جمعرات , 19 جولائی 2018

مسلکی عناد امت لہو لہو

(کالم نگار | عزیز ظفر آزاد)
شیطانی اتحاد ثلاثہ آخر کام باہم انتشار و عناد زدہ مسلم دنیا کی غیرت حمیت پر تازہ ضرب لگا چکا ۔ صدر ٹرمپ نے اپنے انتخابی منشور اور پینٹاگون کے دستور پر عمل کرتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ ماننے اور بنانے کا واشگاف اعلان کیا ۔ یرووشلم کو دارلخلافہ بنانا یہودیوں کا خواب تھا اور مسلم دنیا کے لئے قبلہ اول کو یہودیوں سے آزاد کرانا فرض عین سمجھا جاتا تھا مگر ذاتی انا اور مسلکی عناد میں غرق مسلم حکمران اتنی بڑی حزیمت پر بھی پشیمان دکھائی نہیں دیتے ۔ دراصل کفار کی لڑائو اور حکومت کرو کی حکمت عملی اور ہوس اقتدار کے مارے بدکرارمسلمان حکمرانوں کی خودغرضانہ سوچ کے سبب آج یہ بھیانک دن دیکھنا پڑا ۔

پہلی جنگ عظیم میں جب خلافت عثمانیہ کے خلاف عرب عجم نفرت کا پرچم عرب سرداروں نے بلند کیا تو تین براعظموں پر محیط عظیم اسلامی سلطنت سے بغاوت اور غداری کے صلے میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے والی اور حاکم بن گئے ۔ نئے منظر نامے میں ان کی اولاد نے مسلم ملت کو مسلکی عناد میں الجھا کر پارہ پارہ کر ڈالا ۔ آل سعود خادم حرمین شریفین ہونے کی حیثیت سے عالم اسلام کے لئے نہایت تعظیم و اکرام کے حامل سمجھے جاتے تھے مگر ایران عراق جنگ میں اپنی غیر جانبداری برقرار نہ رکھ سکے اور تمام وسائل اور قوتیں ایران کے خلاف عراق کی حمایت میں جھونک دیے ۔ پھر عراق کی کویت پر یلغار کے موقع پر عراق کو نابود کرنے پر تلے رہے ۔ ویسے تو فلسطین کی آزادی کے حامل تھے مگر وہاں لڑنے والی حریت کی تحریکوں کی کبھی خاطر خواہ مدد نہیں کی ۔

مصرمیں اخوان المسلمین منتخب حکومت کو پس دیوار زنداں ڈالنے میں بھی ان کا کردار محسوس ہوا ۔ اب قطر کے خلاف تازہ مخاصمت نے تو پینٹاگون کے آلہ کارکی شکل میں نظر آئے ۔ سعودی حکمران نہ تو شام میں بشار ت الاسد کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو سکے بلکہ یمن میں جاری جنگ میں اربوں ڈالر جھونکنے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہے کہ ایران کے اثر و رسوخ کو زائل کرنے کے لئے اسرائیل کی مدد سے بھی گریز کرتے دکھائی نہیں دیتے ۔یہ حقیقت تو عیاں ہے کہ ایرانی ایٹمی معاہدے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اس بیان میںجس میں ایران پرعالمی ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام ہے صرف سعودیہ اور اسرائیل نے ہی خیر مقدم کیا ہے جبکہ امریکی کانگریس بھی اس بیان سے مطمئن نہیں ۔

