جمعرات , 19 جولائی 2018

روس اور ترکی کے صدور کی ملاقات

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے شام اور مصر کے صدور سے ملاقات کے بعد ترکی میں صدر اردوغان سے ملاقات اور گفتگو کی ۔روس کےصدر پوتین نے ترک صدر اردوغان کے ساتھ شام کے بحران کو حل کرنے کے سلسلے میں گفتگو اور تبادلہ خیال کیا ۔

اس ملاقات میں ترک صدررجب طیب اردوغان نےایک بار پھر امریکا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس پر قبضے کا سوچنے والوں کو درختوں کے پیچھے بھی پناہ نہیں ملے گی جبکہ اوآئی سی کا اجلاس اہم موڑ ثابت ہو گا۔اس موقع پرروسی صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے سے مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو جائےگا۔

اس سے قبل روس کے صدرنے شام کے صدر سے ملاقات کی تھی جس میں روسی صدر نے شام سے روسی فوج کے انخلاء کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں وہابی دہشت گردوں کو سراٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شام کے صدر بشار اسد نے تاکید کی کہ شامی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس کی فوجی حمایت کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

اس ملاقات میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ شام سے بڑی تعداد میں روسی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا، کہا کہ روس اور شام کی افواج دو سال کے اندر اعلی فوجی توانائی کے حامل بین الاقوامی دہشت گردوں کو شکست دینے میں کامیاب رہی ہیں اور اگر دہشت گردوں نے پھر سر اٹھایا تو روس ان پر ایسی کاری ضرب لگائے گا کہ جس کا انھوں نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔

روسی صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شام میں طرطوس اور حمیمیم میں روس کے دو فوجی اڈے مستقل طور پر موجود رہیں گے، امید ظاہر کی کہ ترکی اور ایران کے تعاون سے، جو دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے میں شامل رہے ہیں، شام میں امن کا عمل اور لوگوں کی معمول کی زندگی بحال ہو جائے گی اور قیام امن کا عمل شروع ہو جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ انتخابات میں روسی مداخلت پر موقف سے پھر گئے

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسنکی میں اپنے روسی ...