جمعرات , 19 جولائی 2018

گرفتار شہزادوں کے معاملے میں بن سلمان پھنستے جارہے ہیں

(تسنیم خیالی)
گزشتہ ہفتے فرانسیسی صدر میکرون کے ایک خاص نمائندے نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے سعودی عرب میں متعین فرانسیسی سفیر کے ہمراہ ریٹزکارلٹن ہوٹل میں قید سعودی شہزادوں سے ملاقات کی تھی،باوثوق ذرائع کی اطلاعات کے مطابق فرانسیسی نمائندہ اور سفیر نے ہوٹل میں متعدد شہزادوں سے ملاقات کی تھی۔

فرانسیسی وفد کی کوشش تھی کہ ہر شہزادے سے علیحدہ علیحدہ ملاقات ہو مگر بن سلمان نے ایسا نہیں ہونے دیا جس کی وجہ سے شہزادوں سے ایک ہی وقت میں ملاقات ہوئی اور اس ملاقات میں متعدد سعودی عہدیدار بھی موجود تھے۔

علاوہ ازیں فرانسیسیوں نے بھر پور کوشش کی تھی کہ وہ شہزادہ الولید بن طلال اور رہائی پانے والے شہزادہ متعب بن عبداللہ سے ملاقات کریں،البتہ سعودی حکام نے ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔

اب صورتحال یہ ہے کہ شہزادہ الولید بن طلال دیگر شہزادوں کی قیادت کرتے ہوئے بن سلمان کے ساتھ اپنی رہائی کیلئے ڈیل کرنے کو تیار نہیں،الولید بن طلال کا مطالبہ ہے کہ ان پر باقاعدہ طور پر مقدمہ چلایا جائے اور مقدمے کی سماعت سب کے سامنے ہو تاکہ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ الولید نے اتنی بڑی دولت کس طرح بنائی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ جو شخص اپنی رہائی کیلئے بن سلمان سے ڈیل کرتا ہے اس کی دولت کا ایک بڑا حصہ ایک سرکاری بینک اکاؤنٹ میں منتقل کردیا جاتا ہیں جو شاہ سلمان کے حکم پر بننے والی انسداد بدعنوانی وکرپشن کی کمیٹی کے نام ہے۔اس کمیٹی کے سربراہ بن سلمان ہیں اور کمیٹی کے اکاؤنٹ میں جمع ہونے والی دولت بن سلمان کے کنٹرول میں ہوتی ہے ۔یہاں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماجرا کیا ہے؟

الولید بن طلال اور ان کے ساتھی شہزادوں نے حقیقت میں بن سلمان کو انتہائی مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔اس وقت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نہ ادھر کے اور نہ ہی ادھر کے رہ گئے ہیں،ایک طرف وہ ڈیل کو مسترد کرنے والے شہزادوں کو عدالت نہیں لے جانا چاہے کیونکہ یہ شہزادے بری ہوجائیں گے،جبکہ دوسری جانب وہ انہیں تب تک نہیں رہا کریں گے جب تہ کو اپنی رہائی کے بدلے اپنی دولت میں سے کچھ دے نہیں دیتے۔

تیسری بات یہ ہے کہ بن سلمان مذکورہ شہزادوں کو لمبی مدت کیلئے قید میں نہیں رکھ سکتا کیوں کہ اس طرح حکمران خاندان آل سعود میں بہت بڑی پھوٹ پڑ جائے گی جو کہ پہلے سے ہی بن سلمان کے اقدامات کی وجہ سے اختلافات کی زد میں آئی ہوئی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔لہٰذا بن سلمان نے جو کچھ کرنا ہے اسے جلدی کرنا ہوگا وگرنہ نتیجہ اس کے لیے بہت ہی نقصان دہ ثابت ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

موصل میں خستہ حال نظام صحت

موصل میں خستہ حال نظام صحت