسب سابق ہے۔ 2006ء کی اسرائیل حزب اللّہ جنگ کے وقت عرب لیگ نے امریکہ کے ایما پر حزب اللّہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ 2015ء اور 2016ء میں اسرائیل نے غزہ میں جو کارروائیاں کیں ان کے لئے پیشگی جاسوسی کا کردار متحدہ عرب امارات کی اس میڈیکل ٹیم کے ارکان نے اداکیا جو بظاہر غزہ میں بے نوا فلسطینیوں کا علاج کرنے کے لئے مقیم تھی۔ترکی سمیت چند مسلم ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ یمن کے خلاف جاری جارحیت میں اسرئیل عرب اتحاد کا پر جوش حامی ہے اور متعد موقع پر اس کے طیاروں نے حوثیوں کے خلاف کارروائی بھی کی۔ آج کی مسلم دینا کی غالب اکثریت امریکہ نواز ہے۔ ایران، شام اور عراق اگرچہ روسی کیمپ میں ہیں مگر خود روس کا یروشلم پر سیاسی و سفارتی موقف کسی سے پوشیدہ نہیں، تو کیا امریکی باج گزاری کے اس موسم میں مسلم دنیا امریکہ کے اقتصادی و سفارتی بائیکاٹ کا خطرہ مول لے سکتی ہے؟۔ اس سوال کا جواب اس نصف سطر میں ہے کہ ’’سعودی عرب اور قطر نے ابھی چند ماہ قبل امریکہ سے لگ بھگ 500ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے معاہدے کئے ہیں‘‘۔امریکی صدر کے مذکورہ فیصلے پر جذباتیت کے مظاہرے کی بجائے ٹھوس حکمت عملی اور سنجیدہ سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج مسلم دنیا میں یہ دونوں چیزیں کہیں دستیاب ہیں؟۔ سادہ سا جواب نفی میں ہے۔ مسلکی و گروہی اور پھر عرب و عجم کی تقسیم کے ساتھ خالص اور غیر خالص عرب ہونے کا خنا بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان حالات میں مسلم دنیا، عرب لیگ یا اُمہ کی بیوہ او آئی سی سوائے اجلاسوں اور قراردادوں کے کچھ بھی تو نہیں کرسکتے۔ بردارکشی کے گھناؤنے کھیل میں مصروف سعودی عرب سے اگر کوئی توقع نہیں تو کسی دوسرے مسلم ملک سے بھی اُمید سرابوں کے پیچھے بھاگنے والی بات ہوگی۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج کی مسلم دنیا کے پاس عالمی سطح کا کوئی مدبر ہی موجود نہیں۔ بونے ہر طرف دندناتے پھر رہے ہیں ان بونوں کو مسلم دنیا پر مسلط کروانے کے لئےپچھلی نصف صدی کے دوران عالمی سامراج امریکہ نے جوسازشیں کیں ان کے لئے کردار اسے مسلم دنیا سے ہی ملے۔12ارب ڈالر کا قرضہ معاف کروانے کے لئے مصر کے ایک مرحوم صدر انوارالسادات نے کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے پر دستخط کردیئے تھے مسلم دنیا آج جس شرمناک مقام پر کھڑی ہے یہاں تک اسے اس کے قائدین ہی لائے ہیں۔ اندریں حالات یہ عرض کرنا ازبس مناسب ہے کہ اگر فلسطینیوں کی سنجیدہ طور پر مدد کرنی ہے تو پہلے اپنی صفوں سے ہر قسم کا گند صاف کیجئے، باہمی اختلافات اور مسلکوں کی بالادستی کے لئے برادرکشی کا دھندہ بند کروائیے۔ جذباتی فیصلے اور شوروغل سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے کا نہیں۔معاف کیجئے گا طاقت کا توازن بھی مسلم دنیا کے حق میں نہیں۔ معمولی سی غلطی ایسی آگ بھڑکائے گی جو دشمنوں سے زیادہ اپنی بربادیوں کا سبب بنے گی۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ جب تک مسلم دنیا متحد نہیں ہوتی عالمی طاقتوں یا اسرائیل سے کوئی مطالبہ نہیں منوایا جاسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے گھر کے ماحول کو بہتر بنائیے باہمی اتحاد کو فروغ دیجئے اور پھر مطالبہ کیجئے (بشکریہ unnnews.net)

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...