بدھ , 17 اکتوبر 2018

مسئلہ فلسطین :پاکستان کہاں کھڑاہے؟

(سید فرخ عباس)

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے اس پالیسی کے خلاف اور مذمت میں بیان جاری کیے جا رہے ہیں۔پاکستان کی جانب سے بھی اس سلسلے میں صدر مملکت کی جانب سے مذمتی بیان جاری کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی مذمتی قرارداد کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت سے مشترکہ طور پر منظور کیا گیا، راقم چونکہ اپنی صحافتی زمہ داریاں ادا کرنے کے لیے ایوان مین موجود تھا اس لیے اس دوران جو کچھ دیکھا اس کو بیان کرنا چاہتا ہوں۔

اس قراراداد کے پیش کرنے کے دوران نا تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایوان میں موجود تھے اور نا ہی اپوزیشن لیڈر خورشید احمد شاہ نے ایوان میں آنے کی زحمت فرمائی۔وزیر خارجہ خواجہ آصف جو اسلام آباد میں تو موجود تھے لیکن وہ بھی قومی اسمبلی میں حاضر نہ ہوئے۔حکومت کی جانب سے یہ قرارداد وزیر کشمیر و امور شمالی علاقہ جات نے پیش کی ، اصولی طور پر یہ قرارداد وزیر خارجہ کو خود پیش کرنی چاہیے تھی تاکہ عالمی سطح پر پاکستان ایک مضبوط موقف کے ساتھ یہ مقدمہ لڑ سکتا۔ وزیر موصوف تقریر شروع کرتے ہی تاریخوں کو گڈ مڈ کر بیٹھے جس کی وجہ سے ان کی تقریر معنویت سے خالی محسوس ہوئی۔وزیر موصوف کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن کے اراکین کی سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ کسی نے تقریر سننا گوارا نا کیا بلکہ آپس میں خوش گپیوں میں مشغول رہے۔

جناب برجیس طاہر کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے سید نوید قمر نے اس موضوع پر ایک جاندار تقریر کی لیکن ان کی تقریر کے دوران بھی حکومتی اور اپوزیشن اراکین کا غیر سنجیدہ رویہ برقرار رہا۔ ان کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی نے ایک طویل اور تشفی طلب تقریر کی جس میں مسئلہ فلسطین کی تاریخ اور اس پر موجود اقوام متحدہ کی جانب سے پاس کی جانے والی قراردادوں کو بیان کیا گیا اور ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے ان قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تنقید کی گئی۔ ان کی جانب سے نا صرف مسلمان ممالک کی جانب سے کیے جانے والے تحفظات کا اظہار دہرایا گیا بلکہ چین ، روس اور فرانس کی جانب سے اس معاملے پر دیے جانے والے بیانات کو بھی سراہا گیا۔ ان کی تقریر کے دوران بھی اراکین اسمبلی اپنی گفتگو میں کھوئے رہے، اور کسی نے ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔

اس کے بعد ضیاالحق کے چشم و چراغ اعجاز الحق بھی اس معاملے پر لب کشا ہوئے۔ گو کہ تاریخ میں فلسطینی مہاجرین پر اردن میں بلیک ستمبر نام کا آپریشن کرنے والوں میں ان کے والد کا نام سر فہرست درج ہے۔ اب آپ اس کو منافقت کہیں یا کچھ اور یہ آپ کی مرضی ہے۔

تو یہ تھا پاکستان کی قومی اسمبلی میں فلسطین کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد پر سنجیدگی کا عالم۔ اس ایک واقع سے آپ دیگر مسائل پر پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کی دلچسپی اور سنجیدگی کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں۔اب بات کریں سلیپنگ بیوٹی ایز نون ایز امت مسلمہ کی تو یہ بالکل ویسےہی خیالی ہے جس طرح گیم آف تھرونز کے ڈریگنز ۔ اس امہ کے آدھے ممالک تو اس قابل کی ہی نہیں کہ ان کا شمار تین یا تیرہ میں کیا جا سکےاور جو قابل شمار ہیں وہ آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔

آپ مسئلہ فلسطین پر مسلمان ممالک کی پالیسیز کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسرائیل کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنرز مصراورترکی ہیں۔ جو اس کو تیل اور گیس کےعلاوہ دیگر اشیا ضروریہ مہیا کرتے رہے ہیں اور ابھی تک کر رہے ہیں۔

بات کریں سعودی عرب کی تو یمن میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل کر نے کے بعد امریکہ سے چار سو ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے اور اپنی بادشاہت کے تحفظ کے لیے اسی امریکہ کی جانب مدد کے لیے دیکھنے والا ملک فلسطین کی آزادی کے لیے کسی کوشش کے قابل نہیں، گو کہ سعودی یمن اور شام میں لڑنے والے دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں لاکھوں ڈالرز خرچ سکتا ہے۔ اور اب تو سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ کیا جانے والا ایران مخالف اتحاد بھی منظرعام پرآچکا ہے۔ اس طرح قطر کی جانب سے ٹرمپ کی بیان کی مخالفت سامنےآئی ہے۔

فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونے والا ملک شام پہلے ہی اپنے عرب پڑوسیوں کی بدولت دہشتگردی کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، عراق کی صورتحال بھی داعش کو شکست دینے کو بعد بہتری کی جانب گامزن ہے۔

ایران کی جانب سے بھی اس ٹرمپ کے بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس بات کی تنبیہ کی گَئی ہے کہ یہ اقدام مشرق وسطی میں حالات کو مزید خرابی کی جانب لے کر جا سکتا ہے۔ حماس کی جانب سے ایک اور انتفادہ کا اعلان بھی سامنے آیا ہے اور حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کی دھمکی بھی خبروں کی زینت ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ ٹرمپ کی یہ پالیسی دنیا میں ایک اور جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک سوال جو یہاں پوچھا جانا ضروری ہے ، وہ یہ کہ اس چالیس ملکی اسلامی اتحاد کا کیا ہوا جو امہ کے مسائل کے حل کے لیے تشکیل دیا جا رہا تھا؟ کیا وہ صرف چند مسلمان ممالک کے خلاف تھا اور کیا اس کا کام صرف ایک خاندان کی بادشاہت کا دفاع کرنا ہے یا فلسطین کے لیے بھی کچھ کر پائے گا؟

یہ بھی دیکھیں

پی ٹی آئی کی ضمنی الیکشن میں شکست، کیا یہ پچھلے 50 دن کے غلط فیصلے تھے؟

عمران خان جن دو حلقوں سے جیتے تھے پی ٹی آئی اُن حلقوں سے بھی ...