بدھ , 25 اپریل 2018

مسلم امہ ہے کہاں؟

(سالار سلیمان)
سال1948ء سے قبل فلسطین کی ریاست پر بھی تاج برطانیہ کا راج تھا تاہم اس راج کی نوعیت برصغیر پر راج کی نوعیت سے بہت مختلف تھی۔ جنگ عظیم دوئم ہو چکی تھی اور یہ جنگ عظیم جن مقاصد کے تحت لڑی گئی تھی ، اُس میں سے ایک مقصد ریاست اسرائیل کا قیام بھی تھا۔ 1948ء میں تاج برطانیہ نے جزیرہ عرب سے بھی رخت سفر باندھ لیا۔ اس سے قبل فلسطین میں مسائل پیدا ہو نا شروع ہو چکے تھے کیونکہ یہودیوں نے مختلف مقاصد کیلئے جو زمینیں فلسطینیوں سے خریدی تھی، اُنہوں نے وہاں پر نہ صرف رہائشیں اختیار کرنا شروع کیں بلکہ پوری دنیا سے یہودیوں کو وہاں لا بسانا شروع کر دیا۔ جب تک یہ سازش عربوں پر واضح ہوئی تو اُس وقت تک پلوں سے اتنا پانی گزر چکا تھا کہ یہودی اب اپنی منوانے کی پوزیشن پر تھے۔ تاج برطانیہ کے ساتھ ساتھ اُن کی پشت پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا ہاتھ بھی تھا۔ برصغیر میں1947ء میں نظریے کی بنیاد پر ایک ریاست قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں پاکستان کے نام سے وجود میں آ چکی تھی اور سب ہی جانتے تھے کہ نظریے ہی کے نام پر عرب میں ایک اور ریاست وجود میں آنے والی ہے۔ 1947ء میں اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین کیلئے تین ریاستی حل تجویزکیا۔یعنی ایک حصہ مسلمانوں کیلئے، ایک حصہ پر یہودی اور ایک حصہ عیسائیوں کیلئے مختص کرنا اُس دستاویزات کا حصہ تھا۔ عربوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا ۔

کرہ عرض یہ خطہ مقدس تسلیم کیا جاتا ہے اور چاروں مذاہب اپنی جڑیں اس خطے میں محسوس کرتے ہیں۔ یہودیوں کی اس خطے سے الفت 3ہزار سال پرانی ہے۔ جب یہ اللہ کی لاڈلی قوم تھے اور اللہ نے اِن کو نوازا تھا اور رَج کے نوازا تھا، تاہم یہ پھر نافرمان ہوئے، اِن پر پھٹکار پڑی اور یہ زمین پر نشان عبرت بن کر رہ گئے۔ ماضی میں مسلمانوں کی بیت المقدس کو لے کر اس قوم کے ساتھ جنگیں اور فتوحات بھی تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ آج بھی مسلمان اپنے بچوں کے نام صلاح الدین ایوبی رکھتے ہیں۔تاہم، یہودی اس سارے عرصے میں یہ پلاننگ کرتے رہے کہ کیسے اِنہوں نے اُس کرہ عرض میں واپس جانا ہے۔

مسلمانوں کیلئے اس مقام کی اہمیت قبلہ اول، انبیاء علیہ السلام کے مزارات اور مقامات مقدسہ کی وجہ سے ہے۔ اس خطے کے حوالے سے احادیث بھی موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ہی دنیا کے مسلمان مسئلہ فلسطین کو امت مسلمہ کا مسئلہ کہتے ہیں۔ 1948ء میں جب تاج برطانیہ نے یہاں سے کوچ کیا تو اسرائیل نے بزور طاقت اپنی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اسرائیل چند ہی سالوں میں اتنا طاقتوراس لئے ہوا کہ یہودی اس ریاست کے حصول کیلئے تقریباً300سال قبل اپنا گیم پلان مرتب کر چکے تھے۔ دنیا بھر کا یہودی سرمایہ اس ریاست کے قیام کے پیچھے کار فرما تھا۔ 1947ء کا تین ریاستی حل مسترد ہونے کے بعد یہودیوں نے 1948ء میں قبضہ جمانے کے بعد بھی مزید قبضہ سے گریز نہ کیا۔ 1948ء کی جنگ کے بعد مشرقی یروشلم پر اردن قابض ہو گیا اور مغربی یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ جما کر اُس کو اپنا دارلحکومت ڈکلیئر کر دیا۔ اس کے بعد 1967ء کی مشہور زمانہ جنگ میں عربوں کی شکست کے بعد پورے یروشلم پر یہودیوں نے قبضہ کر کے اُس کو اپنا دارلحکومت ڈکلیئر کر دیا۔ تاہم، عالمی قوانین کی روشنی میں آج بھی یہ علاقہ مقبوضہ علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس علاقے پر عالمی قوانین ہی لاگو ہوتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے انتخابات میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کریں گے۔ کل ٹرمپ نے اپنا وعدہ 1995ء کی ایک قرارداد کی روشنی میں پورا کر دیا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ایک امریکی صدر اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ مقبوضہ علاقے کو ایک ریاست کا دارلحکومت کیسے تسلیم کر سکتا ہے؟ نا صرف یہ بلکہ اپنا سفارتخانہ بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ اس ایک اعلان نے امریکہ کی سات دہائیوں پر مشتمل سفارتی پالیسی ہی نہیں بلکہ خطے کی امن کی تاریخ کو بھی تبدیل کر دیا ہے ۔ عربوں میں پہلے ہی پھوٹ پڑ چکی ہے،ایران کو مختلف طریقے سے گھیرا جا چکا ہے ۔پاکستان بھی خطے میں انگیج ہے اورعالم اسلام کی تقسیم نے ترکی کو اس پوزیشن میں رہنے نہیں دیا کہ وہ کوئی ٹھوس اقدام کر سکے۔اہم عالمی رہنماؤں کی جانب سے انتہائی مذمت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ عیسائیوں کے مذہبی پیشوا ’پوپ‘ نے مذمتی خط بھی لکھ دیا ہے۔ اس اعلان کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔

اصول ازل سے یہی ہے کہ غالب ہی مغلوب سے اپنی شرائط پر معاہدے کرتا ہے اور بہت معاملات میں غالب کو معاہدوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ہے۔ امریکا نے سرخ لکیر عبور کر دی ہے اب کیا مسلم امہ اس کا سخت ردعمل دے گی؟ مسلم امہ؟ مسلم امہ ہے کہاں؟۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے جب شہید صالح الصماد کو نشانہ بنایا

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے جب شہید صالح الصماد کو نشانہ بنایا