جمعرات , 19 جولائی 2018

مصنوعی دانتوں کا بڑا نقصان سامنے آگیا

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) کنگز کالج لندن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مصنوعی بتیسی کے استعمال کی وجہ سے مخصوص غذاﺅں کا استعمال نہ کرنا اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس وجہ سے اہم غذائی عناصر جسم کا حصہ نہیں بن پاتے۔تحقیق کے مطابق اگرچہ مصنوعی بتیسی چبانے کے عمل کو بہتر کردیتی ہے مگر اس کے چبانے کی طاقت قدرتی دانتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کم ہوتی ہے۔تحقیق کے مطابق بیس سے کم قدرتی دانتوں والے افراد، چاہے مصنوعی بتیسی استعمال کریں یا نہ کریں، وہ صحت بخش اجزاءکا استعمال کم کرتے ہیں، جس کی وجہ مخصوص،

غذاﺅں کو صحیح طرح چبانے میں ناکامی ہوتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اڈھیر عمر یا معمر افراد کو نہ صرف اپنے چبانے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ کھانے کو موثر طریقے سے بھی چبانا چاہیے، تاکہ مسلز کے حجم کے لیے ضروری اجزاءجسم کا حصہ بن سکیں اور جوڑوں کے امراض کا خطرہ کم ہوسکے۔انہوں نے بتایا کہ منہ کی صحت اور ہڈیوں کی کمزوری کے درمیان تعلق پر پہلے زیادہ کام نہیں کیا گیا۔تحقیق کے مطابق مصنوعی دانتوں کا استعمال مسلز اور ہڈیوں کی کمزوری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران پچاس سال یا اس سے زائد عمر کے 18 سو افراد کی صحت کا جائزہ لیا گیا جو مصنوعی دانتوں کا استعمال کرتے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

16 نشانیاں جو میٹھے سے دور رہنے کا اشارہ دیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بیشتر افراد کا خیال ہے کہ ذیابیطس ہی بلڈ شوگر کی ...