بدھ , 25 اپریل 2018

” ڈومور کی سیاست “

(سید شرجیل احمد قریشی )
“ڈومور” کا لفظ پاکستانی سیاست اور عوام کے لئے کوئی نیا لفظ نہیں اس خطے میں رہنے والے تقریبا ہر شخص کواسکی تعریف ، اس کے مطلب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں سے آگاہی ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں جب بھی کسی دوست ملک کو کسی بھی پہلو میں مدد درکار ہوئی توان کو اس بات کا یقین دلوایا گیا کہ ہم اس ملک کے ساتھ ہیں تو جواب میں ہمیشہ آواز آئی” ڈومور”۔

پاکستان نیٹو افواج کا اور امریکہ کا ایک مضبوط اتحادی ہے اور جب جب نیٹو کو اس اتحادی کی ضرورت پڑی تو پاکستان نے آگے بڑھ کر ان کی مدد اور سپورٹ کی اور اس بات کا یقین دلوایا کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پاکستانی فوج اور پاکستانی عوام اپنے اتحادیوں کے ساتھ متحد ہے اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بین الاقوامی طاقتوں اور حکومتوں نے پاکستان اور پاکستانی افواج کی قربانیوں کی تعریف ضرور کی مگر دوسری طرف انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا پاکستان کو مزید ڈومور کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے ۔

ابھی پچھلے دنوں امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستان کا دورہ کیا اور انہوں نے بھی اس بات پر زور دیا کے پاکستان کو مزید ڈومور کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پڑوسی ممالک جن کو ابھی ہماری سطح تک اور ہمارے لیول تک پہنچنے میں کئی صدیاں لگیں وہ بھی ڈومور کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں ان کی نظر میں پاکستان خدانخواستہ ایک دہشت گرد ملک ہے اور ان کے نظریے کے مطابق ان کے ملک میں جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوا تو اس واقعہ میں پاکستان بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث پایاگیا۔ وہ حملہ چاہے ممبئی میں ہوں یا اڑی میں یا ان کو کوئی کبوتر مل جائے تو اس کا تعلق بھی پاکستان سے ہے اور وہ بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کو بھی ڈومور کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

ان نام نہاد ریاستوں میں چاہے کتنی بھی خانہ جنگی ،طاقت کے حصول کی جنگ، یا فرقہ واریت ہو پھر بھی پاکستان کا نام ہی آتا ہے کیونکہ انکے آباو اجداد اور ان کی آنے والی نسلوں کے ذہن میں یہ بات نقش کردی گئی کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے اور اس کے دیگر ممالک کے دہشت گردوں سے روابط ہیں اور پاکستان ان دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی کرتا ہے۔ حالا ں کہ جو کچھ مقبوضہ وادی کشمیر میں معصوم اور نہتے لوگوں کے ساتھ گزشتہ ستر سالوں سے کیا جارہا ہے وہ ریاستی دہشت گردی کسی بھی طرح قابل قبول نہیں اور اس ملک کو امن کی ڈومور پالیسی پر یقین نہیں اس لیے وہ طاقت کا بے جا استعمال کرکے ان لوگوں کی حق خود ارادیت کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں جو کہ انشاءاللہ کبھی ممکن نہیں ہوگا اور کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ انشاءاللہ۔

بالکل اسی طرح ہماری عوام سیاستدانوں کو منتخب کرنے کے بعد ان کو ایوانوں میں پہنچانے کے بعد ان سے جس بات کی امید رکھتی ہے وہ ہے “ڈومور”۔ عوام کبھی تعلیم کے حصول میں دشواری تو کبھی صحت کے مسائل کا سامنا کہیں پینے کا صاف پانی نہیں اور کبھی سکیورٹی کی ناقص صورتحال اس کے باوجود بھی ہم عوام اپنے منتخب نمائندوں سے جس بات کی امید کرتے ہیں وہ ہے ڈومور۔ عوام چاہتی ہے کہ منتخب نمائندے اس ڈومور کی پالیسی پر عمل کرکے پاکستانی عوام کو وہ تمام سہولتیں مہیا کرے جس کا وعدہ انہوں نے اپنی الیکشن مہم کے دوران کیا اور جسکا وعدہ واضح طور پر پاکستان کےآئین میں موجود ہے۔

میرے خیال کے مطابق پاکستان کو اب ڈومور کے بجائے “نو مور” کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے اور اپنے اتحادیوں کو ایک واضح پیغام دینا چاہئیےکہ پاکستان پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکا ہے اور اب پاکستان کی سرزمین کسی بھی فوجی آپریشن کے لیے نہ تو استعمال کی جائے گی اور نہ ہی کی اجازت دی جائے گی کیوں کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور پاکستانی کسی بھی ڈومور کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اس ملک کی خود مختاری اور سالمیت کا سودا نہیں کرسکتے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے جب شہید صالح الصماد کو نشانہ بنایا

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے جب شہید صالح الصماد کو نشانہ بنایا