بدھ , 17 اکتوبر 2018

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل: ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی عائد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کے دوران سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ٹیسٹ کرکٹر ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی عائد کردی۔جسٹس ریٹائر اصغر حیدر کی سربراہی میں سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا اور سابق وکٹ کیپر وسیم باری پر مشتمل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے ناصر جمشید کے خلاف اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل پر فیصلہ سنایا۔

خیال رہے کہ ناصر جمشید پر پی سی بی کے ضابطہ اخلاف کی دو شقوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا جس میں سے ایک شق معلومات کی فراہمی کے حوالے سے ہے جس میں انہیں سزا سنائی گئی۔پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ ناصر جمشید نے اس کیس میں تاخیری حربے اپنائے جس کی وجہ سے ان پر پابندی عائد کی گئی۔ٹریبیونل کے فیصلے پر ناصر جمشید کے وکیل فیصل وڑائچ نے موقف اختیار کیا ہے کہ اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے ان کے موکل کو اسپاٹ فکسنگ کے الزامات سے بری کردیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس کیس میں فتح ہوئی ہے،

پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں متحدہ عرب امارات میں منعقدہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کے آغاز میں ہی اسپاٹ فکسنگ کے الزامات پر اسلام یونائیٹڈ کے دو کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا تھا.بعد ازاں شاہ زیب حسن، ناصر جمشید اور فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو بھی بکیز سے رابطے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے پی ایس ایل سے باہر کر دیا گیا تھا۔محمد عرفان نے پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کا اعتراف کر لیا تھا جس کے بعد ان پر،

ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر ایک سال کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔پی سی بی نے عرفان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ڈسپلن بہتر ہونے پر فاسٹ باؤلرز کی سزا 6 ماہ تک محدود کی جا سکتی ہے۔خیال رہے کہ ناصر جمشید کو اسپاٹ فکسنگ کیس میں مبینہ طور پر سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے بھی یوسف نامی بکی کے ساتھ گرفتار کیا تھا لیکن بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔پی سی بی کے سابق چیئرمین توقیر ضیا نے پی ایس ایل فکسنگ،

اسکینڈل میں ٹیسٹ کرکٹر ناصر جمشید کو مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔رواں برس 30 اگست کو پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے شرجیل خان کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس میں لگائے گئے الزامات ثابت ہونے پر 5 سال کی پابندی عائد کردی تھی۔علاوہ ازیں اس کیس میں ملوث خالد لطیف پر الزامات ثابت ہونے پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے 5 سال کی پابندی عائد کردی تھی جبکہ شاہ زیب حسن سے متعق کیس ابھی زیر التواء ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایس ایل: کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ کا عمل لاہور سے اسلام آباد منتقل

اسلام آباد (مانیترنگ ڈیسک) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2019 کے لیے تمام 6 ...