لبنان میں شیعہ حریت تنظیم حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں نے سعودیہ اور اسرائیل کو مزید قریب ہونے کا موقع دیا ۔ دونوں ممالک ایران کی جوہری پروگرام کو کسی قیمت پر کامیاب دیکھنے کو تیار نہیں ۔صدر ٹرمپ کا سعودی اسرائیل دورہ دونوں ممالک میں مفاہمت و قربت کا عکاس ہے ۔ آج کی صورت حال کے مطابق مشرقی وسطی مسلم اکثریتی خطہ شیعہ سنی تقسیم ہی نہیں بلکہ ایک تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ ایران کے ساتھ عراق کی شیعہ حکومت شامی حکمرانوں کے علاوہ حزب اللہ اور دوسری مزاحمتی تنظیمیں جبکہ سعودی گروپ میں مصری حکومت ، بحرین ، عرب امارات ، کویت اور اردن شامل ہیں ۔ اس پورے خطے میں کسی مسلم دشمن قوت کو زحمت کی حاجت نہیں کیونکہ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو ہلاک اور برباد کرنے کی راہ پر گامزن ہیں ۔ ستم بالائے ستم مسلمان مسلمان کو قتل کر رہا ہے ۔ املاک تباہ کر رہا ہے ۔ وسائل برباد کر رہا ہے جس کے باعث کفار کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کا کاروباربام عروج پر ہے جس کی واضح مثال صدر ٹرمپ کے سعودی دورے کے موقع پر دنیا کے سب سے بڑے اسلحے کے سودے کا معاہدہ ہے ۔ جس میں پانچ سو ارب ڈالرز کے ٹینک آرٹری ، ریڈار سسٹم ، بکتربند گاڑیاں ، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور پیٹرائٹ میزائل شامل ہیں ۔ یعنی مسلم دنیا کو اللہ نے جو نعمتیں عطا کیں نالائق حکمران اس رحمت کو عذاب میں تبدیل کر رہے ہیں۔ایران ،سعودیہ مسلکی جنگ مشرق وسطی تک محدود نہیں پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں بھی انہوں نے عسکری دھڑے بندیاں بنا رکھی ہیں جس سے ریاستی یک جہتی اور استحکام کو خدشات لاحق ہیں ۔ پینٹاگون کی مدد سے سعودیہ میں آنے والی تبدیلیاں اسرائیل کے لئے مزید آسانیاں پیدا کررہی ہیں ۔شہزاد ہ محمد بن سلمان ایک جانب جدیدیت پسندی پر تیزی سے گامزن ہے۔

دوسری طرف اندرونی و بیرونی متعدد محاذوں پر الجھتے جا رہے ہیں جس سے آنے والے دنوں میں مشکلات میں اضافہ ہوگا اور صیہونی قوتوں کے لئے میدان مزید آسان ہو جائے گا ۔ مسلم دنیا کے باہم خلفشار کے باعث ہی صدر ٹرمپ کے لئے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ بنانے کا اعلان سہل محسوس ہوا ہوگا ۔صدر ٹرمپ کے بے باک اور بے ہودہ اعلان کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج دیکھنے میں آیا ہے ۔ فلسطین کے عوام تو آگ بگو لا ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے ۔ غزہ مغربی کنارے خان یونس ، بیت اللھم اور رمولا سمیت پورے خطے میں اہتجاج ، تعلیمی ادارے ، دفاتر اور بازار مکمل بند ہیں ۔ لوگ سڑکوں پر ٹرمپ کے پتلے امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کر رہے ہیں ۔پاکستان ،ایران ، ترکی سمیت تمام اسلامی ممالک کے عوام نے فیصلے کو نفرت کی نظر سے دیکھتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیا ۔ترک صدر طیب اردگان نے اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا جبکہ فرانس ،مصر ، اٹلی ، برطانیہ اور دیگر ممبر ممالک کی درخواست پر سلامتی کونسل کااجلاس طلب کر لیا گیا ۔یورپی یونین نے بھی ٹرمپ فیصلہ پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے ۔برطانوی وزیر اعظم نے مذکورہ فیصلے کو امن عالم کے لئے خطرہ قرار دیا ۔ فرانس کے پوپ نے اس فیصلے کو تاریخ کی غلطی بتایا ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کی ریاست تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔ امریکی یک طرفہ اقدام عالمی امن کو تباہ کر دے گا ۔

قارئین کرام ۔ صدر ٹرمپ کے فیصلے پر حیرت نہیں کیونکہ عالم کفر تو مسلمانوں کو مغلوب کرنے کا ہر حربہ بروئے کار لائے گا ۔ مسلم دنیا کی پسپائی اور رسوائی کی اصل وجہ باہم دست گریباں ہونا ہے ۔تیل سے مالا مال دنیا کی دو اہم اسلامی سلطنتیں مسلکی برتری کے خبط میں مبتلا امت کو لہو لہو کر رہی ہیں ۔ سعودیہ اور ایران کی حکمت و تحمل سے عاری قیادتیں اپنے مسلک کو مسلط کرنے کی دیوانگی میں عالم اسلام کی بربادی کا سبب ہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

ہلسنکی میں پیوٹن ٹرمپ ملاقات پر کچھ تبصرہ

(تسنیم خیالی) ہلسنکی میں روسی صدر پیوٹن اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ...