بدھ , 17 اکتوبر 2018

یہ کس کا ستارہ گردش میں ہے؟

(تحریر: سیدہ سائرہ بانو)
خبر گرم ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جو عنقریب اپنے والد شاہ سلمان کی کرسی سنبھالنے والے ہیں نے پینتالیس کروڑ امریکی ڈالرز میں ایک نایاب تصویر کا سودا کیا ہے۔ اقتدار کے جلد از جلد حصول اور اِس تصویر کی خریداری نے محمد بن سلمان کی خودبین شخصیت کو امتِ مسلمہ پر آشکار کر دیا ہے۔ محمد بن سلمان کے پاس ریاستی امورِ دفاع کی کمان ہے اور انھوں نے گذشتہ دو برس کے دوران ملکی امور میں چند اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم اقدام "اسلامی عسکری اتحاد” کا قیام ہے۔ حال ہی میں اس اتحاد کی افتتاحی تقریب ہوئی جس میں اس کے سربراہ نے اتحاد کے اغراض و اہداف پر روشنی ڈالی۔ 2015 میں جب اسلامی عسکری اتحاد کے قیام کا اعلان ہوا تو کہا گیا کہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک کا دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہونا اور اس کے خاتمہ کے لئے مشترکہ عسکری جدوجہد کرنا ہے۔ اگر حقیقی بنیاد پر پرکھا جائے تو یہ اعلان خود اس اتحاد کے بانی ملک پر سوالیہ نشان ہے۔

آل سعود اور یمن جنگ

آل سعود اور یمن جنگ

Posted by Iblagh News on Dienstag, 14. November 2017

سعودی عرب سن 2015 سے یمن جیسے غریب ترین ملک پر کھلی جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے اور آج اس کی زمینی و فضائی ناکہ بندی کے نتیجہ میں لاکھوں یمنی عوام خوراک و ادویات کی کمی کا شکار ہیں۔ یمنی عوام جو گذشتہ عشرے کے اوائل سے مقامی بدعنوان حکمرانوں کے خلاف سیاسی جدوجہد میں مصروف ہیں ان حکمرانوں کا تحفظ سعودی عرب نے اولین فرض قرار دیتے ہوئے یمن پر فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ آج یمن مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے اور وہاں بمباری کے لئے کچھ نہیں بچا سوائے غریب عوام کے۔ اقوام متحدہ نے یمن میں قحط کی صورتحال پر بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا ہے لیکن غیر تو غیر اپنوں کو بھی پرواہ نہیں کہ یمنی عوام پر ظلم ہو رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جو کسی بھی کمزور کو جارحیت اور طاقت کے بل بوتے پر کچلنے پر یقین رکھتا ہو اس کا دہشت گردی کے خلاف اتحاد بنانا ایک احمقانہ حرکت کے سوا کچھ نہیں۔

بن سلمان کا ولی عہد کون ؟ شاہ سلمان نے اپنی وصیت میں بتا دیا

Posted by Iblagh News on Donnerstag, 26. Oktober 2017

اب آگے چلتے ہیں اور نظر ڈالتے ہیں کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اقتدار کے حصول کے لئے کتنی چابک دستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب شاہ سلمان نے اپنے سپوت محمد بن سلمان کو اپنی حیات میں ہی ریاست کی باگ ڈور سونپ دینے کا فیصلہ کیا تو خاندانِ سعود میں بھونچال سا آگیا۔ محمد بن سلمان نے دیگر شہزادوں کی بغاوت سے فوری طور پر نمٹنے کے لئے ان کو قید میں ڈال دیا ہے۔ گو کہ یہ سب طاقت اور اقتدار کی سرمستی ہے لیکن ایسی حکومت کی بنیاد بہت کھوکھلی اور کمزور ہوتی ہے۔ آلِ سعود اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ یہی خودسر شہزادہ ہے۔

’’آل سعود حکومت کی نابودی کے اسباب‘‘قطر بحران کے نتائج آل سعود کی بادشاہت کا شیرازہ بکھیرنے کا سبب بن سکتے ہیں:یہودی تجزیاتی معلوماتی مرکز کی رپورٹ

Posted by Iblagh News on Sonntag, 29. Oktober 2017

محمد بن سلمان کو شاید اندازہ نہیں کہ مسلم دنیا کے مرکز (سعودی عرب) کے شہزادے کی غیر دانشمندی اور عیاشی سعودی عرب کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے۔ تیل اور کعبہ کی کمائی سے حاصل ہونے والی دولت کو ایک تصویر پر لُٹا دینا عیاشی نہیں تو اور کیا ہے؟ اب جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا نیا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا ہے تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کس موقف کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ان کا اسلامی عسکری اتحاد تو فی الوقت خاموش ہے اور اس کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیرمنصفانہ فیصلہ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ (نہیں معلوم کہ اس "عسکری اتحاد” کے نزدیک دہشت گردی کی کیا تعریف ہے اور اس کی فہرست میں امریکہ بطور دہشت گرد ملک شامل ہے یا نہیں) سعودی عرب کے امریکہ سے ماضی و حال کے تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسی سال دورہ سعودی عرب کے دوران ٹرمپ اور شاہ سلمان کا تلواروں پر مشترکہ رقص ہمیں یاد رہے گا۔

آل سعود خاندان میں قتل و غارت شروع

Posted by Iblagh News on Sonntag, 5. November 2017

تاریخ رقم ہو رہی ہے اور مورخ لکھ رہا ہے کہ آلِ سعود نے مومن کے ہتھیار کو نصارٰی کے ساتھ رقص کی نذر کر دیا۔ کاش شہزادہ محمد بن سلمان پینتالیس کروڑ امریکی ڈالر کی خطیر رقم روہنگیا۔ یمنی یا غریب افریقی مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتے! آج اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا اجلاس ترکی میں ہونے جارہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محمد بن سلمان کا نمائندہ وہاں کیا موقف اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ سعودی عرب کی اتحادی عرب ریاستوں کا متوقع موقف بھی کم اہم نہیں۔ یہ عرب ریاستیں امریکہ کی بھی اتحادی ہیں اور اس کے ساتھ ان کے عسکری معاہدے بھی ہیں جن کے تحت امریکہ ان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف جنگی حکمت عملی میں استعمال کرتا ہے۔

ہمارے ایک دفاعی تجزیہ نگار کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے دارالحکومت کی تبدیلی کا اعلان سعودی عرب اور مصر کو اعتماد میں لے کر کیا ہے۔ یہ امکان کتنا قوی ہے بہت جلد واضح ہو جائے گا لیکن "سعودی عرب بطور سنی مسلمانوں کے امام” کی حیثیت تقریباً کھو چکا ہے۔ فلسطین کے تازہ ترین قضیہ نے سعودی عرب کو ایک نئی مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے عیاش حکمرانوں کا ستارہ گردش میں ہے۔ اگر آلِ سعود نے یہود و نصارٰی کی صحبت کو ترک نہ کیا تو سعودی عرب کے امتِ مسلمہ کے ساتھ سفارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پی ٹی آئی کی ضمنی الیکشن میں شکست، کیا یہ پچھلے 50 دن کے غلط فیصلے تھے؟

عمران خان جن دو حلقوں سے جیتے تھے پی ٹی آئی اُن حلقوں سے بھی ...